مغربی میڈیا کا پروپیگنڈہ ہے کہ برکس کے بانی ممالک بھارت اور چین میں اتنے شدید اختلافات ہیں کہ یہ کسی بھی حال سے ایک بات پر اکھٹے نہیں ہوسکتے، اسی طرح اس میں شامل نئے ممالک مصر اور ایتھوپیا کے درمیان اختلافات ہیں، لیکن حقیقت برعکس یہ ہے کہ یورپی یونین میں شامل ممالک آپس میں ایسے دشمن ہیں کہ جنہوں نے دنیا کو دو عظیم جنگوں کا تحفہ دیا ہے اور صدیوں سے غذا معدانیات تیل گیس اور قوت محنت سے مالامال ایشیائی و افریقی ممالک کومسلسل تاراج کر اور لوٹ لوٹ کر اپنی جبیں بھر رہے ہیں، برطانیہ گرچہ 2020ء میں یورپی یونین سے علاحدگی اختیار کرچکا ہے مگر جی سیوین میں شامل ہے اور یورپی یونین جی سیون کا حصہ ہے، برطانیہ اسپین کے مابین جبل الٹر کو لے کر جنگیں ہوئیں اور ان دونوں کے درمیان آج بھی شدید اختلافات موجود ہیں، جی سیون میں برطانیہ امریکہ شامل ہیں لیکن خود امریکہ کی جنگ آزادی برطانیہ کے خلاف لڑی گئی اور ان کے درمیان رنگ و نسل کے اختلافات آج تک قائم ہیں، آسٹریلیا یوروپی یونین میں شامل ہے اور جی سیون کے تحت برطانیہ سے بالواسطہ منسلک ہے نیز ان دونوں کے درمیان موجود شدید اختلاف کا مظاہرہ ابھی چند روز قبل اس وقت دیکھنے کو ملا جب برطانوی شہنشاہ چارلس آسٹریلیا کے دورے پر تھے، جی سیوین میں امریکہ کے ساتھ جاپان موجود ہے جس پر امریکہ نے اب تک کا سب سے پہلا اور آخری ایٹمی بم استعمال کیا ہے، کیا ہیروشیما اور ناگاساکی ایسے معولی واقعات ہیں جنہیں بھلا دیا جائے گا؟ برطانیہ امریکہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے دشمن رہے لیکن اب جرمنی بہ یک وقت یوروپی یونین اور جی سیون کا حصہ ہے، جب آپس میں اتنی سخت دشمنی رکھنے والے یوروپی ممالک اور امریکی مفاد کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آسکتے ہیں تو کیا ایشیائی ممالک نہیں آسکتے؟ دنیا کے سب سے تجربہ کار عالمی رہنما ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی الحسینی نے بالکل درست کہا ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک مشرق وسطیٰ سے دفع ہوجائیں، تاکہ خطے کے ممالک صلح و سلامتی کے ساتھ اپنا اور خطے کا انتظام خود سنبھال سکیں اور امن سے رہ سکیں۔
گرچہ جی سیون نے جی ٹوینٹی قائم کر کے ترقی پزیر ممالک کو بچوں کی طرح لالی پاپ پکڑا کر پھسلانا چاہا تھا لیکن انہوں نے کچھ ہی عرصہ بعد اس سے مخالف راستہ اپنا کر برکس کا قیام کرتے ہوئے "یوریکہ" یعنیٰ یوروپ امریکہ کی ایشیاء میں معاشی سیاسی اور عسکری بالادستی کو منظم و ٹھوس انداز میں چیلنج کردیا اور برکس نے اپنی حالیہ نشست 2024ء کے دوران ڈالر یورو کے مقابلے برکس پے کا اعلان کرکے یوریکہ پر زبردست ضرب لگادی ہے، کسی موقع پر امریکہ نے برکس کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا تھا کہ وہ چاہیں تو ایران کو بھی ساتھ لے لیں اور آج روس چین ایران اتحاد نے عسکری محاذ کے ساتھ ڈالر اور یورو کی بالادستی پر ایک ساتھ جو چوٹ لگائی ہے اس کا درد سہنے کی طاقت یوروپ امریکہ میں ہرگز نہیں ہے اس لئے ان کی مجبوری ہے کہ یہ جنگ کے راستے پر چلیں، اگر ایشیائی ممالک واقعی یوریکہ کی معاشی اور سیاسی غلامی سے مکمل آزادی و خودمختاری چاہتے ہیں تو انہیں یورو ڈالر پاؤنڈ وغیرہ مکمل ترک کرکے اپنی نئے نظام ادائیگی برکس پے کو بہت تیزی سے عوامی سطح تک نافذالعمل کرنا ہوگا، ترقی یافتہ ممالک خصوصاً برطانیہ و امریکہ خود کو ایک ایسی جنگ میں جھونک چکے ہیں جہاں سے وہ اپنے آپ کو مع اسرائیل اب ہرگز نہیں نکال سکیں گے، زرخیز ایشیائی ممالک اور اس کی عوام دفاعی صلاحیت کے ساتھ زراعت باغبانی اور مویشی پالن وغیرہ پر جتنا محنت کرسکتے ہوں کرے جو کہ انسان کے لئے اصل دولت اور نسل انسانی کی بقاء کی ضمانت ہے، علم معاشیات کے مطابق تو حقیقی دولت پیداوار اور حیات ہی ہیں۔