بہت زیادہ افسوسناک خبریں آرہی ہیں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے روز کمانےپھر کھانے والے لوگ بھوک سے نڈھال ہیں پر غیرت خوداری نیز مدد کرنے والوں کی بے جا فوٹوبازیوں کی وجہ سے سامنے آنے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں، ایسا کیوں نہ ہو؟ کیونکہ انہوں نے آج تک کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے، ایسے فوٹوباز سخیوں کی کھلے عام بھرپور مذمت ہونا چاہیے مگر سِرًّا وَعَلانِيَةً (یعنی قرآن مجید کے اس حکم کے تحت کہ چھپ چھپا کے یا کھلے عام دونوں طرح سے اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے پروردگار سے انعام پاؤ) کی وجہ سے ایسا کرنا مناسب نہیں، بس ایسے لوگوں کو خودسے سمجھنا ہوگا کہ ایسا ضرورت کے وقت ہی کرنا چاہیے کیونکہ اس حکم کے باوجود بھی امام زین العابدین علیہ السلام کا یہ حال تھا کہ ان کے انتقال کے بعد بہت سے غرباء ومساکین کویہ معلوم ہوسکا کہ ان کی کفالت کون کررہاتھا، کیونکہ اب ان کے گھروں میں رقم پہنچنا بند ہوگئی تھی، وہ ہرماہ رقم کی پوٹلی بنا کررات یا دن کے کسی ایسے پہر گھروں میں پھینک آیا کرتے تھے جس وقت انہیں کوئی نہ دیکھ سکے،بعض مؤرخین ایسے گھروں کی تعداد سو تک بتاتے ہیں جو کہ زیادہ بھی ہوسکتی ہے، ان کے رازداری سےلوگوں کی مدد کرنے اور بے جا ہرگز خرچ نہ کرنے کا یہ عالم تھا کہ انتقال سے قبل بعض لوگ انہیں کنجوس خیال کیا کرتے تھے۔
شریعت کے احکامات کی پیروی کا معاملہ اس مثال سے خوب اچھے سے سمجھ لیں کہ یہ اس طرح سے عمل میں لایا جاتا ہے گویا ایک ترازو کے دونوں پلڑوں کو برابر رکھا جائے، یعنیٰ اگر کوئی پلڑا ہلکا ہورہا ہوں تو بھاری والے میں سے مقدار کم کرکے اسے ہلکے والے پر رکھتے ہوئے پلڑوں کو برابر کر لیا جائے، اگر ہلکے والے پلڑے پر کچھ الگ سے رکھا جاتا رہا جائےیا زیادہ والے سے کم کرکے اسے ترازو سے الگ رکھ دیا جائے تو سمجھو خرابی ہی خرابی پیدا ہوگی، اس لئے اس وقت بالکل بھی رونمائی نہ کریں، یہ دیکھاوے کا وقت ہرگز نہیں ہے، جہاں تک ہو سکے اپنے آس پاس والوں گھر خاندان اعزاء اقرباء اپنے نوکروں دوستوں پہچان والوں وغیرہ پر پہلے خرچ کریں پھر بچے تودوسروں کو دیں، کسی دوسرے سے یہ کام کرانے سے بہتر ہے کہ خود ایسا کریں، شفافیت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ان تنظیموں یا لوگوں کو درپیش ہوتا ہے جوکارخیر کا کام کرتے اوراس کے لئے لوگوں سے مالی تعاون لیتے ہیں، تو انہیں چاہئے کہ اگر تصاویر لینا ضروری ہو تو اس طرح لیں کہ ضرورت مند کوایسی پوزیشن پر کھڑا کردیں کہ چہرہ ناقابل شناخت ہو یا بالکل بھی نہ آئے بلکہ تصویر میں نظر آرہی دیگر چیزوں سے واضح ہوجائے کہ آپ نے فلاں کی امداد فلاں تک پہنچا دی ہے، جیسے جگہ مکان وغیرہ یا ایک دو ایسے لوگوں کی تصویر ساتھ میں آجائے جوضرورت پڑنے پر اس بات کی گواہی دے سکیں کہ ہاں وہ اس وقت وہاں موجود تھے، اب ایسی تصاویر کو مشتہر کرنے کے بجائے اپنےپاس محفوظہ میں رکھیں اور ضرورت پڑنے پر استعمال کریں۔
ضرورت مندوں سے بھی درخواست ہے کہ اس وقت سامنے آکر اپنا حق وصول کرنے سے مت ہچکچائیں، اس وقت حکومتوں اور مالدار لوگوں پر آپ کی کفالت فرض ہے، اپنا حق ان سے وصول کریں، یہ آپ کے لئے بھیک صدقہ خیرات زکوۃ وغیرہ نہیں بلکہ آپ کی ضرورت ہے، امراء عطیات واجبات کیا خرچ کر رہے ہیں یہ ان کا مسئلہ ہے آپ کا نہیں اسے وہ سمجھ لیں گے، اس وقت صرف یہ دیکھیں کہ جو آپ کھا رہے ہیں وہ ظاہری طور پرحلال غذا ہے یا نہیں، یعنیٰ اس کی کیفیت میں نہ الجھیں، دینے والے کی کمائی فنڈ سورس وغیرہ پر بالکل بھی نہ جائیں، خود آگے آئیں اور اپنا حق وصول کریں،ان حالات میں سب سے زیادہ مشکلات ان غریب آل رسولؐ کو آتی ہیں جوواجبات نہیں لیتے کیونکہ یہ ہرحال میں ان پر حرام ہے،اس لئےمخیرحضرات سےاپیل ہے کہ علم ہو جانے پران کی مدد عطیات سےکریں انشاء اللہ دونوں جہان میں دوہرا اجر ملے گا، غذائی اجناس کی ترسیل پر کوئی روک نہیں ہے اس لئے اپنی ضرورت سے زیادہ نہ کوئی ذخیرہ اندوزی کرے نہ اس کی حوصلہ افزائی کرے نہ کسی کو ذخیرہ کرنے دے، اگر کوئی ایسا کرے تو لوگ مقامی انتظامیہ اور پولیس سے تعاون لے کر ایسے لوگوں کے خلاف ضروری اقدامات کریں۔
