عشرکیا ہے؟
عشرکیا ہے؟
عشرایک اہم دینی و شرعی غیرمنصوصہ المصارف واجبہ ہے جو نظام الہیہ پراثرانداز ہوتا ہے،اگراس سےغفلت برتی جائے توانسانی معاشرے کوفصلوں کی خرابیوں،موسم کی گڑبڑیوں،بارشوں کی غیر درستگیوں،سیلابوں اور زلزلوں کی کثرتوں وغیرہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا ہم آئے دن مشاہدہ کررہے ہیں،عشرانسانوں پر ایسا خدائی حق برائے مخلوق الہیٰ ہے جوپچھلی تمام امتوں پرفرض رہا ہے اور آج بھی ایک خدااوراس کی صفات پریقین رکھنے والے تمام انسانوں پر واجب ہے،یہ پیداوارکے علاوہ انسانوں کے لئے کارآمد ہر اس قیمتی چیز یا ذخائر پربھی عائدہوتا ہے جو زمین اگلے یا اسے زمین سے نکالا جائے جیسے معدنیات کوئلہ تیل گیس قیمتی پتھر دفینہ اور دیگر قدرتی وسائل،اس کے واجب ہونے کی شرط5/وسق یعنیٰ 60/صاع یا 653/کلوگرام اناج کی پیداوار یاموجودہ دورمیں کسی بھی جائز تجارت سے گیہوں کی قیمت کو پیمانہ مان کر اسی مقدار کے بقدر حاصل مالیت کی کیش آمدنی ہے،اگر آمدنی کے حصول کےلئے بیوپاریوں باغبانوں اور کسانوں کومحنت ومشقت اورسنچائی دوا وغیرہ کرنی پڑے تو پانچ فیصد (5٪) اوراگرحاصل ہونے تک محنت ومشقت اورسنچائی دوا وغیرہ نہ کرنی پڑے تو دس فیصد(10٪)عشرواجب ہے،اس پر سال گزرنے کی کوئی قید نہیں ہے بلکہ جس وقت تمام لاگت نکال کرپھل اناج چیز یا آمدنی حاصل ہوجائے تو اس پراسی وقت عشراداکرناواجب ہوگا،جو لوگ خمس نہیں نکالتے ان کے لئے سالانہ بچت پر زکواۃ کی شرط کے ساتھ الگ سے عشربھی فرض ہے۔
خمس کیاہے؟
خمس سال بھر کی آمدنی یا منافع سے گھریلو ضروری اخراجات نکالنے کے بعد جو دولت رقم وغیرہ باقی بچ جائے اس پر (20٪) واجب ہے،اسی طرح پیداوار،معدنیات و دفینہ، کان کنی، موتی، قیمتی پتھر، اور دیگر قدرتی وسائل سے جمع مال دولت پر سال مکمل ہوجائے تو اس پر بھی خمس واجب ہے،جولوگ عشر کوشامل کرکےخمس اداکرتے ہیں ان پرعشرساقط ہوگا۔
فطرہ کیاہے؟
فطرہ عیدالفطر کاچاند نکل آنے کے بعدہرمسلمان پر واجب اورعید کی نماز سے پہلے ادا کرنا لازم ہے چاہے اس نے روزے نہ رکھے ہوں یا نماز نہ پڑھتا ہو،اگرکوئی بھول جائے اور نمازکے بعداداکردے تو اس صورت میں اداہوجائے گالیکن فطرہ کا ثواب نہیں ملے گا،یہ ہر اس شخص پر واجب ہے جوعید الفطر کاچاندہوجانے تک زندہ رہاہو چاہے اسے چاند ہونے کی اطلاع ملی ہو یا نہ ملی ہو،اور اس شخص پر جواپنی و اپنے اہلِ خانہ کی بنیادی ضروریات سے زیادہ مال رکھتا ہو،ہرشخص اپنے زیرِکِفالت افراد جیسے، بیوی بچے والدین بھائی بہن وگھر کےدیگر ماتحت افرادکی جانب سےنصاب کے مطابق اس کی ادائیگی کرے۔
صدقہ کیاہے؟
