طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضرت عمر ہی کے زمانے میں کوفہ میں پندرہ سو سے زائد صحابہ رہائش اختیار کرچکے تھے جن میں سے ستر بدری اور آٹھ سو کے قریب بیعت رضوان والے تھے، یہاں عبداللہ ابن مسعود اور حضرت علی کے تربیت یافتہ علماء و محدثین کی بڑی تعداد آباد تھی، اسی لئے خلافت راشدہ ہی میں کوفہ علوم فقہ کا مرکز بن چکا تھا،حضرت علی نے جب کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تب وہ ابن مسعود کے شاگردوں سے بھرا پڑا تھا، انہیں حضرت عمر نے کوفہ اسی لئے بھیجا تھا،حکومت بنو امیہ سے بغاوت کے جرم میں حجاج بن یوسف نے صرف کوفہ میں ابن مسعود کے تقریباًچار ہزار شاگرد علماء و محدثین کو قتل کیا تھا، فتح القدیر میں حضرت قتادہ سے بیالیس بدری صحابہ کے ساتھ لگ بھگ گیارہ سو صحابہ کی روایت بھی ملتی ہےجن میں تین سو بیعت رضوان والے تھے،ایک مرتبہ حضرت علی نے مسجد کوفہ میں لوگوں سے سوال کیا کہ تم میں سے کون کون یوم غدیر خم موجود تھا اور "میں جس کا مولا علی اس کے مولا ہیں" کا گواہ ہے تو بہت سے لوگوں نے کھڑے ہو کر گواہی دی جن میں بارہ بدری صحابہ تھے،چونکہ ولایت علی کو اہل کوفہ و اہل یمن نے تسلیم کیا تھا اور مسلک اہل بیت کا سرچشمہ اہل کوفہ ہیں جن میں اہل یمن کی بڑی تعداد آباد تھی اس لئے وہ ناصبیوں کے ظلم وجبر کا شکار بنتے رہے ہیں، ان کے تشددسے تنگ آکر وہاں کے کچھ علمی گھرانوں نے ایران کا رخ کیا اور قم شہر میں قیام کیا، تب سے قم علمی میدان میں مشہور ہوا، حضرت علی علیہ السّلام کے دور میں یمن کے ہمدان اور طےقبائل کوفہ میں آبسے تھے جوبہت طاقتور قبائل تھے اور جمل و صفین میں علی کی جانب سے جنگ میں شامل تھے ،حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ مدینہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی بڑی تعداد کوفہ چلی آئی تھی جن میں عمار بن یاسر، حذیفہ ابن الیمان، سلمان فارسی، براء بن عازب، ابوموسیٰ اشعری جیسے صحابہ بھی تھے، علی کے ساتھ آنے والوں کی تعداد ایک ہزار تک مروی ہے،یعنیٰ کوفہ میں مدینہ اور یمن کے زیادہ تر لوگ آباد تھے، مشہور تابعی حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ بھی کوفہ آبسے تھے اور جنگ صفین میں شہادت پائی، عمار بن یاسر اور اویس قرنی کی قبریں آج بھی رقہ میں قریب قریب موجود ہیں،کوفہ وہ شہر تھا جہاں مدینہ سے منتقل ہوکر آباد ہونے والے اصحاب رسول کی تعداد عالم اسلام کے دیگر تمام شہروں کی نسبت سب سے زیادہ تھی، قرظۃ بن کعب انصاری کہتے ہیں کہ ہم چند لوگوں نے کوفہ کا سفر کیا تو حضرت عمر اصرار (جو کہ مدینہ سے عراق جاتے ہوئے تین میل پر ایک پرانے کوئیں کا نام تھا) تک ہمیں چھوڑنے آئے، انہوں نے وہاں وضوکیا اور دو مرتبہ اعضاء وضوکو دھویا پھر فرمایا کہ تم جانتے ہو میں کیوں تم کو رخصت کرنے یہاں تک آیاہوں؟ ہم نے عرض کیا ہاں! ہم چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ہیں، فرمایا کہ تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جہاں شہد کی مکھی کی طرح قرآن کی آواز گونجتی رہتی ہے لہٰذا تم لوگ احادیث کے ساتھ ان کو قرآن سے مت روک دینا، ان کو قرآن کے ساتھ مشغول رہنے دینا، ابن عساکر میں خیثمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوہریرہ کے پاس بیٹھا تھا، میں نے کہا کہ مجھے حدیث سنائیں، وہ بولے کہ تم کن لوگوں میں سے ہو ؟ میں نے جواب دیا کہ اہل کوفہ سے ہوں، ابوہریرہ نے فرمایا کہ تم مجھ سے سوال کرتے ہو، حالانکہ تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام موجود ہیں اور حضرت عمار بن یاسر موجود ہیں جنہیں شیطان سے پناہ دی گئی ہے۔
سرزمین کوفہ کوزمانہ قدیم میں سورستان کہا جاتا تھا اور یہ آبادی قبل اسلام بھی موجودتھی، امام جعفر صادق علیہ السلام اس شہر میں دو سال رہے اور انہیں سے روایت ہے کہ نوح علیہ السلام نے وہاں ایک قبہ بنایا تھا اور قوم نوحؑ سے تعلق رکھنے والے کفار نے اپنے بت اسی شہر میں نصب کر رکھے تھے، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح کا آغازبھی اسی سرزمین سے ہواتھا، کربلا میں شہید ہونے والے غیر ہاشمی زیادہ تر اہل کوفہ ہی تھے جن میں یمنی قبائل سے تعلق رکھنے والے کثرت میں تھے، ناصبیت نے عوام کو اس قدر گمراہ کر رکھا ہے کہ لوگوں کو کچھ پتہ نہیں ہوتا اور دھڑ سے الزام کوفہ والوں پر ڈال دیاجاتا ہے یا خود حسین پر، اسی سال عاشورہ والے دن میں کسی کام سے ایک جگہ گیا، وہاں کچھ مرد خواتین عزاداری کے خلاف باتیں کر رہے تھے، میں خاموشی سے سن رہا تھا، اسی دوران ایک نے کہا کہ شیعہ ہی حسین کے قاتل ہیں، میں نے وہیں ان سے پوچھ لیا کہ کسی ایک قاتل کا نام بتادیں، کوئی جواب نہ آیا، میں نے کہا آپ قاتلوں کی لسٹ کسی بھی مکتبہ فکر کی کتابوں سے نکالیں اور ان کے عقائد پڑھیں، سارے قاتل اور ان کے حامی بھی سنیت کے نامور ٹھیکے دار ہیں پھر آخرقاتل شیعہ کیوں ہیں؟ جیسی قاتلین حسین کو بچانے کی تاویل کی جاتی ہے اور اس پر لوگ یقین کرتے ہیں اس کے مطابق تو پھر نریندر مودی گودھرا قتل عام سے بری ہے، کوفہ والوں میں اس زمانے کے افصل ترین لوگ تھےجنہوں نے دین کو مسخ کرنے والوں کے خلاف بار بار مزاحمت کی گرچہ انہیں کامیابی نہیں ملی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غلط تھے، بے شمار انبیاء ایسے ہیں جنہوں نے اعلان حق کیا مزاحمت کی مگر کامیاب نہیں ہوئے تو وہ غلط نہیں تھے بلکہ مشیت خداوندی ہی یہی تھی، اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان انبیاء پر حاوی ہونے والے ان کے دشمنوں کو حق پر مان کر انہیں ثریا پر چڑھا دیا جائے، کوفہ والوں میں اس زمانے کے بدترین لوگ بھی تھے جنہوں نے مال زر اور لونڈی باندیوں کے عوض ان مزاحمتوں کو کچلنے میں ملک عضوض یعنی ظالمانہ بادشاہت کی معاونت کی، یہ وہ لوگ تھے جو معاوضہ لے کر سب کچھ کر گزرتے تھے اور معاویہ کے بیس سالہ دور حکومت میں اقتدار و مال پر مضبوطی سے قابض ہوچکے تھے، انہیں اموی ریاست کی تربیت یافتہ فوج اور شامی مسیحیوں کی حمایت حاصل تھی، یہاں تک کہ معاویہ کا وزیراعظم عیسائی تھا جو کہ اگلے پچاس سالوں تک اپنے عہدے پر برقرار رہا، جس کے برخلاف مزاحمتی گروہ کے پاس نہ وسائل تھے نہ مال تھا نہ حکومت سے ٹکر لینے لائق ہتھیار تھے نہ ہی خوف کی وجہ سے خود مسلمانوں کی اکثریت کی حمایت تھی پھر بھی وہ لگاتار جدو جہد کرتے تھے، ظالموں کے خلاف خروج کی یہی ادا کوفہ والوں کو سب سے ممتاز کرتی ہے۔