حضرت عمرؓ کے دور میں ایک بار حجاز میں قحط پڑا تو چوری کے واقعات بڑھ گئے، آپ نے فوراً ہاتھ کاٹنے کی سزا (حالات درست ہونے تک کے لئے) موقوف کردی، کالابازاری کرنے والوں پر سخت کاروائیاں کیں اور تمام زرخیز علاقوں کے گورنروں کو حکم دیا کہ اپنے علاقوں سے غذائی اجناس فوراً مدینہ روانہ کریں، انھوں نے تنقید کرنے والوں کو صاف کہہ دیا کہ میں اس حالت میں ہرگز پسند نہیں کروں گا کہ لوگوں کے ہاتھ کٹوا دوں،یعنیٰ وہ چور نہیں مجبور ہیں،وہ ضرورتمندوں کو سرکاری خزانے سے بنا تفریق مفت کھانا کھلاتے تھے، اس لئے حکومتوں سے اپیل ہے کہ وہ ضرورت مند لوگوں کو غذائی اجناس کی مفت فراہمی کو یقینی بنائیں،کالابازاری ہرگز نہ کرنے دیں، اس چکر میں نہ پڑیں کہ یہ حالات کچھ دنوں کے ہیں جیسے تیسے گزر ہی جائیں گے، خطرہ یہی ہے کہ حالات مزید بگڑیں گے، میں نے حضرت عمرؓ کی مثال یہاں اس لئے دی کیونکہ 1937ء میں مہاتما گاندھی نے انڈیا ایکٹ 1935ء کی بنیادپربرطانوی حکومت میں شامل ہندوستانی وزراء کواپنے اخبار"ہریجن" کے ذریعہ ان کے طرزحکومت کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا، اور یہ بھی لکھا تھا کہ مجھے ابوبکرؓ وعمرؓ کے علاوہ انسانی تاریخ میں کوئی ایسا تیسرا حکمران نہیں ملتا جسے میں تمہارے لئے مثال کے طورپرپیش کرسکوں، اس وقت حکومت ہند گاندھی جی کے اقوال ومشورے تلاش کرکرکے پھران پر قوانین بنا بنا کر جس طرح کام کر رہی ہے امید ہے ان کے اس مشورے پر بھی عمل کرے گی، گاندھی کا یہ ہدایت نامہ 1937ء کے جولائی اگست کے مختلف اخبارات میں بھی چھپا تھا، اسے آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔
میں برصغیر کی حکومتوں سے خاص طور پر اپیل کرتا ہوں کہ وہ زراعت اور مویشی پالنے کے کاروبار پر خصوصی توجہ دیں اور اس میدان میں کام کرنے والوں کی بھرپور مدد کریں،دنیا کایہ خطہ اس کے لئے انتہائی مناسب ہے، ورنہ کرونا سے تباہ معیشت کو سنبھالنا ساری دنیا کے لئےانتہائی مشکل ترین امر ہوگا، جب کھانے کی چیزوں کی عدم دستیابی ہوگی تو دولت کوئی کام نہ آسکے گی نہ ہی ہتھیار،نتیجے میں ہزاروں قسم کےمخدوش حالات و فتنے جنم لیں گے اورعلاقے کے علاقے تہس نہس ہوجائیں گے، معاشیات کے ماہرین سے اس بابت رائے لیں، میری اب تک کی جانکاری کے مطابق حقیقی خوشحالی اوردولت وہ ہوتی ہے جسے زمین اگلتی ہے یعنیٰ پیداوار درخت مویشی اورمعدنیات وغیرہ، جو معیشت کی مضبوطی لوگوں کو کرنسی اور جی ڈی پی وغیرہ کے ذریعہ دیکھائی جاتی ہے دنیا بھر کے موجودہ حالات میں اس کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے،ابھی بھی وقت ہے جاگ جاؤ ورنہ تباہی بہت ہوسکتی ہے، شاید دنیا ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہےکیونکہ جو حکومتیں ابھی تک معاشی استحکام حاصل کرنے کے لئے انسانوں ہی پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑرہی تھیں آج کرونا سے اپنی جانیں بچانے کے لئے اپنی معیشتیں خودہی تباہ کر رہی ہیں،کرونا کے بعد یہ سلسلہ کسی دوسری صورت حال میں تبدیل ہوکر مزید آگے بھی بڑھ سکتا ہے، آنے والے پندرہ سے بیس سال پوری دنیا کے لئے انتہائی حیرت انگیز اورسخت ترین ہوسکتے ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ عالم انسانیت کو جلد از جلد اس وباء سے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور ہونے والے مشکل حالات سے نجات دے۔ آمین