صدقہ ہر اس خیرات کو کہا جاتا ہے جو اللہ کے نام پر اس کی رضا کے لئے کسی خاص مد میں دی جائے چاہے پھر وہ فرض ہو واجب ہو یا نفل ہو،عشر خمس زکوٰۃ فطرہ کفارہ وصیت عہدمنت یا نذر وغیرہ صدقہ واجبہ ہیں، جبکہ غریبوں یتیموں حاجتمندوں اورمسکینوں کوخدا کی خوشنودی کے لئے صدقہ واجبہ کے علاوہ میں سے عطاکرنا یا صدقہ صحت وغیرہ نکالنا نفلی صدقہ ہے،نفلی صدقہ کی کوئی مقدار طے نہیں ہے، یہ خدا کی خوشنودی کے حصول کے لئے اس کی بارگاہ میں اس کے بندے کا کیا گیا ذاتی معاملہ ہے۔
زکواۃ کیا ہے؟
سونا،چاندی،گندم،جو،کھجور،کشمش،اونٹ،گائے،بھنیس،بکری،بھیڑ،یاموجودہ دورمیں ان کی جگہ لے لینے والی چیزوں جیسے اونٹ کی جگہ موٹرگاڑیوں پراس صورت میں ڈھائی فیصد(2.50٪) زکوٰۃ فرض ہوگی جب انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ سال گزرجانے کے بعد بھی ان میں سے کوئی چیزکسی کے پاس نصاب سے زیادہ کی مقدارمیں محفوظ رہے،یعنیٰ اگر کوئی شخص عشرفطرہ صدقات وعطیات کی ادائیگی کرتا ہے، پھرسال ختم ہوجانے پراس کے پاس کسی بھی صورت میں اتنی مالیت باقی ہے کہ وہ گھریلوضروریات نکالنے کے بعد صاحبِ نصاب ہے تو اس کی سال بھرمحفوظ رہی اس دولت ومالیت پر ڈھائی فیصد(2.50٪) زکوٰۃ فرض ہے،خمس نکالنے والوں پر زکوٰۃ اس صورت میں الگ سے فرض ہوگی جب وہ سونا،چاندی،گندم،جو،کھجور،کشمش،اونٹ،گائے،بھنیس،بکری،بھیڑ،وغیرہ غنائم کوخمس نکالتے وقت چھوڑ دیں۔
عطیہ کیا ہے؟
عطیہ یا ہدیہ وہ چیز ہے جسے کوئی شخص اپنی خوشی سے کسی دوسرے کو دے چاہے پانے والا غریب ہویا امیر ہو،عطیہ دینامستحب ہے،انعکاسِ حیاتِ رسول ڈاکٹرسیدہارون حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ عطیہ دیتے اور دینے والوں سے بہت خوش ہوتے تھے،اسے اس لئے سب سے زیادہ باعث ثواب قرار دیتے کہ اس کی ہی بنیادپرحضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خاتم النبین حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شناخت ومعرفت حاصل کی تھی،اور یہ کہ خدا کی خوشنودی اس کی مخلوق کو خوش کرکے سب سے زیادہ حاصل ہوتی ہے یعنیٰ اس کا معاملہ سیدھا حقوق العباد سے جڑا ہوا ہے،وہ اپنے قائم کردہ ادارے "جامعہ عربیہ تعلیم الاسلام"کے لئے گھرخاندان اوربستی میں عطیات کی مہم چلوایا کرتے تھے اورمحصلین سے کہتے کہ وہ پہلے لوگوں سے عطیات کی گزارش کریں پھر واجبات کی بات کریں،مساجد مدارس یاعام رفاحی کاموں کے لئے یہ سب سے بہترین مد ہے۔
صاحبِ نصاب کون ہے؟
ہر وہ مسلمان جس کے پاس مال و دولت اور وسائل بنیادی حاجات گھر، کپڑے،تعلیم، کھانے پینے کا خرچ،سواری،کاروباری اوزار وغیرہ ضروریات سے زائد ہوں،اتنا مقروض نہ ہو کہ مالیت نصاب سے کم ہوجائے اور عشرنفل صدقات وعطیات کی ادائیگی کے بعد بھی بچت پر ایک سال گزرجائے،اگرکسی کے پاس موجوداضافی نقدیا بینک کھاتوں کی رقم،فیکسڈڈپوزٹ، مالِ تجارت وغیرہ سونے یا چاندی کی مالیت کے برابر ہو جائے