ٹھیک ہے مولوی صاحب کہ اذان آسمان سے اتری ہے اور اس میں کچھ بھی حذف اضافہ نہیں کیا جا سکتا، یہ آپ کو برداشت نہیں ہے، پر جب اس میں سے حی علی خیر العمل نکالا جا سکتا ہے، الصلاۃ خیرمن النوم کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، تو پھر اشھد ان علی ولی اللہ کیوں شامل نہیں کیا جاسکتا؟ آخر شیعوں نے بڑھایا ہی ہے گھٹایا تو نہیں ہے نا، مولوی صاحب اگر آپ کی مانیں گے تو اہل سنت دوہرے مجرم ٹھریں گے، کیوں کہ انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق گھٹایا بھی ہے اور بڑھایا بھی ہے، اہل تشیع تو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اشھد ان علی ولی اللہ اذان کا حصہ نہیں ہے مگر جب تک حکومت الہیہ ظاہر میں بحال نہیں ہوتی یہ ایک شعار کی حیثیت ہے اذان میں شامل رہے گا اور خلافت علی و حسن علیہم السلام کے دشمنوں کی روحوں کو اذیت پہنچاتا رہے گا، پر اہل سنت کے کسی عالم کو آج تک یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ یہ تسلیم کرلے کہ حی علی خیر العمل اذان کا حصہ ہے جسے ہم اہل سنت کے دعویداروں نے صرف بنو امیہ کے بندروں کی حمایت و مخالفین آمریت اور شیعان خلافت راشدہ کی ضد میں ترک کر دیا ہے، چنانچہ کنزالعمال جلد چہارم حدیث نمبر 5504 میں سعد قرظ کی روایت ہے کہ حضرت بلال فجر کی اذان دیا کرتے تھے اور اذان کے آخر میں حی علی خیر العمل یعنی بھلائی کے کام کی طرف آؤ کہتے تھے، اسی طرح موطا امام محمد جلد اول حدیث نمبر 92 میں نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ ابن عمر اذان میں اللہ اکبر تین بار اور اشہد ان لا الہ الا اللہ تین بار کہتے اور حی علی الفلاح کہہ لینے بعد حی علی خیر العمل کہتے تھے، بعض روایت میں ہے کہ اگر انہیں کوئی منع کرتا تو خفا ہوجاتے اور کہتے کہ کیا میں کسی کے خوف سے نبی کی سنت چھوڑ دوں۔
جس طرح آج حامیان حکومت الہیہ کا شعار اشھد ان علی ولی اللہ ہے اسی طرح قدیم میں حی علی خیر العمل ہوا کرتا تھا، جس شہر یا علاقے کی اذان میں حی علی خیر العمل سنائی دیتا تو لوگ یہ سمجھ جاتے تھے کہ یہاں بنوامیہ کے بندروں کے خلاف لڑائی چھڑ چکی ہے اور اس علاقے پر حامیان خلافت و امامت کا قبضہ ہو چکا ہے، یہ ایک قسم کی گوریلا وار تھی جو سو سالوں تک چلی اور تخت بنو امیہ کا چراغ گل ہوگیا، پر بنو عباس بھی طاقت میں آنے کے بعد انہیں بندروں کے نقش قدم پر چل پڑے، اس کے بعد حامیان حکومت الہیہ اور اہل بیت کی بڑی تعداد نے یہ فیصلہ کیا کہ اب عسکری قوت صرف کرنا بے سود ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی اس پیشینگوئی کی روشنی میں ایران خراسان ہندوستان افریقہ وغیرہ کا رخ کیا اور ترکوں مغلوں بربروں و دیگر عجمی قبائل میں گھل مل گئے کہ خلافت دوبارہ عجمیوں کے ہاتھوں بحال ہوگی اور وہ اہل بیت میں سے ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنائیں گے۔
الصلوۃ فی رحالکم یا الا صلوا فی الرحال یا پھر الصلوۃ فی بیوتکم بھی اذان کا حصہ ہے، صحیح بخاری کی کئی احادیث میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم کسی سفر میں یا جنگ پر ہوتے اور معمولی بارش بھی ہوجاتی یا سرد ہواؤں کے ساتھ ٹھنڈک زیادہ ہوتی تو اذان میں الصلوۃ فی رحالکم یا الا صلوا فی الرحال کہنے کا حکم دیتے، رحال عربی میں ان عارضی ٹھکانوں کو کہتے ہیں، جو جنگوں یا سفر کے موقعوں پر بنائے جاتے ہیں، جب اللہ کے رسول شہر میں ہوتے اور کیچڑ والی بارش ہوجاتی تو اذان میں الصلوۃ فی بیوتکم کہنے کا حکم دیتے اور لوگ گھروں میں نماز پڑھ لیتے، عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اسی کی تعلیم کرتے تھے، مولوی چاہے جو کہے پر یہ یاد رکھیں کہ رسول اللہ کے بعد صحابہ ظاہر میں دو طبقوں میں بٹ گئے تھے، ایک نبوی تعلیمات پر چلنے واس کی حفاظت میں لڑنے والا اور دوسرا اس میں تحریف کرنے والا و اپنی تحریف کو درست قرار دلانے کے لئے جھگڑنے والا، آج ہم جس اسلام کو دین سمجھتے ہیں وہ دوسرے طبقے کے ذریعہ تحریف شدہ ہے، قرآن کے الفاظ اور سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو ایسی چیزیں ہیں جس میں تحریف نہیں کی جاسکی اور اسی بنیاد پر تجدید اسلام بپا ہوگی، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسجد سے اذان میں حی علی خیر العمل کی صدائیں بلند کی جائیں جو اس بات کا اقرار ہو کہ ہم قرآن و اسوہ رسول اختیار کرتے ہیں اور اس طبقے سے منحرف ہیں جنہوں نے دین میں تحریف کرنے کی کوششیں کیں اور اس کے لئے ایسی قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جو امت مسلمہ میں چودہ سو سالوں سے جاری ہے، لوگ نبوی دور کی جھلک چاہتے ہیں پر نبوی تعلیمات پر چلنے کی ہمت نہیں جٹا پاتے، کیونکہ اگر کوئی حقیقی کوشش کرتا ہےتو اس کے پیچھے یہی مخصوص طبقہ ہاتھ دھو کر پڑجاتا ہے،یہ طبقہ آج بھی مسلمانوں کی شکل میں مسلمانوں میں سرگرم ہے اور ہرسیرت رسول اختیار کرنے کی کوشش کرنے والے پر امریکہ کی طرح حملہ آور ہوتا ہے تاکہ دین کی تجدید نہ ہوسکے اور ان کا کھوٹا سکہ ڈالر کی طرح مارکیٹ میں بنا رہے، یاد رکھیں ان کے بھی دن اسی طرح نزدیک آچکے ہیں جیسے ڈالر کے نزدیک ہیں۔