بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَهُوَالَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ۔كُلُوْامِنْ ثَمَرِهٖٓ اِذَآ اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ۔وَلَا تُسْرِفُوْا۔اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ۔الانعام۔141
یعنیٰ اللہ وہ ہے جس نے باغات پیدا کیے،جن میں سے کچھ (بیل دار ہیں جو) سہاروں سے اوپر چڑھائے جاتے ہیں،اور کچھ سہاروں کے بغیر بلند ہوتے ہیں،اور نخلستان اور کھیتیاں،جن کے ذائقے الگ الگ ہیں،اور زیتون اور انار،جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں،اور ایک دوسرے سے مختلف بھی،جب یہ درخت پھل دیں تو ان کے پھلوں کو کھانے میں استعمال کرو،اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو اللہ کا حق ادا کرو،اور فضول خرچی نہ کرو، یاد رکھو، وہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔
عشر کیا ہے؟اس دورمیں اس کا اطلاق کیسے کیا جائے؟اس کو کہاں اورکس کس پر خرچ کیا جائے؟اس کی تفصیلات طےکرنا تو اہل علم لوگوں کی ایک ایسی جماعت کا کام ہے جس میں صرف اس کے ماہرین ہوں،مگر افسوس تو یہ ہےکہ ہم مذہبی معاملات میں اہل علم حضرات کو پتہ نہیں کیا سمجھ بیٹھے ہیں جو ان کے فکری ونظریاتی اختلاف رائےکو اپنی اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیتے اورانتشارزدہ ہوکرآپس میں جھگڑنے لگتے ہیں،اگر کسی مسئلےپردوعالموں کی باتوں میں فرق پایا جاتاہے تو ایک کوصحیح دوسرے کوغلط ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں، یہی رویہ ہم دور جدید کے دوسرے نظاموں کے اختلافات پر کیوں نہیں اپناتے؟بات عشر کی چل رہی ہے تو یہ بتاتا چلوں کہ عصر حاضر میں دنیا نے ویلیو ایڈیڈ ٹیکس(ویٹ)،سروس ٹیکس (ایس ٹی)یاگُڈ اینڈسروس ٹیکس(جی ایس ٹی) وغیرہ کے نام سے جومالی یا تجارتی ٹیکس کا نظام اپنا رکھا ہے وہ اسلامی نظام کائنات سے لیا گیا عشر کا ہی منظم نظام ہے،ہم سوتے رہےاغیار جاگتے رہے،ہم زبان سے کہتے رہے کہ اسلامی نظام حیات رہتی دنیا تک کے لئے ہے مگرعملاًجمود کا شکار ہوگئے،ضروری اصلاحات یا ترتیب بدلنےکوبھی بدعت قرار دے دیا،چاہے اس کا مقصد دور جدید سے ہم آہنگی ہی کیوں نہ رہا ہو،نتیجتاً اپنی قیمتی اصل چیزیں اوراصول وضوابط بھی ترک کرتے گئے وہ اپناتے گئے،ہم بھولتے گئے وہ سمجھتے گئے،ہم ذلیل ورسوا ہوتے گئے وہ عروج کے زینے طے کرتے گئے،انہوں نے مقاصد وہی رکھتے ہوئےاپنی سہولتوں کے مطابق اس میں تبدیلیاں اوراپنےآئین کے تحت اصلاحات کیں،اور ہم نے انہیں غیروں کا نظام سمجھ لیا، پھر کیا تھا،اس بات کی بھی فکر نہیں کی کہ کم سے کم یہ تو کرلیتے کہ موجودہ عالمی نظاموں میں جو باتیں اسلامی نظام سے ہٹ کرجوڑی گئی ہیں، انہیں نکال کراسے اختیار کرنے کی بات ہی مسلسل کرتےرہتے،ہم نے توطیش میں آکر سب کے سب کوغیراسلامی قراردے دیا۔
خیراصل پر آتے ہیں کہ دورحاضر میں ہم اپنا سالانہ آڈیٹ کسی منظور شدہ چارٹیڈ اکاؤنٹینٹ(سی۔اے) سے کراتے ہیں،الگ الگ(سی اے)الگ الگ طریقوں سے آڈیٹ کرتے ہیں،ان کے سرکاری قوانین کے اطلاق کے طریقوں میں فرق ہوتا ہے تو ہم یا وہ (سی اے) خودایک دوسرے کے پیچھے آخرکیوں نہیں پڑجاتے کہ فلاں (سی اے) غلط اورفلاں صحیح ہے،لوگوں فلاں کے پاس مت جانا، وہ گمراہ ہوگیاہے،جاہل ضال مضل ہے،ملک کے آئین میں چھیڑ چھاڑ کا مرتکب ہے،وغیرہ وغیرہ،اسی لئے نا کیونکہ اس کا قانون کےنفاذ کا طریقہ تو مختلف ہوسکتا ہے مگر ملکی آئین کے خلاف نہیں، ٹھیک اسی طرح علمائے دین اللہ کے نظام کے سی اے ہیں جن کا مقصد بھی اللہ کےنظام کا اطلاق کرنا ہوتا ہے،جن کےنفاذکےطریقوں میں اختلاف ہوسکتا ہے مگرکوئی عمل دین کے خلاف ہرگزنہیں ہوسکتا،تو جس کا طریقہ آسان اچھا اورشریعت سے زیادہ قریب ہواسے اپنائیں باقی کو ترک کردیں، دوسرے علماء کو غلط یا برا بھلا مت کہیں یا ثابت کریں، کیونکہ سب کا مقصد ایک ہی ہے،طریقے الگ الگ ہوسکتے ہیں،اورطریقوں میں اختلاف پر تنقید ورجوع کا کام انہیں کا ہے،ہمارا بالکل بھی نہیں۔
