مسلمانوں کی چودہ سوسالہ تاریخ میں شاید اس سے زیادہ نازک وقت نہیں آیا ہے جتنا کہ بیسویں صدی میں آیا اوراکیسویں میں بھی بدستورقائم ہے،عالمی سطح پرخارجی مداخلت کے نتیجے میں پیدا شدہ مسائل سے امت مسلمہ کوجن مشکلات کا سامنا ہے اس سے کہیں زیادہ داخلی انتشارسے ہے کیونکہ یہ ہمیں اس راہ پرچلنے سے روک رہا ہے جس میں ہماری کامیابی وکامرانی طے ہے یعنیٰ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت وفرمابرداری نیز وَاُلِی اَلْاَمْرِمِنْکُمْ کے حکم میں آنے والوں کی پیروی،تلخ حقیقت یہ ہے کہ امت مختلف نظریات کی بنیادپر اتنے فرقوں وگروہوں میں بٹ چکی ہے کہ شمار کرنابھی ایک جانفشانی کا کام ہے،جوجتنا جان گیابس اتنے کوہی مکمل دین سمجھنے لگااورآپس میں دست وگریباں ہے، نیز کفروالحادکے فتوے لگانے کا اختیارتواتنابے بس ہو گیا ہے کہ ہر کسی کے ہاتھ کاکھلونا ہے،فقہ کی بنیادپر قائم مسالک تک تو بات مفید رہی مگراب حالت یہ ہے کہ ہرمسلک کی کئی شاخیں ہیں پھران کی بھی پھران کی بھی غرض یہ کہ ہماری مثال بھی’’ مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَہُمْ وَکَانُوْاشِیَعًا،کُلُّ حِزْبِمْ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ۔ الروم۳۲ ترجمہ: جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اورخود بھی گروہ گروہ ہوگئے،ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے‘‘سے الگ نہیں، ہرفرقہ خود کوحق پرسمجھتا ہے باقی سب کوکبھی کھلم کھلا توکبھی ڈھکے چھپے الفاظ واندازمیں باطل قراردیتاہے۔
یہ فکرمندی وتشویش کی بات نہیں کہ کیا ہماری حالت اس دھتکاری ہوئی قوم جیسی تونہیں ہوگئی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’فَتَقَطَّعُوْٓااَمْرَہُمْ بَیْنَھُمْ زُبُرًا،کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ۔المؤمنون۵۳ ترجمہ:پھر انہوں نے خود ہی اپنے امر(دین)کے ٹکڑے ٹکڑے کرلئے،ہرگروہ جو اس کے پاس ہے اس پر اترا رہا ہے‘‘اگرواقعی ہماری حالت ایسی ہی ہے اورہم اسے درست کرنے کے قابل نہیں رہ گئے تو جان لیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے’’وَلِکُلِّ اُمَّۃٍاَجَلُٗ،فَاِذَاجَآءَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَایَسْتَقْدِمُوْنَ۔الاعراف ۳۴ ترجمہ: ہرگروہ کے لئے ایک میعادمعین ہے سوجس وقت ان کی میعادمعین آجائے گی اس وقت ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے‘‘ یعنیٰ گروہ بندی کامیابی کے حصول کا طریقہ نہیں بلکہ ہرگروہ کی کامیابی کے درجات متعین ہیں پھرتباہی ان کا مقدرہے مگرقوموں کی نہیں کیونکہ قومیں آگے بڑھتی ہیں مگر ہمیشہ باہمی گروہ بندی کے نتیجے میں ہی تباہ وبربادہوئی ہیں، بات دراصل یہ ہے کہ قرآن نے ہمیں گزشتہ امتوں کی بربادی کے وجوہات اور واقعات اس لئے بتلائے ہیں تاکہ ان سے عبرت حاصل کی جائے نہ کہ اس بات پرڈھیٹ ہواجائے کہ نہیں ہم جو کررہے ہیں وہی صحیح ہے،اختلاف رائے بھی درست ہے مگر اس حد تک کہ اس کامقصد اصلاح ہواوراس کااثراجتماعی معاملات پرنہ پڑے مگرافسوس کہ ہم میں یہ انتشار کی صورت اختیارکرچکاہے اورہم طرح طرح کے دلائل کے ساتھ اسے حق بجانب قراردینے پرمُصرہیں، کیاواقعی ہمیں اتنی سمجھ نہیں رہ گئی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان سمجھ سکیں کہ’’اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْادِیْنَہُمْ وَکَانُوْاشِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْ ءٍ،اِنَّمَآ اَمْرُھُمْ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّءُھُمْ بِمَا کَانُوْایَفْعَلُوْنَ۔الانعام۱۵۹ ترجمہ: جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اورہوگئے بہت سے فرقے آپ کو ان سے کوئی سروکار نہیں ان کا کام اللہ ہی کے حوالے ہے پھر وہی جتلائے گاان کو جو کچھ وہ کرتے تھے،‘‘سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم ان حالات ( جو ہم پر عذاب کی طرح مسلط ہیں )سے کچھ نصیحت حاصل کرتے ہیں یااللہ کے جتلانے یعنیٰ کسی مزیدسخت فیصلے کے منتظر ہیں یاقوم یونسؑ سے بھی گئے گزرے ہیں جس نے کہ چند نشانیاں دیکھ کرتوبہ و اصلاح کرلی۔
یہ نہ بھولیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے،قُلْ ھُوَالْقَادِرُ عَلآی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیُکُمُ عَذَابًامِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْمِنْ تَحُتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْیَلْبِسَکُمْ شِیَعًاوَّیُذِیْقَ بَعُضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ۔اُنْظُرْکَیْفَ نُصُرِّفُ الُاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَھُوْنَ۔الانعام۔۶۳ یعنیٰ کہو کہ وہ اس پر بھی قادر ہے کہ بھیج دے تم پر کوئی ہولناک عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے یا وہ ٹکرا دے تم لوگوں کو آپس میں مختلف گروہ بنا کر اورچکھا دے تم کو آپس میں ایک دوسرے کی لڑائی کا مزہ دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں دیکھاتے ہیں تاکہ لوگ سمجھ سکیں،ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہماراباہمی اختلاف ہم پراللہ تبارک وتعالیٰ کا مسلط کردہ عذاب ہے،ہمیں اجتماعیت کا شعوراپنے اندربیدار کرناہی ہوگا ورنہ کسی بھی سطح پرہماری آوازکی کوئی اہمیت نہ ہوگی کیونکہ اجتماعیت کے بغیر ہم صرف گروہ ہیں امت یا قوم ہرگزنہیں۔