ڈیموکریٹک امیدوار جوبائڈن کا انتخاب سے اعلان دستبرداری کرتے ہوئے کملا ہیرس کے حق میں صدارتی امیدوار کی حیثیت سے توثیق کرنا اس طرح ہے گویا رپبلیکن امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی کھلی جیت کا اعلان کردیا گیا ہو، امریکن تاریخ میں یہ 47/ویں صدر کا انتخاب ہے لیکن حقوق نسواں کا سب سے بڑا والا علمبردار ہونے کے باوجود پہلے صدر جارج واشنگٹن سے لے کر موجودہ صدر جوبائڈن تک کبھی بھی کوئی عورت امریکہ کی صدر نہیں ہوئی ہے، صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والی غالباً پہلی خاتون ہیلری کلنٹن ہیں جو ٹرمپ کے مد مقابل آئی تھیں، الیکشن 2016ء میں ٹرمپ کے مقابلے 28,68,686.00 عوامی ووٹ زیادہ رکھنے کے باوجود الیکٹورل کالج کے ووٹ کے ذریعہ ہیلری کلنٹن جیتی ہوئی بازی ہار گئی تھیں، اس الیکشن میں ہیلری کو 48.2% جبکہ ٹرمپ کو 46.1% ووٹ ملے تھے، واضح رہے کہ امریکی عدالتوں میں الیکٹورل کالج کے خلاف سب سے زیادہ درخواستیں آج بھی ٹھنڈے بستے میں پڑی ہوئی ہیں، مغرب ایرانی شوری نگہبان پر تنقید کرتا ہے لیکن امریکی انتخاب میں الیکٹورل کالج کے 538 ووٹ یہ طے کرتے ہیں کہ امریکی عوام کا اگلا صدر کون ہوگا، یہ لوگ عوامی ووٹ کے نتائج آجانے کے بعد ووٹ ڈالتے ہیں کیوں کہ الیکٹورل کالج کو اگر یہ لگتا ہے کہ عوام اپنا درست صدر نہیں چن رہی ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ عوامی ووٹ سے جیتے ہوئے صدر کے خلاف ووٹ ڈال کر دوسرے کو صدر بنا دیں، 2016ء کے علاوہ 2000ء الیکشن میں ریپبلیکن کے جارج واکر بش ہارنے کے باوجود بھی الیکٹورل ووٹ سے جیت گئے تھے، اس سے قبل رپبلیکن پارٹی ہی کے بینجمن ہیریسن 1888ء کے انتخابات میں عوامی ووٹ سے ہار کے باوجود الیکٹورل ووٹ سے جیتے تھے، اسی طرح 1876ء کے چناؤ میں ریپبلیکن ہی کے ردرفورڈ بی ہیز نے بھی الیکٹورل ووٹ لے کر جیت حاصل کی تھی، یعنیٰ امریکن عوام کی رائے کے خلاف الیکٹورل ووٹ سے جیت کا فائدہ صرف ریپبلیکن کو ملا ہے اور ڈیموکریٹک کو کبھی نہیں ملا ہے، اگر کملا ہیرس انتخابی دوڑ میں برقرار رہتی ہیں تو ٹرمپ کو دوسری بار بھی کسی عورت کے بجائے مرد کو ہراکر اقتدار میں آنا نصیب نہ ہوگا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ میں نسوانی سونامی آتی ہے اور کملا ہیرس صدر بنتی ہیں یا پھر ٹرمپ دوبارہ بھی الیکٹورل ووٹ کے بھروسے ہیں جبکہ اس بار اس کے امکان کم لگ رہے ہیں کہ وہ الیکٹورل کے سہارے اقتدار تک آئیں، امریکہ میں نظام جمہوریت کے آغاز سے الیکٹورل کالج سسٹم نافذ العمل ہے اور ہمیشہ تنقید کی زد میں رہا ہے۔