تو سونا چاندی نہ ہونے پر بھی وہ صاحب نصاب ہوگا، نصاب کی مقدار 7.5 تولہ (تقریباً 87.48 گرام)سونا یا 52.5 تولہ (تقریباً 612.36 گرام) چاندی ہے،چونکہ سونااور چاندی میں لگاتار ڈیکلائننگ سلور ریشؤ جاری ہے اس لئے ساڑے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کو سات سے ضرب دے کر جو رقم حاصل ہوگی وہ ساڑے سات تولہ سونے کی اصل قیمت برائے نصاب شمار ہوگی چاہے سونا جتنا بھی مہنگا کیوں نہ ہو۔
حولانِ حول کیا ہے؟
حولان کا معنیٰ سال کا گزر جانایا پوراہو جانا اور حول کا معنیٰ سال ہے، یعنیٰ "حولانِ حول" کا مطلب ایک نصابی سال کا مکمل ہوجاناہے اور اسی اعتبار سے دینی واجبات کا حصہ نکالا جاتا ہے، فی الحال حولانِ حول سب کے لئے ایک ساتھ مقررنہیں ہے، لیکن ہر صاحبِ نصاب ماہ رمضانُ المبارک میں واجبات کی ادائیگی کرتا ہے اور دینی خدمات سے جڑے لوگ عام طور پر اسی ماہ میں دینی واجبات جمع کرنے کے لئے اسفارکرتے ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ لوگ حولانِ حول کے مطابق رقومات نکالیں،کسی بھی واجبہ کی مد میں ایڈوانس ادائیگی درست ہے جسے حولانِ حول کے اختتام پر سالانہ شرعی مالی محاسبہ کے وقت کل مقدارِ واجبہ میں سے گھٹا دیا جائے گا، اگر لوگ نزول قرآن کے ماہ کو بنیاد مان کر01/شعبان المعظم تا 29 یا 30/رجب المرجب کو ہرحولانِ حول کی سالانہ مدت مان لیں تو بہ آسانی شعبان میں واجبات کا حساب کتاب کرکے یکم/رمضان المبارک سے واجبات کی ادائیگی کرسکتے ہیں۔ واللہ اعلم
پروریٹڈ واجبہ کیا ہے؟
حولان حول برابر کرنے کے لئےمتناسب یا پروریٹڈ یعنیٰ مدت کے مطابق واجبہ نکالا جاسکتا ہے،مثال کے طور پر کسی نے محرم الحرام سے تجات شروع کی اور رجب المرجب میں اس کے پاس بچت نصاب کی مقدار یااس سے زیادہ ہوگئی لیکن ابھی سال نہیں گزرا تواس صورتحال میں اگروہ شخص12/ماہ کے بجائے7/ماہ کا واجبہ نکال دے تو یہ درست ہے،اس طرح تمام لوگوں کا حولان حول یکساں اورمفیدہوگا۔
مثال کے طور پر کسی نےربیع الاول سے کاروبار کا آغاز کیا تواسےمکمل شمار کرتے ہوئے رجب المرجب تک کل5/ماہ ہوں گے،اس پرمقدارواجبہ پہلےاسی طرح نکالی جائے گی جیسے عام طور پر نکالی جاتی ہے،پھر کل حاصل مقدارواجبہ کو12/سےتقسیم کرکے5/سےضرب دئیے جانےپرمتناسب یا پروریٹڈ واجبہ کی مقدار نکل آئے گی،یعنیٰ حولان حول جتنے ماہ کا ہوگا12/سےتقسیم کے بعداتنے ہی سے ضرب دئیے جانے پر اس "حولان حول جاری" کا پروریٹڈ واجبہ حاصل ہوجائے گا اور"حولان حول بعدی وقبلی" کا حساب کتاب بھی بہتر ہوگا۔انشاء اللہ
ہمارے ٹرسٹ کواپنےدینی واجبات کٹیگری کے مطابق منتقل کرنے کے لئے ذیل لنک کو کلک کریں، خدا آپ وآپ کے گھروالوں کوسکون عافیت کشادہ رزق حلال اورصحت وتندرستی کے ساتھ عمر درازعطافرمائے۔ آمین