عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قرآن لوح محفوظ سے بیت العزت تک لیلۃ القدر میں مکمل اتار دیا گیا، پھر وہاں سے رحمۃ للعالمین محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم پر قسط وار 23 /سال کے عرصےمیں نازل ہوا، ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رمضان کی آخری چھ راتوں میں نازل ہوا، بیشتر علماء کا مؤقف ہے کہ اس کے دنیا میں نزول کا آغاز بھی لیلۃ القدر سے ہوا ہے، یوں تو یہ رات پورے سال میں کسی بھی دن واقع ہوسکتی ہے لیکن بزرگوں کا مشاہدہ ہے کہ لیلۃ القدر اکثر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو ہوا کرتی ہے، والد محترم ڈاکٹر سید ہارون حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی فرماتے تھے، خاتم النبین محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم اپنے بعد لوگوں کی رہنمائی کے لئے قرآن کے ساتھ اپنی آل یعنیٰ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولادیں بھی چھوڑ کر گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالکل صاف فرما دیاہے کہ میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، تم انہیں تھامے رہو گے تو گمراہ نہ ہو گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملو گے، اور وہ دونوں چیزیں کتاب اللہ و میری عترت یعنیٰ اہل بیت ہیں، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیر المؤمنین و امام المتقین مولا علی علیہ السلام کو تمام اہل بیت اور اصحاب پر اس طرح فوقیت دی کہ انہیں اپنے لئے ٹھیک ویسا ہی قرار دیا جیسے موسیٰؑ کے لئے ہارونؑ تھے، چونکہ دین محمدی رہتی دنیا تک کے لئے ہے اس لئے یہ عظیم فضیلت بھی علیؑ کے علاوہ کسی کو میسر نہ ہوسکی کہ رسول اللہؐ نے اپنے بعد علیؑ کو ایمان و نفاق میں تفریق اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل کفر کی پہچان کا معیار قرار دیا، یعنیٰ جس طرح مولا علی علیہ السلام سے محبت و اس کا اظہار اور ان کی اطاعت ایمان نیز ان سے بغض عداوت دشمنی اور نافرمانی نفاق ہے، ٹھیک اسی طرح ان سے اور ان کے محبین و مطیع لوگوں سے محبت اور اس کا اظہار ایمان و ان کے دشمنوں سے کسی بھی قسم کا تعلق اور کسی بھی قسم کی ہمدری و اس کا خفیف اظہاربھی نفاق ہے، عرب بلندی کی جانب بڑھتے مرحلوں کو "درجات" اور پستی کی طرف جاتے مراحل کو "درکات" کہتے ہیں، قرآن سورۃ نساء آیت نمبر 145 میں اللہ تبارک و تعالٰی کا ارشاد ہے کہ
یعنیٰ یقین جانو کہ منافقین جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے۔
یاد رکھیں کہ جہنم کے سات حصے ہیں پہلا "جہنم" دوسرا "لظیٰ" تیسرا "حطمہ" چوتھا "سعیر" پانچواں "سقر" چھٹا "جحیم" ساتواں "ہاویۃ" اور منافقین کا ٹھکانہ ہاویہ ہے، دنیا میں علی علیہ السلام کے دشمنوں کے مداح و مددگار یوم محشر ان کے دشمنوں کا حمایتی کسی کو نہ پائیں گے، اصحاب شجر، امیر المؤمنین، خلیفہ، کاتب وحی، ماموں یا رضی اللہ عنہ وغیرہ کا خطاب مالک یوم الدین کے سامنے ان کی کوئی مدد ہرگز نہ کرسکے گا نہ ہی ان کے حامیوں کی دنیا میں کی گئی ان کی مدح و سرائی اور جھنڈا برداری وہاں ان کے کچھ کام آئے گی بلکہ ان کے پیروکار بھی انہیں کے ساتھ شمار ہوں گے، اہل سنت کتب احادیث میں موجود رسول اللہؐ کے واضح ارشادات کے مطابق صرف جنگ بدر میں شامل اصحاب کے لئے جہنم سے مکمل بری ہونے کے امکانات ہیں چاہے انہوں نے اپنی بعد کی بقیہ زندگی میں جو بھی کیا ہو، ان کے علاوہ جتنے بھی اصحاب ہیں ان کا پروانہ بخشش صرف اس وقت تک کے لئے تھا جس دن وہ انہیں عطا ہوا، یعنیٰ روز محشر ان کی بعد کی زندگی کا محاسبہ ہوگا، صحیح مسلم میں روایت یہ کہ ایک دن حضرت حفصہ ؓ نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے سنا کہ انشاء اللہ اصحاب شجرہ میں کا کوئی ایک بھی شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ایسا کیوں ہے؟ اس پر رسول اللہ نے انہیں جھڑک دیا، پھر حضرت حفصہ ؓنے دوبارہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ قرآن تو کہتا ہے کہ وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُهَا یعنیٰ تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر پیش نہ کیا جائے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا یعنیٰ ہم پرہیزگاروں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں چھوڑ دیں گے، اس طرح بیعت رضوان والوں میں کے ظالم جہنم سے نجات والے حکم سے خارج ہوگئے، سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے جن میں اصحاب بدر و شجرہ دونوں کا ذکر ہے، قرآن اور اس حدیث سے یہ واضح ہے کہ ہر کسی کو جہنم سے اس کے برے اعمال کے بقدر سابقہ لازمی پڑے گا، یاد رکھیں کہ ایک مسلمان کو نبیؐ کی نافرمانی کافر اور علیؑ کی نافرمانی منافق بنا دیتی ہے اور یہ دونوں ہی جہنمی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے حاطبؓ بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کو لکھے گئے خط کے جرم سے انہیں یہ کہہ کر باعزت بری کر دیا تھا کہ یہ بدری ہیں اور اہل بدر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اب تم جو چاہے کرو میں نے تمہاری مغفرت کردی ہے، لیکن عمرؓ بن خطاب نے شراب نوشی کا جرم ثابت ہو جانے پر قدامہؓ بن مظعون پر حد نافذ کی تھی اور ان سے بحرین کی گورنری بھی واپس لے لی تھی، جبکہ قدامہؓ سابقون الاولون میں کے اور بدری بھی ہیں۔
مسند احمد میں ابومسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ تم میں بعض لوگ منافق بھی ہیں، اس لئے میں جس جس کا نام لوں وہ اپنی جگہ کھڑا ہو جائے، پھر نبی کریمؐ نے ایک آدمی سے فرمایا کہ اے فلاں کھڑے ہو جاؤ، اسی طرح نبیؐ نے نام لے لے کر چھتیس آدمیوں کو کھڑا کیا، یہ سارے منافق تھے، یعنی یہ سب جھوٹ لیپاپوتی اور گمراہ کرنے والی باتیں ہیں کہ رسول اللہؐ نے کبھی منافقین کے نام نہیں بتائے، کنز العمال میں رسول اللہؐ کے لاڈلے صحابی ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں ہم منافقین کو صرف تین نشانیوں سے پہچانتے تھے، پہلی یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے تھے، دوسری یہ کہ نماز میں پیچھے رہ جاتے تھے اور تیسری یہ کہ علی بن ابی طالبؑ سے بغض رکھتے تھے، جامع ترمذی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے بعد ہم انصار منافقین کو حضرت علیؑ سے بغض رکھنے کی وجہ سے پہنچانتے تھے، کتب احادیث میں یہی حدیث جابر ؓبن عبداللہ انصاری سے بھی مروی ہے، بخاری میں رسول اللہ ؐ کے انٹلیجنس آفیسر حذیفہؓ ابن الیمان سے روایت ہے کہ نفاق تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھا اور آج کل بھی ہے اور یہ تو ایمان لانے کے بعد کفر کرنا ہے، ایک مرتبہ کسی تابعی نے حذیفہؓ ابن الیمان سے دریافت کیا کہ آپ نفاق کسے کہتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ دور نبویؐ میں ہم ایمان کی حالت میں کئے گئے کفر کو نفاق کہتے تھے، پھر کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ منافقین کی پہچان کیسے کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہؐ ہمیں بتا دیتے تھے پھر آپؐ کے بعد ہم علیؑ کے ذکر سے مؤمن و منافق کی شناخت کرلیا کرتے تھے، یعنیٰ اصحاب رسول حق اور باطل کی پہچان کے لئے اپنی محفلوں کو ذکر علیؑ سے آراستہ کرتے تھے، جو اس سے خوش ہوتا و دلچسپی لیتا اسے مؤمن اور جو ناراض ہوتا و ناپسند کرتا اور ناک بھوں سکوڑتا اسے منافق شمار کرتے تھے، حذیفہؓ وہی صحابی ہیں جنہیں رسول اللہؐ نے کچھ خاص منافقین کے نام بھی بتائے تھے، رسول اللہؐ نے کچھ بڑے اور خطرناک قسم کے منافقین کی علامت دوبیلہ میں موت ہونا بتائی تھیں اور وہ اسی پھوڑے کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے، افسوس اور فکر کی بات ہے کہ ان میں کے کچھ کئی لوگوں کی نظر میں سپر اسٹار اصحاب رسول کا درجہ رکھتے ہیں، اور اہل سنت عوام لاعلمی کی وجہ سے ان کا جھنڈا اٹھائے لوگوں سے جھگڑ اور اپنے عاقبت خراب کر رہے ہوتے ہیں، عوام کم علمی کی بنیاد پر ذکر علیؑ سے لاپرواہ ہیں جبکہ محفلیں سجا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ سلم اور ان کی آل یعنیٰ علی علیہ السلام اور آل فاطمہ سلام اللہ علیہا کا تذکرہ کیا جانا عین ایمان ہے، پہلے یہ عمل میلاد کے نام سے معاشرے میں ہونا عام تھا جو فی الحال کچھ مخصوص ذہنیت کے متشدد مسلکی لوگوں اور مخالفین آل رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے شر اور پروپیگنڈوں کی وجہ سے رکا ہوا جسے بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اصحاب پیغمبرؐ کے ذریعہ ان کے اپنے درمیان موجود نفاق اور منافقین کو پہچاننے کا یہ سادہ سا طریقہ ہمارے لئے آج بھی مشعل راہ یعنیٰ صراط مستقیم کو پہچاننے کا ذریعہ ہے، ہم اصحاب رسولؐ کے اختیار کردہ اس عمل کے ذریعہ اپنے درمیان چھپے منافقین کو آج بھی بہ آسانی پہچان سکتے ہیں، روایات کے مطابق خروج مہدیؑ سے قبل ساری دنیا کا ایمان ایک تو ساری دنیا کا نفاق دوسرے خیمے میں جمع ہو جائے گا یہاں تک کہ ایمان والے خیمے میں ایک بھی منافق نہ بچے گا نہ ہی نفاق والے خیمے میں ایک بھی مؤمن باقی رہ جائے گا، علوم باطنیہ کو سمجھنے والے اس عمل کو نفاق کا پھٹنا کہتے ہیں اور اس علم کے حقیقی علماء بخوبی جانتے ہیں کہ یہ عمل آج سے دو سال قبل وقوع پذیر ہوچکا ہے جس کا ظاہر بھی بہت تیزی سے عمل میں آرہا ہے، اسرائیل حکومت الہیہ بھارت رام راج اور جزیرۃ العرب کفر و شرک کے اڈوں کی جانب سرعت سے بڑھ رہے ہیں، گرچہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کے علاوہ بقیہ چودہ رکن ممالک کے ووٹ کے ذریعہ اسرائیل فلسطین جنگ بندی کی قرارداد منظور ہونے اور ناٹو میں امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی فوجی طاقت رکھنے کی وجہ سے جنگ بندی پر عمل درآمد کے لئے ترکی کے واسطے فلسطین میں مداخلت کا راستہ ہموار ہوچکا ہے، لیکن پھر بھی ایران اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ کوئی بھی فلسطینی مظلوموں کے حق میں عملی طور پر کھڑا نظر نہیں آرہا ہے، سید علی خمینیؒ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کے بعد سے ایران دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس نے