کل کا مورخ جب قلم اٹھائے گا تو اس کے سامنے بیسویں اور اکیسویں صدی کی صورت حال اتنی عجیب وغریب ہوگی کی وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ اس دور کی سب سے موثر ایجاد "فریبِ صالح" تھی جس میں دنیا کی اکثریت گرفتار ہوگئی، یہاں تک کہ بڑے پیمانے پر انسانوں پر انسان ظلم کرتا اورجب مظلوم اپنا دفاع کرتا تو اسے دہشت گرد وظالم قرار دے کر ظلم کی چکی میں مزیدپیسا جاتا اور"فریبِ صالح" میں گرفتار اقوام عالم ظالم کے ہی شانہ بہ شانہ کھڑی ہوتیں اور یہ سمجھتیں کہ ظالم کو سزامل رہی ہے۔