امام علی علیہ السّلام وہ عظیم شخصیت ہیں جو خاتم النبیین محمد الرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ پہلے ہی دن سے ہولئے،رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ سلام اللّٰہ علیہا اور علی علیہ السّلام یعنیٰ یہ تین لوگ اسلام کی ابتداء ہیں، ایک حدیث ابھی چند روز قبل نظر سے گزری کہ ایک دن امام علی علیہ السّلام منبر پر تشریف فرما محو خطاب تھے کہ ہنسنے لگے اور اتنا ہنسے کہ لوگوں کو ان کی ڈاڑھ کے دانت بھی نظر آگئے، سامعین نے سبب جاننا چاہا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک دن ہم وادی نخلہ میں تھے اور نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک ابوطالب علیہ السّلام وہاں آگئے اور انہوں نے ہمیں پہلی مرتبہ نماز پڑھتے دیکھ لیا،انہوں نے کہا کہ تم جو کر رہے ہو وہ ٹھیک تو ہے لیکن مجھ سے اپنے کولہے اٹھاتے نہیں بنے گا،ایک حدیث میں روایت ہے کہ ایک وفد مکہ آیا ہوا تھا،وفد والوں نے حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ سوال کیا کہ یہ دو مرد کون ہیں جو کعبہ اللّٰہ میں الگ طرح سے عبادت کررہے تھے پھر ایک عورت آئی اور ان کے ساتھ شامل ہوگئی،عباسؓ نے جواب دیا کہ وہ میرے بھتیجے محمد و علی ہیں اور خاتون محمد کی بیوی خدیجہ ہیں،محمد کا گمان ہے کہ وہ نبی ہیں اور ان کے دین کے پیروکار ابھی تک یہی تینوں ہیں،امام علی علیہ السّلام سورۃ الفاتحہ کی شان نزول یوں بیان کرتے ہیں کہ غار حراء کے واقعہ کے بعد رسول اللّٰہ نے کچھ دن گھر سے نکلنا ترک کر دیا تھا، پھر ایک دن جب گھر سے نکلے تو کسی اجنبی نے آپؐ کو روکنے کی کوشش کی، آپؐ کو خوف ہوا اور گھر واپس آگئے، جب کئی بار ایسا ہوا تو حضرت خدیجہ رسول اللّٰہ کو ساتھ لے کر مشورہ کرنے ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں، ورقہ نے رسول اللّٰہ سے کہا کہ آپ اس شخص سے خوف نہ کریں بلکہ ٹھر کر اس کی بات سنیں، پھر رسول اللّٰہ جب گھر سے نکلے تو وہ شخص ملا اور اس نے سورۃ الفاتحہ کی تلاوت شروع کردی، رسول اللّٰہ کو خوف ہوا تو آپ تیز رفتاری سے گھر کی طرف واپس پلٹے، اس صورت میں کہ رسول اللّٰہؐ آگے اور وہ اجنبی شخص رکنے کا کہتے ہوئے آپ کے پیچھے ہولیا، جب آپ نہیں رکے تو وہ آیات کی تلاوت کرتا ہوا گھر تک آیا، امام علی علیہ السّلام فرماتے ہیں کہ وہ اجنبی ایک فرشتہ تھا اور سورۃ الفاتحہ اس طرح نازل ہوئی، امام علی علیہ السّلام انتہائی خوش اخلاق اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے بعد انہیں اپنوں کے ہاتھوں جتنی تکلیفیں اٹھانی پڑیں انہیں برداشت کرنے کا حوصلہ بھی شاید علی میں ہی تھا، امام علی علیہ السّلام پر سخت ترین وقت وہ تھا جب انہیں اپنوں نے ہی تلوار اٹھانے پر مجبور کردیا تھا، امام علی علیہ السّلام کو ظاہری خلافت ملی تو اس وقت ان کے پاس اپنے اخلاف کے لئے حق اور باطل کی تفریق کا راستہ کھولنے کا واحد راستہ تلوار ہی باقی رہ گیا تھا،جمل صفین اور نہروان مسلمانوں کی آپسی لڑائیاں نہیں بلکہ حق اور باطل کے معرکے تھے،جمل تو ختم ہوگئی تھی لیکن صفین اور نہروان کا کربلا سے دوبارہ آغاز ہوگیا،یہ معرکے آج تک لڑے جارہے ہیں اور اہل جمل بھی اس میں دوبارہ کود پڑے لگ رہے ہیں،لیکن اس بار یہ جنگیں فیصلہ کن لڑی جائیں گیں جن کا اختتام امام مہدی علیہ السّلام کے ہاتھوں عالمی حکومت الہیہ کے قیام کے ساتھ ہوگا،امام علی علیہ السّلام ایمان و نفاق ناپنے کا پیمانہ ہیں، علی علیہ السّلام میزان حق ہیں، یہی اسلام کی ابتداء اور یہی انتہا ہیں، من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ کا انکار کر کے 21/رمضان المبارک/40ھ کے دن علی علیہ السّلام کو شہید کردیا گیا جس کے بعد سے آج تک امت مسلمہ اس طرح یتیم ہے کہ جس پر کبھی ظالم ماموں تو کبھی جابر چاچا مسلط ہوگئے اور کبھی آس پڑوس والے ان کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے، کاش امت مسلمہ ماموں چاچا اور پڑوسیوں کے تسلط کے بجائے مولائے کائنات کی سرپرستی قبول کرلیتی تو اس تباہی سے بچ جاتی جو اب اس کا مقدر بن چکی ہے۔