کبارالتابعین حضرت زیاد بن حدیر اسدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓنے مجھ سے دریافت کیا، کیا تم یہ جانتے ہو اسلام کو کیا چیز تباہ کرتی ہے؟ زیادؒ کہتے ہیں میں نے جواب دیا کہ نہیں،حضرت عمر ؓنے ارشاد فرمایا،عالم شخص کی لغزش، منافق (نفاق زدہ)شخص کا قرآن کے بارے میں بحث کرنا، اور گمراہ کرنے والے پیشواؤں کی حکمرانی اسلام کو تباہ کردے گی،(سنن دارمی/جلد اول/حدیث نمبر 216،مشکوۃ شریف/جلد اول/حدیث نمبر 256)، مطلب یہ کہ جب سے ہم نے ان تینوں معاملات میں آنکھیں کھلی رکھنے سے غفلت برتی انحطاط کا شکار ہوئے،انہیں زیادبن حدیر سے روایت منقول ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے عشر دینے والا میں ہوں،(ابن ابی شیبہ/جلد نہم/حدیث نمبر 6042) اور ایک جگہ روایت ہے کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے اسلام میں عشر وصول کیا،(ابن ابی شیبہ/جلد سوم/حدیث نمبر 2497) غالباً ایسا اس لیے ہے کہ جب حضرت عمر فاروق ؓنے منظم عشرکا نظام ترتیب دیا پھر اس کا باقاعدہ شعبہ الگ کرکے نفاذ کیا تو زیاد نے عشر ادا کرنے میں پہل کی اورحضرت عمرؓ نے انہیں ہی اس کا نگراں مقرر کردیا،اورپھر انہوں نے وہ مقدار خود اپنے پاس ہی جمع کرلی ہو،آج کل بھی مساجد میں چند ہ اکٹھا کرتے وقت اس قسم کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں،مؤطا امام محمد کی ایک روایت ہے کہ زیادبن حدیر کوحضرت عمرؓنے بعد میں کوفہ کے عشر کانگراں بھی مقرر کیا تھا،ایک روایت یہ ہے کہ حضرت عامر فرماتے ہیں کہ منظم نظام کے تحت عشر سب سے پہلے حضرت عمر ؓبن خطاب نے مقرر فرمائے۔(ابن ابی شیبہ/جلد نہم/حدیث نمبر 6006)
ابن جریج سے روایت ہے کہ سورۃ الانعام کی یہ آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ الٰی آخر) خطیب رسولؐ حضرت ثابتؓ بن قیس بن شماس (جن کو اللہ کے رسول نے جنتی ہونے کی بشارت بھی دی تھی) کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے اپنے باغ کےکھجور کے درختوں سے پھل توڑا اور لوگوں کو اتنا کھلایا کہ شام کے وقت ان کے پاس کچھ نہ بچا، (سیوطی/121، طبری 8/ 45، قرطبی 7/ 110)، ابو عالیہ سے بھی ایک روایت ملتی ہے کہ اس وقت (عہد نبویؐ میں) لوگ زکوٰۃ کے علاوہ بھی کچھ مال غرباء وفقراء ومساکین پر خرچ کیا کرتے تھے پھر وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں حد سے زیادہ خرچ کرنے لگے تو یہ آیت نازل ہوئی ،اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زکوۃ سے اضافی اللہ کے راستے میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنے کا صحابہ اکرام ؓ کے یہاں رواج اس قدر تھا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں منع فرمایا کہ نہیں اس میں سے خود بھی کھاؤ پیو،اللہ کا حق بھی ادا کرو اوربلا وجہ اضافی خرچ مت کرو، کفار مکہ کے یہاں بھی پیداوار میں سے کچھ حصہ بتوں، دیوی دیوتاؤں کے لئے نکالے جانے کا رواج تھا۔
