اہل سنت میں بھی بارہ "امیر "یا "خلفاء" کا مضبوط نظریہ موجودہے، جس پر کتب احادیث میں کئی مستند اور متواتر احادیث وارد ہیں پر صرف اہل بیتؑ اور شیعہ مخالفت میں لوگ اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ خود اپنی ان احادیث کو سامنے نہیں لاتے جو اہل تشیع اور اہل سنت میں مماثلت رکھتی ہیں اور ان پر دونوں مسلکوں کے محدثین کا اجماع ہے، مسند احمد جلد نہم حدیث نمبر 949 میں جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ دین اس وقت تک قائم رہے گا جب تک قریش کے بارہ خلیفہ نہ ہوجائیں، یہ بات کئی کتب احادیث میں تھوڑے بہت الفاظ کے فرق سے درج ہے جیسے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے، روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےیہ مکہ میں حجۃالوداع کے موقع پر فرمایا تھا اور اس وقت جابرؓ کے والد سمرہؓ بھی وہاں موجود تھے جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ بات صرف بنوہاشم سے منسوب نہیں بلکہ اس کا تعلق تمام قریش سے ہے، دراصل یہ فرمان نبویؐ سن کر لوگ نعرہ تکبیر لگانے اور شور مچانے لگے تھے اور راوی کو صاف سنائی نہیں دیا تھا کہ یہ بات قبیلہ قریش سے تعلق رکھتی ہے یا قریش کی کسی مخصوص شاخ سے جس پر بعد میں اختلاف ہوا، صحیح مسلم جلد سوم حدیث نمبر 214 میں بھی یہ فرمان موجود ہے کہ تم پر بارہ خلفاء حاکم ہوں گے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا اس دن جمعہ کی شام تھی اوراسی دن ماعز اسلمی نامی شخص کو مدینے سے باہر حرّہ نامی جگہ رجم کیا گیاتھا، صحیح بخاری جلد سوم حدیث نمبر 2129 میں بھی بارہ کی تعداد کے ساتھ یہی حدیث درج ہے پر لفظ خلیفہ کی جگہ امیر موجود ہے، مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 1853 میں یہ حدیث ابن مسعودؓ کے حوالے سے درج ہے مگر اس میں قریش کا ذکر نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح ہوں گے، بارہ خلیفہ قریش سے ہونے کا فرمان ہونے کی وجہ سے بنو امیہ اور اس کے بعد بنو عباس اس حدیث کو خود پر فٹ کرتے تھے کہ وہ سارے خلفاء انہیں میں سے ہوں گے، سنن ابوداؤد جلد سوم حدیث نمبر 1242 میں درج ہے کہ بنو امیہ حضرت علیؓ کو خلیفہ نہیں سمجھتے تھے، اسی طرح بے شمار روایات میں ہے کہ بنو امیہ کے ہمدرد بہت سے لوگ حضرت علیؓ کے ساتھ تھے پر ان کی اطاعت نہیں کرتے تھے، انہیں خلیفہ تسلیم کرنے میں تذبذب کا شکار تھے، قاتلین عثمانؓ کی بھی مجبوری تھی کہ فی الحال علیؓ کو خلیفہ تسلیم کرلیں ورنہ وہ شاید اسی وقت ہی بیج کو نہ بچتے، بعد میں موقع ملتے ہی ان سب نے مل کر خوارج کی شکل میں باقاعدہ بغاوت کی تھی جس کے نتیجے میں نہروان جنگ ہوئی تھی، جامع ترمذی جلد دوم حدیث نمبر 109 میں ہے کہ بنوامیہ سمجھتے تھے کہ خلافت ان میں ہے یعنیٰ اس پر ان کا حق ہے، یہ بات کسی نے حضرت سفینہؓ سے کہی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں یہ لوگ تو بدترین بادشاہوں میں سے ہیں۔
