انگلینڈ کے بادشاہ "جان اوّل" نے 1215ء میں "میگنا کارٹا" نامی دستاویز پر دستخط کیے،جس کے تحت عوام نے اپنے ہی بادشاہ کو اس بات پر مجبور کیا کہ بادشاہ تحریری طور پر مانے کہ وہ قانون سے بالاتر نہیں ہے، یورپی دنیا اسے انسانی تاریخ کا پہلاتحریری معاہدہ قرار دے کر موجودہ دَور کے آئینی ڈھانچوں کا آغاز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے،حالانکہ صدیوں کے وقفے کےبعد برطانیہ میں"بل آف رائٹس" 1689ء میں اور "پارلیمنٹ ایکٹ"1911ء میں بنایا گیا،امریکہ کا "کانسٹی ٹیوشنل کنونشن"بھی 1787ء میں تشکیل پایا تھا۔
یہ مسلمانوں کی بہت بڑی غلطی ہے کہ وہ دنیا کو یہ نہیں بتاتے کہ جنگ و جدل،قتل و دشمنی سے بھرے عرب ملک میں امن،خوشحالی اور ترقی کے لیے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کا سب سے پہلا سیکولر تحریری معاہدہ 622ء میں مدینہ کے لوگوں کے درمیان کرایا تھا، یعنیٰ"میگنا کارٹا" سے 593/سال پہلے، جسے "میثاقِ مدینہ" کہا جاتا ہے،اس معاہدے کی اہم دفعات کے تحت وہاں کے غیر مسلموں اور یہودیوں کوانسانیت کی بنیاد پراپنی اپنی عبادت اپنے اپنے عقیدے کے مطابق کرنےاورمسلمانوں کے برابر کی شہریت کا حق دیا گیا تھا،اور یہ بھی طے ہوا کہ ان میں سے کسی ایک پر بیرونی حملہ ہوگا تو سب مل کر دشمنوں کے خلاف لڑیں گے، یہودیوں کے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی،اس معاہدے میں 53/دفعات اور کُل/730 الفاظ تھے۔
اس معاہدے کی دلچسپ بات یہ تھی کہ عرب کی تاریخ میں پہلی بار مدینہ کے مسلمانوں،یہودیوں اور دیگر غیر مسلموں نے متفق ہو کر رسول اللہؐ کو آپس کے جھگڑوں کے فیصلے کے لیے سردار مان لیا تھا،اختلاف کی صورت میں آپؐ کا فیصلہ آخری اورحتمی ہوتا تھا،اس معاہدے کوتوڑنے والے پر آپؐ کی جانب سے مناسب کارروائی کیے جانے کا بھی اہتمام تھا،اس لیے یہ معاہدہ "میگنا کارٹا" سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوا تھا، جب یہودیوں نے اس معاہدے کو توڑا تو انہیں دوبارہ اس میں شامل کیا گیا،اورپھر بھی نہ ماننے پرشریعت موسوی کے تحت مناسب کارروائی کی گئی تھی۔
اسلام اپنے ماننے والوں کومعاہدہ یا کانٹریکٹ آخر تک نبھانے کا حکم دیتا ہے اور اس معاملے میں بہت سخت ہے،قرآن میں بار بار اس پر حکم دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر تم اسے توڑو گے تو اللہ کے ہاں تم سے اس کے بارے میں باز پرس ہوگی، اگر اس معاملے میں تم نے ناانصافی کی تو سزا بھی ملے گی،سورہ بنی اسرائیل (الاسراء) آیت /34 میں ہے کہ "معاہدے کو پورا کرو،بے شک اس کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔"
بھارت کے آئین کی تمہید/دیباچہ ہی میں سیکولرزم،مساوات اور بھائی چارہ درج ہے،نیز دفعہ/14کے تحت یہ صاف طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کوپورے بھارتی علاقے میں مساوات کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا،سی اےاے/2019ٰء نہ صرف آئینہ کی تمہیدکے خلاف ہے بلکہ دفعہ/14 کو بھی توڑتا ہے،آئین بھارت کے مختلف مذاہب،عقائد اور ذاتوں کے درمیان طے پانے والا ایک معاہدہ یا کانٹریکٹ ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ قرآن اور نبیؐ کا عمل مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے، اب یہ بحث کرنا کہ مسلمانوں کے لیے "قرآن بڑا ہے یا آئین" اس لیے اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ قرآن اور نبیؐ کا "میثاقِ مدینہ"مسلمانوں کو آئین کی حفاظت کرنے کی ترغیب دیتا ہے،لہٰذا جوبھی مسلمان سی اے اے کی مخالفت کر رہا ہے وہ آئین کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے،اور ملک کے تمام ہندو،سکھ،مقامی باشندے،دلت،پسماندہ طبقے،آدیواسی،عیسائی اور دیگر شہری جو کسی بھی طور اس تحریک میں شامل ہیں وہ مبارک باد کے مستحق ہیں،اگر حکمراں جماعت کی نیت صاف ہوتی تو آئین میں چھیڑ چھاڑ کیے بغیر بھی پڑوسی ملکوں کی "مذہبی طور پر مظلوم اقلیتوں" کو شہریت دی جا سکتی تھی،اور اسے فوراً نافذ کرنے کا قانون بھی بنایا جا سکتا تھا،اگر ایسا کیا جاتا تو اس پر کبھی کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