قرآن مجید میں بہت سی جگہوں پراللہ کے عطا کردہ مال ودولت میں سے ایک حصے (جواچھا اور زیادہ سے زیادہ ہو)کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی تلقین کھلم کھلا کی گئی ہے، جس کا حکم وطریقہ زکوۃ سے بالکل الگ ہے، اور اس کا اطلاق عشر کی صورت میں دور نبویؐ میں رہا، عہد صدیقی میں بھی رہا، اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں منظم نظام کے تحت اسلامی ریاست کے زیرنگرانی متحرک ہوا، پھراسلامی حکومتوں کے مختلف ادوار میں کمی زیادتی اور واجبات منصوصہ کے احکام میں گڈمڈ کے ساتھ نافذ العمل رہا، عشر سابقہ شریعتوں اور یہود ونصاری کے یہاں بھی رہا ہے، اللہ کا دیا اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی یاد دہانی قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر ہے، چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے۔
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ ھُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ۔الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ ۔ البقرۃ ۔3
یہ کتاب(قرآن)ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے (اللہ کا) ڈر رکھنے والوں کے لئے،جو(اللہ اوررسولؐ کی بتائی) بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔
وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ۔ وَاَحْسِنُوْا۔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ۔ البقرۃ ۔195
اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو،اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو،اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ۔آل عمرآن ۔ 92
تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لیے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں،اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو،اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
اللہ کا دیا اللہ کے راستے میں خرچ کرنےکا تعلق سیدھا حقوق العباد سے ہے،چاہے یہ حق خود ادا کیا جائے،چاہےکسی تنظیم یاکچھ نیک لوگوں کے ذریعہ انہیں ذمہ دار بنا کر،چاہے حکمرانوں یا پھرعادل اشخاص کے ہاتھوں اوربے شک اس کام کے لئے عادل لوگ ہی بہترین لوگ ہیں، ایسا کسی بھی صورت میں کرنا لازمی ہے اور نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص خود کو اپنے آپ ہلاکت میں ڈال لے،ہم ایک امت کی شکل میں اس سے عملی انحراف کرکے اجتماعی طور پر تباہی میں پڑچکے ہیں، یہی وجہ ہے جواللہ کی مخلوق پر اللہ کا دیا خرچ ہونے کا نظام مفلس اورغریب ہے،ہم ذاتی طور پرغنی مگرامت کی شکل میں مفلوک الحال ہیں،عادل لوگ تنگدست اورظالم وجابر مالدار ہیں،اسی لئے حقوق العباد کی ادائیگی مفقودہے اور ظالموں کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں، اللہ والےعادل لوگ وسائل کی کمی کی بدولت کمزور ہوکر نظام عدل سے دور اورظالم طاقتور ہوکراس پر حاوی ہیں،عدل ہی اسلامی نظام کائنات کی اصل روح ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ دولت کی تقسیم کےاسلامی نظام کومنظم کرکے اس کے ذریعہ حقوق العباد کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، تاکہ اسلام کا نظام عدل ظالموں کی گرفت سے آزادہوکرپھرسےقوت پکڑے، یہ آفاقی سچ ہے کہ حقوق العباد کو چھوڑ کر اسلامی نظام عدل ممکن ہی نہیں،اور بنا نظام عدل کے قیام کی عملی سعی کے،اسلام کا علمبرداراور ماننے والے ہونے کا دعوی کرنے والے جھوٹے،فریبی ،مکاراور نفاق زدہ ہیں،حقیقت میں وہ ایمان والے ہرگز ہرگز ہو ہی نہیں سکتے جنہیں حقوق العباد کی قطعی پرواہ نہیں، جنہیں مسلکی اختلافات خوب ازبر ہیں،اور جوگروہ پرستی کے دفاع میں پیش پیش مگرانفاق اورحقوق العباد کے تعلق سے کچھ سنا اور بولنا جنہیں گوارہ نہیں،یقیناً ایسے لوگ تو کھلے منافق ہی ہو سکتے ہیں۔