ابن ابی شیبہ جلد نہم حدیث نمبر 7827 میں حضرت ابو الربابؓ اور ان کے ایک ساتھی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ذرغفاریؓ کو نماز بعد دعا میں یوم البلاء اور یوم العورۃ کے دن سے پناہ مانگتے ہوئے سنا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یوم البلاء یعنیٰ مصیبت کا دن، اس میں مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے، یوم العورۃ یعنیٰ ستر کھولنے کا دن سے مراد یہ ہے کہ بلاشبہ مسلمان عورتیں قید کی جائیں گی اور ان کی پنڈلیوں کو کھولا جائے گا، ان میں سے جو کوئی موٹی پنڈلی والی ہوگی اسے موٹی پنڈلی کی وجہ سے خرید لیا جائے گا، میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ میں یہ زمانہ نہ پاؤں، پر تم دونوں اس زمانے کو پاؤ گے، راوی کہتے ہیں حضرت عثمانؓ کو شہید کردیا گیا، (پھر مسلمانوں نے ایک دوسرے کوقتل کیا) اور معاویہؓ نے(40 ھ میں) بسر بن ابی ارطاۃ کو یمن بھیجا، اس نے مسلمان عورتوں کو قید کیا پھر ان عورتوں کو بازار میں بیچنے کے لیے کھڑا کیا گیا، یعنیٰ مسلمانوں میں ملوکیت کی بنیاد ہی ظلم و ستم اور جبر پر رکھی گئی ہے تو مسلمان گروہ میں آخر کیوں نہ بٹیں؟ کیوں نہ لڑتے رہیں؟ کیوں نہ ایک دوسرے کو قتل کرتے پھریں؟ یاد رکھیں کہ جبر ناانصافی ظلم گروہ بندی کو جبکہ صرف عدل ہی اتحاد پیدا کرتا ہے، خلافت راشدہ کے بعد کی حکومتوں کو خلافت کہنا ہی ظلم ہے، وہ جابرانہ و ظالمانہ ملوکیت تھیں ہیں اور رہیں گی، کنزالعمال جلد ہفتم حدیث نمبر 3570 میں عبداللہ بن عمروؓ سے مروی ایک حدیث نقل ہے جس میں وہ نزول عیسیٰؑ کا واقعہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ عیسیٰؑ روح اللہ امیرالمؤمنین کے پیچھے نماز پڑہیں گے تو ایک شخص ان سے سوال کرتا ہے کہ کیا سو سال میں قیامت آجائے گی؟ اور دوسرا پوچھتا ہے کہ کیا وہ امیر معاویہؓ ہونگے؟ تاریخ کو چھوڑ دیں تو بھی اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے معتقدین انہیں مہدی گمان کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ سو ڈیڑھ سو سال میں قیامت آجائے گی، عبداللہ بن عمروؓ نے انہیں جواب دیا کہ نہیں وہ معاویہ نہیں ہونگے، نہ ہی کسی کو یہ پتہ ہے کہ قیامت کب آئے گی، اس کا علم تو صرف اللہ ہی کو ہے۔
ظلم وستم میں بنو عباس کا حال تو بنوامیہ سے بھی چار ہاتھ آگے تھا ان کی کہانی بھی سبھی کے علم میں ہے، مشکوۃ شریف جلد پنجم حدیث نمبر 796 میں ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ایک مرتبہ عباسؓ کی اولادوں کو پیر کے دن اپنی چادر مبارک اڑھائی اور دعا کی کہ خداوند عباس اور ان کی اولاد کو بخش دے اور ظاہر و باطن کی ایسی بخشش عطا فرما جو کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے، الہٰی عباس کو ان کی اولاد میں قائم و محفوظ رکھو، ترمذی نے اسے غریب حدیث کہتے ہوئے اس دعاء کے آخر میں یہ الفاظ زیادہ نقل کئے ہیں کہ امارت و بادشاہی کو ان کی اولاد میں باقی رکھنا، اسی لئے عباسی خود کو اہل بیت کہتے تھے