بیٹے اللہ کی نعمت ہوتے ہیں تو بیٹیاں اللہ کی رحمت اور باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہیں، وہ ان کی کفالت کرنے والے والدین کو روز محشر جہنم کی آگ سے بچا کر جنت دلانے کا ذریعہ ہوں گی، بیٹی پر خرچ کرنا صدقہ اور اس پر شفقت و مہربانی کرنے والا اس جیسا ہے جو کہ خوفِ خدا سے رونے والا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹیاں محبت کرنے والی ہوتی ہیں، اور جو بیٹے بیٹیوں میں تفریق نہ کرے اس کے لئے بیٹیاں جہنم سے رکاوٹ کا باعث ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی کے یہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بھیج کر اہل خانہ کو سلام کہلواتا ہے اور فرشتے اس کے گھر آکر یوں کہتے ہیں کہ"اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم یٰا اَہْلَ الْبَیْت" یعنی اے (لڑکی کے) گھر والو تم پر سلامَتی ہو، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دو بچیوں کی جوان ہونے تک پرورش کی تو میں اور وہ جنت میں اِن دو انگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے اور پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو آپس میں ملایا۔ (صحیح مسلم)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اُس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے، ایک صحابی کی دو بیٹیاں تھیں سو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر دو ہوں تو؟ فرمایا دو ہوں تو بھی یہی ہے، کسی صحابی کی ایک ہی بیٹی تھی، انہیں رشک آیا تو مایوسی سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر کسی کی صرف ایک بیٹی ہو تب؟ فرمایا اگر ایک ہو تب بھی یہی ہے، اس طرح رسول اللہ نے ایک بیٹی کی پرورش پر بھی بشارت دے کر ہم جیسے گنہگاروں کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیا، اس عمل کو رسول اللہ نے صرف والدین تک محدود نہ رکھ کر اور وسیع کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی شخص اپنی دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا دو رشتہ دار بچیوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں بے نیاز کر دے یعنی ان کا نِکاح ہوجائے یا وہ صاحِب مال ہوجائیں یا ان کی وفات ہو جائے تو وہ اس شخص کے لئے جہنم کی آگ سے رکاوٹ ہوجائیں گی۔ (بہ حوالہ مسند امام احمد)
صحیح مسلم میں ام المؤمنین حضرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہےکہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ آئی، میں نے اسے تین کھجوریں دیں، اُس نے ایک ایک کھجور اپنی بیٹیوں کو دی اور تیسری کھجور بھی دو ٹکڑے کرکے اپنی دونوں بیٹیوں کو کھلا دی، وہ بھی بھوکی تھی لیکن خود نہ کھایا، اس لئے مجھے اس پر تعجب ہوا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اس خاتون کے ایثار کا واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ایثار کی وجہ سے اس عورت کے لئے جنت واجب کر دی ہے، ہم مسلمانوں کے لئے اس بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الکوثر اتار کر دنیائے انسانیت میں پہلی بار اس بات کا باقاعدہ اعلان کیا کہ اس کے محبوب سردارِ انبیاء محمد الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل بیٹی سے چلے گی، اور جب سیدہ کائنات حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنے والد رہبر انسانیت خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتیں تو رسول خدا اظہار شفقت میں کھڑے ہوجاتے اور اپنی لاڈلی بیٹی کا ہاتھ یا پیشانی چومتے پھر اس جگہ بیٹھاتے جہاں خود بیٹھے ہوتے تھے، اور جب رسول اللہ حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے جاتے تو اظہار محبت کا یہی طریقہ بیٹی کا اپنے بابا کے لئے ہوا کرتا تھا۔
جس اسلامی معاشرے کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پروان چڑھایا ہے اس میں بیٹی کو بڑی ترجیحات حاصل ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب باپ کوئی چیز گھر لے کر جائے تو بچوں میں سے پہلے بیٹی کو دے، بیٹی کی کسی بھی قسم سے توہین نہ کرے، اسلام نے بیٹی کو پالنا زیادہ ثواب کا کام قرار دیا اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ ایک مسلمان اگر بیٹی کو فقط اللہ کی رضا کے لئے پالے اور اس کی تربیت کرے تو صرف اتنے سے عمل پر اللہ اس مسلمان اور جہنم کے درمیان دیوار حائل کردے گا، اگر ساری روایات کو مدنظر رکھا جائے تو اسلام کی نظر میں بیٹی بیٹے سے افضل قرار پاتی ہے، حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے والدین کو بیٹے کی خواہش تھی لیکن اللہ نے بیٹی عطا کرکے قرآن میں فرما دیا کہ مریم کی قدر و قیمت تو خدا ہی جانتا ہے، میری دو سگی بہنیں ہیں اور میں نے والد محترم ڈاکٹر سید ہارون حسینی رحمۃ اللّٰہ علیہ کو کبھی ان سے شفقت و مہربانی کے سواء کوئی معاملہ کرتے نہیں دیکھا، والد محترم گھر میں ہوتے اور وہ کنگھی چوٹی کر رہی ہوتیں تو ان کے بھی بال سنوارنے لگ جاتیں، سر اور داڈھی میں کبھی ایک تو کبھی دو دو چوٹیاں بنا دیتیں، والدہ محترمہ خفا ہوکر کہتیں کہ کیوں تم نے اپنے ابا کو کھلونہ بنا رکھا ہے تو فرماتے کہ انہیں کھیلنے دو یہ دونوں میری دو آنکھیں ہیں، اللہ تباک و تعالیٰ جسے بیٹی عطاکرے وہ مبارکباد کا مستحق ہے،خدا تمام بیٹی والوں کے لئے دنیا اچھی کرے اورجنت کا راستہ آسان فرمادے۔ آمین