سرکاری سطح پر مسئلہ فلسطین کو پوری امت مسلمہ کا المیہ تسلیم کر رکھا ہے جبکہ دیگر سارے مسلم ممالک اسے علاقائی تنازعہ قرار دیتے ہیں، کچھ بھی ہو لیکن ایک طویل سخت ترین و اعصاب شکن جنگوں کے سلسلے کا آغاز ہوچکا ہے جس میں فلسطینیوں و لبنانیوں (جو کہ اہل شام ہی ہیں) کے ساتھ مٹھی بھر یمن اور عراق والے القدس کے محاذ پر حاضر باقی سب فی الحال غائب ہیں، واحد مسلم ایٹمی ملک پاکستان کی فوج پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہونے کے باوجود بھی منحوس ترین بدعنوان لوگوں کی حمایت میں اپنی ہی عوام پر چڑھ دوڑنے کو تیار بیٹھی ہے اور اپنے بچاؤ میں لوگوں کو الجھانے و گمراہ کرنے کے لئے ضرورت پڑی تو ان کا پنگا پڑوسی ممالک سے بھی کرا دینے کے فراق میں لگی ہوئی ہے، افغانستان ابھی نوزائیدہ ریاست ہے لیکن ایران کے ساتھ مل کر مشرق وسطی کے معاملات میں مغربی طاقتوں کے خلاف ایک ناقابل شکست قوت کی شکل لے سکتی ہے، اس کے آثار بھی نظر آنے لگے ہیں مگر وقت بہت کم ہے، اس پر بہت تیز کام کرنے کی ضرورت ہے، مصر اردن سعودی عرب متحدہ عرب امارات سمیت بیشتر بڑے افریقی و عرب ممالک مغربی آقاؤں کے خودساختہ خوف سے کانپ رہے ہیں، ایک طرف قربانیوں اور شجاعت کی ایسی داستانیں رقم کی جارہی ہیں جو رہتی دنیا تک فخریہ سنائی جائیں گیں تو دوسری طرف منافقت اور وہن کے وہ ریکارڑ بنائے جارہے ہیں جو ہمیشہ کے لئے لعنت کے مستحق ٹھہر چکے ہیں، لگ بھگ 2012ء سے چھڑی امامت و خلافت نواز (آرتھوڈوکس) اور ملوکیت و آمریت نواز (کیتھولک) مسلمانوں کی لڑائیوں کے درمیان آرتھوڈوکس اور کیتھولک عیسائی بھی ایک بار پھر سے ٹکرا چکے ہیں، یہودی اور آریہ یعنیٰ موجودہ سناتنی یا اہل ہنود بھی دو خیموں میں بٹ چکے ہیں، میرے خیال میں یہی چاروں اس وقت دنیا کے بڑے آسمانی ادیان ہیں، چھٹنی اور خیمہ بندی کا ظاہری عمل کتنا عرصہ لےگا یہ علم کسی کو نہیں ہے لیکن آپ کو ابھی سے یہ طے کر لینا ہے کہ آپ کس خیمے میں ہیں، نفاق ہر مسلک ہر مذہب و ہر طبقے میں لعنت کی طرح موجود ہے اور اپنے مفاد کے مطابق کہیں کفر تو کہیں ایمان والوں کے ساتھ منسلک ہے، نفاق کے بادل اتنے گہرے ہیں کہ چند سال قبل کیتھولک ویٹیکن چرچ کے رہنما پوپ فرانسس نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ منافق سیاست دانوں سے تنگ ہیں، لیکن اب یہ طے ہوچکا ہے کہ منافقین کفر کے ہاتھوں بھی پیٹیں گے اور ایمان والوں کے ہاتھوں بھی ذلیل و خوار ہوں گے، مؤمنین تو منافقین سے حضرت سلیمانؑ کے بعد ہی سے پریشان ہیں پر انہیں پانے پوسنے والا کفر بھی اب ان سے تنگ آچکا ہے، نفاق کو بہرحال مٹنا ہی ہے اور اس کے خاتمے کا اعلان دجال کے قتل کے ساتھ ہوگا، ایمان اور کفر دنیا میں اس کے بعد بھی جب تک خدا چاہے گا رہیں گے، فی الحال آپ کو پہلا کام یہ کرنا ہے کہ روز اپنا محاسبہ کیا کریں کہ آپ کا دل و دماغ اور مال و جسم کی قوت کسی راستے سے منافقین اور ان کے معاونین کے لئے استعمال تو نہیں ہو رہی ہے، اور دوسرا یہ کہ آج وہی رات یعنیٰ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب یا لیلۃ القدر گزر چکی ہے جس رات کو قرآن نازل ہوا ہے، اس لئے آج کے بعد اس بات کا عہد کرلیں کہ ہمیں قرآن کے ساتھ اہل بیت کی اطاعت کو مضبوطی سے پکڑ لینا ہے تاکہ حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم اور آل رسول علیہم السلام کا قرب اور ساقی کوثر کے ہاتھوں جام نصیب ہو جائے۔