اور دعویٰ کرتے تھے کہ بارہ خلفاء ان میں سے ہونگے، چنانچہ کنزالعمال جلد ششم حدیث نمبر 1326 کی حدیث میں عبداللہ بن عباسؓ کی طرف سے معاویہ بن ابی سفیانؓ کو لکھا گیا ایک خط درج ہے جس میں دعویٰ ہے کہ وہ بارہ خلفاء عباسی ہونگے، دراصل اسلام میں امامیہ اثنا عشریہ فرقہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے حجۃالوداع کے بارہ خلافت امارت یا امامت والے فرمان اور پھر "غدیر خم" کے واقعے کے بعد سے ہی وجود میں آگیا تھا، مسند احمد، ابن ابی شیبہ، سنن ابن ماجہ، سنن کبری للبیہقی وغیرہ میں براء بن عازبؓ، زید بن ارقمؓ، جابر بن عبداللہؓ، جابر بن سمرہؓ، ابوہریرہؓ، ابو سعیدخدریؓ، انس بن مالکؓ،اور جریر بجلیؓ جیسے جلیل القدر صحابہ اکرام غدیرخم کے راوی ہیں، کبار تابعین کی روایات میں تیس کی تعداد تک بدری صحابہ اس کے گواہ ملتے ہیں اور اس وقت کثیر مجمع تھا جس میں قبیلہ جہینہ مزینہ اور غفار کی بڑی تعداد تھی جب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا تھا کہ"مَنْ كُنْتُ مَوْلاٰهُ فَعَلِيٌ مَوْلاٰهُ" یعنیٰ جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں، اور بہت سی روایات میں یہ بھی کہ اے اللہ جو علی سے دوستی کرے تو اس سے دوستی فرما اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما جو علی کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے تو اسے تنہا فرما، علیؓ کے مخالف خوارج و نواصب کا کہنا ہے کہ یہ افسانہ اور من گھڑت ہے پر نہ اس کے راوی ضعیف ہیں نہ ہی سند کمزور ہے، بلکہ یہ حدیث بھی مرفوع متواتر اور مکرر ہے، ابن ابی شیبہ جلد نہم حدیث نمبر 1837 میں براء بن عازبؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ اس کے بعد حضرت عمرؓ ان سے ملے اور فرمایا کہ اے ابو طالب کے بیٹے ! تمہیں مبارک ہو، تم نے ہر مومن مرد اور مومن عورت کے مولا ہونے کی حالت میں صبح و شام کی، یہ روایت مسند احمد حدیث نمبر 356 میں بھی موجود ہے، مشکوۃ شریف جلد پنجم حدیث نمبر 720 میں امام احمد سے یہاں تک روایت نقل ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک موقع پر جب کہ ان کے مخالفین کا گروہ ان کی خلافت کو نزاعی مسئلہ بنائے ہوئے تھا، لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرکے ان سے فرمایا کہ میں تم سے ہر ایک کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے غدیر خم کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنا تھا وہ بیان کرو تو اس پر تیس صحابہ نے کھڑے ہو کر یہ حدیث بیان کی اور خلافتِ علیؓ کے حق میں شہادت دی تھی، یہ بات مسند احمد جلد ہشتم حدیث نمبر 1104 میں بھی نقل ہوئی ہے، اس حدیث کے گواہان میں حضرت ابوایوب انصاریؓ جیسے جلیل القدر صحابی بھی شامل ہیں، کنزالعمال جلد ہفتم حدیث نمبر 332 میں یہ اس اضافہ کے ساتھ نقل ہے کہ اس کے بعد اس مجمع میں موجود وہ لوگ جو غدیر خم میں تھے اور انہوں نے اس موقعہ پر جانتے ہوئے بھی علیؓ کے حق میں گواہی چھپائی تھی وہ دنیا میں ہی اندھے ہوکر یا برص کے مرض میں مبتلا ہوکر مرے تھے۔
