ایک آنکھ سے دیکھنے والوں کوایک طرف ہی نظر آتاہے، الحمدللہ اسلام کسی پرجبر یا چیونٹی کے سر سے بھی کم کے برابر بھی ناانصافی پسندنہیں کرتا، یوروپ پرست طبقہ بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کافی صلاحیت مہارت رکھتاہے مگر ہمیشہ منھ کی کھاتا ہے،اصل بات صرف اتنی ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ جسمانی تعلق قائم ہونے کہ تو سند ہے مگراب تک اس بات کی نہیں ہے کہ یہ تعلق جبراً بنایا گیا ہے یا مرضی سے، لہذا اس پر کوئی یک طرفہ قانون صرف اتنے کو ہی سامنے رکھ کر بنانا مکمل انصاف نہیں لگتا، کیا سائنسدانوں کے پاس ایسا کوئی نظام ہے جواس بات کی وضاحت کردے کہ ایسا جبراً کیا گیا ہے یا مرضی سے،اگرانہیں تو سائنس ابھی بھی نامکمل اور اس پر مزید تحقیق و تجربات کی ضرورت ہے۔
رہی بات اسلامی تعلیمات و نظریے کی تو قرآن نے حضرت یوسفؑ کی قمیص کا اگلا اور پچھلا کرتے کا دامن پھٹا ہونے کے فرق پر ان کی معصومت کو قبول کر کے ان کی پاکدامنی کی تصدیق کی ہے، جب عورت کومردوں کے برابرکے حقوق حاصل ہیں توکیا یہ ممکن نہیں کہ عورت کسی یک طرفہ قانون کا غلط استعمال کرنے لگے یا اس کا غلط استعمال کسی عورت کے ذریعہ کوئی تیسرا اپنے مفاد کے لئےکرلے۔واللہ اعلم