ایک بھائی نے مخاطب کیا کہ میاں مزے کرو،اب توان کا چندہ بڑھ جائے گا، کمانے کا اچھا طریقہ سوچا ہے ۔
میں نے پیار سے کہا کہ ہاں بھائی ایسا وہ کہہ رہے تھے کہ موجودہ چندہ سسٹم سے اللہ والوں کا کچھ بھلا نہیں ہورہا ہے، اور یہ بھی کہ اب تو انفاق فی سبیل للہ کا کلچر عام کرانا ہی پڑے گا، تاکہ ایمان والے اللہ کا دیا خود اپنے ہاتھوں صرف اللہ کی رضا کے لئے بنا تفریق مسلک ومذہب فلاح انسانیت کے کاموں پرخرچ کریں۔
انہوں نے آنکھیں پھاڑحیرت سےسوال کیا کہ یہ انفاق فی سبیل للہ کیا ہے؟
میں نے کہا کہ بھائی یہ تو مجھے بھی نہیں پتا،ہاں مگر اللہ والوں سے پوچھ کر بتا دوں گا،ابھی تو وہ کہہ رہے ہیں کہ دور جید کے تقاضوں کے مطابق خرچ کی مدوں کو ترتیب دینے کا کام چل رہا ہے، اور اسے تمام دنیا میں پھیلی اللہ کی مخلوقات کے حقوق کو سامنے رکھ کر تیار کیا جا رہا ہے۔
ان کی آنکھیں باہر نکل آئیں، جستجو سے پوچھنے لگے کہ بھائی یہ اللہ والے ملتے کہاں ہیں؟
میں نے کہا کہ اس کے لئے میں آپ کو ایک عمل بتاتا ہوں کرلو،اگر اللہ نے چاہا تو وہ دیکھ جائیں گے، اور نہ دیکھیں تو مجھ سے کوئی سوال مت کرنا بس نماز توبہ ذکرو استغفار اور انفاق فی سبیل للہ کا کلچر عام کرنے میں جٹ جانا، کیونکہ اس کے باوجود بھی نہ دیکھنا اچھی بات کی علامت نہیں ہے۔
اب تو ان کی جستجومزیدبڑھ گئی تو مجھے بتانا ہی پڑا کہ
کچھ نہیں بس چھوٹا سا عمل ہے پر کرنا بہت بھاری ہے، اپنے گلے کو اللہ کے ذکر سے تررکھو اورروزآنہ اس کے راستے میں کچھ مال خرچ کیا کرو،اللہ والے نظرآنے لگیں گے،پتہ نہیں انہیں اللہ والےنظرآئے یا نہیں لیکن مجھ کو وہ نظر نہیں آتے،نہ جانے کیوں تب سے مجھے دیکھ راستہ بدل لیتے ہیں۔