مشکوۃ شریف/ جلد چہارم/حدیث نمبر 1307 میں ملک عضوض کا مطلب کچھ اس طرح لکھا ہے کہ "عض" کے معنی کاٹنے کے ہیں اور "عضوض" (عین کے زبر کے ساتھ) اسی لفظ سے نکلا ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے اور ایک روایت میں ملوکا عضوضا (عین کے پیش کے ساتھ) منقول ہے جو عض (عین کے زیر کے ساتھ) کی جمع ہے اور جس کے معنی خبیث، شریر اور بدخلق کے ہیں مطلب یہ ہے کہ خلافت و رحمت کے زمانہ کے بعد جو دور آئے گا وہ ملوکیت بادشاہت کا دور ہوگا اور ایسے ایسے لوگ ملک کے بادشاہ حکمران اور مسلمانوں کے سردار وحاکم بن بیٹھیں گے جن کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہوگا اور نہ مواخذہ آخرت کا ڈر ہوگا اور نہ مخلوق اللہ کے تئیں ہمدردی و مروت اور عدل وانصاف کااحساس ہوگا اس لیے وہ اپنے ملک اوراپنی قوم کے لوگوں پر ظلم وجبر کریں گے ان کو ناحق سزاؤں اور عقوبتوں میں مبتلا کریں گے اور ان کو طرح طرح سے ستائیں گے،خلافت و رحمت کا زمانہ ربیع الاول/41 ھ میں اس وقت تیس سال کی مدت مکمل کرکے ختم ہوگیا جب خلیفۃ المسلمین امام حسن علیہ السلام نے کچھ شرائط کے ساتھ خلافت سے کنارہ کشی اختیار کرلی،شرائط حسنؑ کو بالائے طاق رکھ کر جو حکومتیں وجود میں آئیں ان کو حدیث کے لفظ ملکا عضوضا کا صحیح ترجمہ کرتے ہوئے سمجھیں تو وہ خبیث شریر اور بدخلق بادشاہوں کی حکومتیں تھیں جنہیں اس دور میں ہم ڈکٹیٹرشپ کہتے ہیں، ہم اہل سنت کے یہاں سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم اپنی کتابوں میں لکھتے کچھ ہیں اور عوام کو بتاتے کچھ ہیں، یعنیٰ ہمارے علماء کا حال بھی ان یہودی علماء جیسا ہی ہے جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے،أفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الكِتابِ وتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ (کیا تم کتاب کے کچھ حصے پرایمان رکھتے ہو اور کچھ حصے کا انکار کرتے ہو) امیر المؤمنین امام حسن علیہ السلام کا چھ ماہ کا دور خلافت راشدہ کا صفحہ آخر ہے، ہم چار کو تو یاد رکھتے ہیں پر پانچویں کے ساتھ ناانصافی کیوں کرتے ہیں؟ خلیفہ راشد چار نہیں بلکہ پانچ ہیں، جب تک ہم خلافت کے صفحہ آخر کو نظرانداز کریں گے ملکا عضوض کا مطلب سمجھ میں نہیں آئے گا نہ ہی صحابیت کا مفہوم، ہم خلافت راشدہ کی تعمیر کرنے اور اس کو ڈھانے والوں دونوں کو صحابیت کے مقام پر بیٹھانے کے لئے جھگڑتے رہیں گے،ہم قیام خلافت کے نعرے ہی بھر کے رہیں گے اورغیر قومیں ڈیموکریسی اپنا کرہم پر مسلط رہیں گیں۔