بشریٰ بی بی کا بیان ہے کہ ان کے سابقہ شوہر نے زبانی طلاق ثلاثہ اپریل/2017ء میں دے دی تھی، اپریل سے اگست/2017ء تک انہوں نے عدت کا دورانیہ گزارا، اگست/2017ء میں وہ لاہور اپنی والدہ کے گھر منتقل ہوگئیں اور یکم/جنوری/2018ء کو عمران خان سے ان کا ایک ہی نکاح ہوا ہے، ان کے سابقہ شوہر کے مطابق انہوں نے 14/نومبر/2017ء کو تنگ آکر بشریٰ بی بی کو طلاق دی تھی کیوں کہ ان کے ناجائز تعلقات عمران خان سے تھے، ان کے سابقہ شوہر نے ان پر جو الزام لگایا ہے وہ لعان کے حکم میں آتا ہے، رہی تین طلاق دینے کی بات تو لعان کے معاملے میں طلاق ثلاثہ کا ہی حکم لگے گا چاہے انہوں نے ایک ہی طلاق کیوں دی ہو، اور مزید یہ کہ بشریٰ بی بی اپنے سابقہ شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوچکی ہیں، اب باری آتی ہے مفتی سعید کے حلف نامے کی تو اس کے مطابق دورانِ عدت نکاح کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری/2018ء میں دوبارہ نکاح کر لیا، تو یہ سمجھ لیں کہ اس طرح کے حلف ناموں کی کوئی حقیقیت نہیں ہے کیوں کی مفتیوں اور مولویوں کے جھوٹے اور فراڈ حلف ناموں کاسابقہ مجھے بھی پڑچکا ہے، زبانی طلاق اہل سنت میں واقع ہوجاتی ہے و اس معاملے میں عورت کی بیان کردہ تاریخ طلاق درست مانی جائے گی اور عدت کے احکام اسی کے مطابق لگیں گے، اگر انہوں نے دوبارہ نکاح کیا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے، اگر بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر ان پر ناجائز تعلقات کا شک کرتے تھے اور اس لئے انہوں نے اپنے سابقہ شوہر سے خلع یاطلاق کی مانگ کی تھی یا اسی وجہ سے قبل طلاق ان سے عدت کی مدت تک یا اس سے زیادہ دنوں سے علاحدگی اختیار کر رکھی تھی جس سے تنگ آکر ان کے سابقہ شوہر نے انہیں طلاق دی ہے تو اس پر خلع کا حکم لگے گا اور خلع میں مدت عدت صرف ایک حیض ہے، یعنی اس صورتحال میں استبراء حمل کافی ہے، اگر اس معاملے کا فیصلہ خلیفہ یا امام وقت کی عدالت میں ہو تو مختلف احادیث اور اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی روشنی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح بالکل جائز اور پاکستانی عدلیہ کا فیصلہ بالکل باطل ہے، نیز اس معاملے میں ان کے سابقہ شوہر کا طلاق نامہ یا کسی مفتی کا حلف نامہ جھوٹ اور الزام مانا جائے گا، اس لئے ان دونوں پر وہی حد نافذ کی جائے گی جو کسی مرد یا خاتون پر زنا کا الزام لگانے والے پرقائم کی جاتی ہے، معاملہ دین اور شریعت کا ہے اس لئے جب مسلک کی آڑ میں جھوٹ کی آمیزش کے ساتھ سیاسی مقاصد کے لئے دین و شریعت سے کھلواڑ کیا جائے گا تو میں سرحدوں کے پرواہ کئے بنا اس پر سخت ترین گرفت ضرور کروں گا۔