حسین کے قتل کے ذمہ دار نہ اہل کوفہ ہیں نہ اہل تشیع ہیں نہ خود امام حسین ہیں، بلکہ ان کے قتل کا ذمہ دار کفر و نفاق کا وہ متحدہ محاذہے جس کا آغاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشمنی سے شروع ہوا، ایمان والوں کی قوت کے سامنے بے بس ہوکر فتح مکہ کے بعد جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا ڈھونگ رچا، پھر عثمان کی خلافت کے دنوں میں یہ طبقہ ان کی گوشہ نشینی اختیار کرنے اور اقرباء پروری کی وجہ سے موقع پاکر اسلامی دنیا پر گرفت مضبوط کر لے گیا، انہوں نے مدینہ پر اپنے داماد مروان بن حکم کو، مصر پر دودھ شریک بھائی عبداللہ بن ابی سرح کو اور کوفہ پر (اس کی تعمیر نو کرنے والے اور فاتح ایران بدری صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص کوبیت المال سے لیا گیا ادھار نہ ادا کرسکنے کی استطاعت رکھنے پربدعنوانی کا الزام لگا کر برطرف کرکے) اپنے ماں شریک بھائی ولید بن عقبہ کو مسلط کر دیا، جبکہ یہ تینوں مسلمانوں کے نزدیک بدترین لوگ تھے کیوں کہ یہ رسول اللہ کے ذریعہ بدترین ہونے کی سند پا چکے تھے، ولید صرف یہ نہ کہ شراب پیتا تھا اور نماز غلط سلط پڑھاتا تھا بلکہ جب وہ کوفہ کا گورنر بنایا گیا تو عید کی نماز پڑھانا بھی نہیں جانتا تھا، چنانچہ ابن ابی شیبہ جلد دوم حدیث نمبر 1718 میں ہے کہ ولید بن عقبہ نے عید کی رات حضرت ابن مسعود،حضرت حذیفہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ کل عید ہے، تکبیرات کیسے کہنی ہیں؟ حضرت عبداللہ نے اسے طریقہ بتایا تب اس نے نماز پڑھائی، یعنیٰ رسول اللہ کے صحبت یافتہ بڑے بڑے صحابہ جس شہر میں موجود ہوں اور وہاں ان کے شاگرد ہزاروں میں ہوں اس جگہ ولید جیسے لوگوں کو مسلط کرنا باعث انتشار ہی ہوگا، اسی کے بارے میں روایت ہے کہ فتح مکہ کے وقت یہ بچہ تھا، ساری خواتین اپنے بچوں کو رسول اللہ کے پاس لائیں، آپ نے سب کے لئے دعا فرمائی مگر ولید کے سر پر نہ ہاتھ پھیرا نہ اس کے لئے دعا کی، مروان مہرخلافت کا غلط استعمال کرتا تھا، عبداللہ ابن ابی سرح اور عمرو ابن العاص کی مصر پر اقتدار کی جنگ نے عثمان کے خلاف اسکندریہ میں عمرو ابن العاص کے اشارے پر پہلی بغاوت کو جنم دیا، ان دونوں کی رسہ کشی نے اہل مصر کو مجبور کیا کہ وہ دربار خلافت سے ان کو ہٹا کر کسی تیسرے گورنر کی تقرری کی مانگ کریں،عثمان کے مقرر کردہ یہی گورنر ان کے خلاف بغاوت اور قتل کی وجہ بنے، اور پھر اسی گروہ نے قصاص عثمان کے نام پر عالم اسلام میں فتنہ پھلایا، دین کو مسخ کیا، شامی مسیحیوں کی مدد سے خلافت راشدہ کو ختم کیا اور اہل بیت و