انفاق فی سبیل اللہ کے تعلق سے قرآن کی آیتوں کو غورفکر کے ساتھ سمجھا جائے توچونکہ اس میں خرچ کرنے کی بات امریعنیٰ حکم کے صیغے میں ہے اس لئے زمین پر اگنے والی ہر قسم کی کارآمد کھانے پینے کی چیزیں، چاہے وہ ذاتی استعمال کے لئے ہوں یا بغرض تجارت،اس پر اس وقت عشر واجب اورخمس نہ اداکرنے کی صورت میں فرض ہے جب فصل یا مال تیار ہوچکا ہو، پھر جب پیداوار کی کٹائی تڑائی یاتیار مال کےنکالنےکی ساعت آئے تو اللہ کا حق ادا کیا جائے، اگر کھیتی یاتجارت کوئی اس قسم کی پیداوار یا صنعت ہے جو وقفے وقفے سے قابل استعمال یا فروخت کے لائق بنتی یابنائی جاتی ہے،تو جس دن جتنی مقدار اس قابل ہوجائے یا بنائی جائے،اس پراس وقت اللہ کا حق واجب ہوگا،پھر اس پر آنے والے اخراجات اورحصول کی نوعیت کی تفصیلات کے مطابق علماء سے دریافت کریں کہ اب انفاق فی سبیل اللہ کی مقدار دس فیصد ہوگی یا پانچ فیصد، کیونکہ اللہ کا حق ادا کرنے کی قرآن نے تو کوئی مقدار مقرر نہیں کی ہے، مگر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، پھر صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، پھر ان کے بعد والوں کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ عام طورپر اس کی مقدار دسواں حصہ اورکھانے پینے کی اشیاء اورمال ودولت کے حصول کے طریقے اورمحفوظ رہنے کی نوعیت کے اعتبار سےکم زیادہ بھی ہے، کچھ چیزیں اس سے مستثنیٰ بھی ہوسکتی ہیں، زکوۃ کی طرح قرآن میں عشر کا کوئی واضح حکم نہیں جس میں عشر نام سے کسی حکم کا اطلاق کیا گیا ہو مگر اللہ کے حق سے مراد عشر ہی ہے،چنانچہ حضرت سالم اور حضرت ابن حنفیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قول ( وَآتُوا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ) کٹائی کے دن اللہ کا حق ادا کرو کو عشر اور نصف عشر نے منسوخ کردیا ہے، (ابن ابی شیبہ/جلد سوم/حدیث نمبر 2377 )،ایک روایت میں حضرت ابراہیم بھی فرماتے ہیں کہ اس آیت کو عشر اور نصف عشر نے منسوخ کردیا ہے،(ابن ابی شیبہ/جلد سوم/حدیث نمبر 2378 )، اسی طرح حضرت ابن عباس بھی فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیت (وَآتُوا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ) کو عشر اور نصف عشر نے منسوخ کردیا ہے،(ابن ابی شیبہ/جلد سوم/حدیث نمبر 2392)اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عہدخلافت راشدہ میں لوگ اللہ کے حق کی ادائیگی کی منظم شکل کو ہی نظام عشر مانتےتھے، مگراس طرح قرآن کا یہ حکم کہ کٹائی کے دن اللہ کا حق ادا کرو منسوخ نہیں ہوا کیوں کہ ایک روایت میں حضرت سدی فرماتے ہیں کہ یہ آیت مدنی مکی ہے،اس کو عشر اور نصف عشر نے منسوخ کردیا ہے،راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کس نے منسوخ قرار دیا ہے؟ آپ نے فرمایا فقہاء کرام نے،(ابن ابی شیبہ/جلد سوم/حدیث نمبر 2385 ) یعنیٰ اس قسم کی منسوخی عارضی ہوتی ہے جوضرورت پربحال کی جاسکتی ہےاوراس کی وضاحت یہ ہے کہ جب ریاستی سطح پر عشر کے حصول اورخرچ کا منظم نظام عمل میں آیا، تب لوگوں نےعشر ریاست کو دینا شروع کر دیا، تو اس وقت کے فقہاء اکرام نے لوگوں پر سے مزید الگ سے اوربھی دینے کا حکم ساقط کر دیا، یعنیٰ جہاں اسلامی ریاست کا وجود نہ ہو،یا جہاں پر حکومت مسلمانوں کی مگر شریعت کا نفاذنہ ہو وہاں عشر کا نظام (وَآتُوا حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ) کٹائی کے دن اللہ کا حق ادا کرو کے تحت لوگوں پر ذاتی طور سے واجب ہوگا، عشر کا ایک منفرد معاملہ یہ بھی ہے کہ یہ ان لوگوں کو بھی دیا جا سکتا ہے جن کو زکوۃ نہیں دی جاسکتی کیوں کہ اس کا امر واجباتِ مصارفِ غیرمنصوصہ میں سے ہے، یہاں تک کہ اگر اس مد سے کسی کو کوئی وظیفہ وغیرہ ملتا ہے تو اس کی ر قم سے زکوۃ کی ادائیگی بھی کی جا سکتی ہے۔
تاریخ: 09/جون/2018ء