میں نے بہت سے اعلیٰ درجے کے علماء اہل سنت کی تحریریں پڑھیں ہیں جس میں افسوس کہ وہ ملوکیت کے دفاع اور اثنا عشریہ کے رد میں واقعہ غدیر خم کو افسانہ تک قرار دیتے نہیں شرماتے نہ خدا سے ڈرتے ہیں یا شاید انہیں حقیقت کا علم ہی نہ ہو، اسی لئے تنازعہ تبرا بازی اور گالی گلوج تک پہنچ جاتا ہے، مثال کے طور پر ایک مشہور سنّی عالم دین مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعت کے صفہ نمبر/ 54 پر لکھتے ہیں کہ جب کوئی صاحب علم و دانش آدمی بھی ایک غلط عقیدہ قائم کرلیتا ہے اور اس کی حمایت کے لئے کمربستہ ہوجاتا ہے تو انتہائی درجے کی بے تکی جاہلانہ اور سفیہانہ باتیں بھی اس سے سرزد ہوتی ہیں، اور انہوں نے ہی اسی کتاب میں صفحہ/40 پر غدیر خم کے واقعے کو افسانہ قرار دیا ہے اور اس افسانے کو شیعت کی اساس و بنیاد بھی، 18/ذی الحجہ/10ھ کو مکہ سے واپسی پر حجفہ کے پاس غدیر خم کے مقام پر جو واقعہ پیش آیا وہ افسانہ نہیں تلخ حقیقت ہے پر ہم میں سے جو لوگ احادیث کا سیدھا مطالعہ نہیں کئے ہوئے اور علم الحدیث سے واقفیت نہیں رکھتے یا جنہوں نے صرف ایک دوسرے کے فقط رد میں لکھی گئی کتابوں کو ہی پڑھ رکھا ہے وہ اسے افسانہ کہیں گے کیوں کہ غدیرخم کی حدیث اہل سنت سے چھپائی جاتی اور اسے جھٹلایا جاتا ہے تاکہ نفرت قائم رہے اور گروہ بندی زندہ رہے، دوسری بات یہ ہے کہ شخصیت پرستوں کے گلے سے یہ نیچے نہیں اتر سکتا کہ ان کے اکابرین و بزرگوں سے لغزشیں بھی ہوسکتی ہیں، سنن کبری للبیہقی جلد نہم حدیث نمبر 7073 میں عبداللہ بن عمرو بن عوف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عالم کی لغزش سے بچو اور اس کے رجوع کا انتظار کرو، سنن دارمی جلد اول حدیث نمبر 216 میں زیاد بن حدیرؓ بیان کرتے ہیں حضرت عمرؓ نے مجھ سے دریافت کیا کہ کیا تم یہ جانتے ہو اسلام کو کیا چیز تباہ کرتی ہے زیادہ کہتے ہیں میں نے جواب دیا کہ نہیں، حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا عالم شخص کی لغزش، منافق شخص کا قرآن کے بارے میں بحث اور گمراہ کرنے والے پیشواؤں کی حکمرانی اسلام کو تباہ کردے گی، عربی بہت وسیع ہے، اس میں کئی کئی الفاظ کے معنی کے لئے ایک لفظ استعمال ہوتا ہے اور ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنیٰ بھی ہوتے ہیں پر ہم اہل سنت نے ہمیشہ صدیق کا مطلب صدیق ہی سمجھا اور مانا، فاروق کا مطلب فاروق ہی سمجھا اور مانا، غنی کا معنیٰ غنی ہی سمجھا اور مانا پر افسوس کہ مولا کا مطلب آج چودہ سوسال بھی نہیں سمجھ سکے، شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے کہ ہم نواصب کی شرارتوں کے زیر اثر مولا کے ستائیس معانی تلاش کرتے ہیں، کاش کہ ہم مولا کے معانی مولا ہی سمجھیں اور مانیں، مولا کہنا علیؓ کا حق ہے، کاش ہم اہل سنت خلفائے ثلاثہ کی طرح علیؓ کا حق بھی اداکرنے والے بن جائیں اور چوتھے خلیفہ راشد کا جب بھی نام لیں تو مولا کے ساتھ لیں۔