ان کے حامیوں کا قتل عام کیا، یہاں تک کہ خلافت کے حامی اہل یمن کے معصوم بچوں کو بے دردی سے ہلاک کیا اور مسلم خواتین کو جنگی غلام بنا کر بیچنے کا گھناؤنا کارنامہ انجام دیا، اسی لئے بعض لوگ یہ گمان کرنے لگے تھے کہ معاویہ ظاہر میں مسلمان ہے مگر باطن سے مسیحی ہو گیا ہے، کربلا میں نہ صرف حسین کی لاش پر گھوڑے دوڑائے بلکہ خیموں میں پناہ لئے معصوم بچوں کو ان جنگی گھوڑوں سے روند کر ہلاک کیا جن کے ٹاپ کا وزن جدید تحقیق کے مطابق پینسٹھ سے ایک سو پندرہ کلو تک ہوتا ہے،شہر نبی مدینہ کو پامال کیا اور وہاں کی ہزاروں پاکدامن خواتین کو منافق اور مسیحی کافر افواج کے ذریعہ عصمت دری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی ہزار بنا باپ کے بچے پیدا ہوئے، مدینہ میں اتنا قتل عام مچایا کہ سارے بدری صحابہ تک قتل کر دیئے، علی علیہ السلام پر خوارج نے کفر اور شیعان عثمان نے نفاق کے فتوے لگائے یہاں تک کہ امام اوزاعی کا کہنا ہے کہ مجھے اس وقت تک سرکاری مراعات نہیں ملیں جب تک کہ میں نے اس بات کا اقرار نہ کر لیا کہ علی منافق تھے، اوزاعی حکومت بنو امیہ کے سرکاری فقیہ تھے جن کا فقہ مشرق وسطیٰ میں عباسیوں کے غلبے کے بعد دوسو سال تک اسپین میں رائج رہا پھر ختم ہوگیا، خلیفہ ثانی عمر بن خطاب نے سچ کہا تھا کہ اگر تم عثمان کو خلیفہ بناؤگے تو اس کی نیکی اپنے گھر والوں کے لیے ہی ہوگی، سلیمان بن صرد کوئی معمولی صحابی نہیں تھے جنہوں نے حسین کو کوفہ بلایا تھا، ان کے بارے میں امام علی علیہ السلام نے جنگ صفین کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم وہ شخص ہو جو شہادت کا انتظار کرتے رہتے ہو اور اپنے عہد و پیمان میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں لاتے ہو، یہ بھی واقعہ کربلا کے وقت ابراہیم بن مالک اشتر اور مختار ثقفی کی طرح قید میں تھے، انہوں نے ہی واقعہ کربلا کے بعد جنگ عین الوَرده میں توابین کی قیادت کی اور اپنے بیشتر ساتھوں کے ساتھ 90 سال کی عمر میں شہید ہوئے، کتب احادیث و فقہ کی کتابیں فلاں مسئلے میں اہل کوفہ کا قول یہ ہے کی سطروں سے بھری پڑی ہیں، کہیں پڑھا تھا کہ اگر حج سیکھنا ہے تو مکہ والوں سے جنگ سیکھنی ہے تو مدینہ والوں سے اور فقہ سیکھنا ہے تو کوفہ والوں سے سیکھو، اگر آپ کوفہ والوں کی توہین کرتے ہیں تو اہل بیت اور ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ دین کے ایک بڑے حصے کی بھی توہین کرتے ہیں، وہ دور نفاق کے حاوی ہونے کا تھا سو حق باطل خلط ملط ہوا اور ہوتاچلا گیا، حسین اور ان کی راہ پر چلنے والے اپنا لہو دے دے کر حق اور باطل کو واضح کرتے رہے، اب نفاق کی چھٹائی کا دور ہے، فی الحال لوگوں کو حق اسی طرح دیکھائی دے رہا ہے جیسا لاک ڈاؤن میں آسمان کی گرد چھٹنے کے بعدسیدھا چاند الٹا نظر آنے لگا تھا، علی کی شہادت کے بعد سے آج تک جس سیدھے چاند کو غبار آلودہ کرکے الٹا بتایا گیا ہےاسے مطلع صاف ہوجانے کے باوجود بھی سیدھا قبول کرنے میں لوگوں کو تھوڑا وقت تو لگے ہی گا۔