یعنیٰ ان کی رقومات اللہ کے راستے میں قبول کیے جانے میں رکاوٹ کی کوئی اور وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا معاملہ کیا ہے،اور یہ نماز میں آتے ہیں توکسمساتے ہوئے آتے ہیں اورکسی نیکی میں خرچ کرتے ہیں تو برا مانتے ہوئے یابے دلی سے خرچ کرتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کا بتلایا نظام حیات صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں جنات،حیوانات،نباتات سمیت سبھی حیات رکھنے والی مخلوق کائنات کے لئے حقوق وضع ہیں،لہذا اللہ کے رسولؐ نے جانوروں سے بھی ان کی طاقت سے زیادہ کام لینے کو منع فرمایا،فصلوں،ہرے پیڑ پودوں،چرندوں پرندوں کو بھی بنا ضرورت مارنے کاٹنےکو پسند نہیں فرمایا،یہاں تک کہ سرکش حشرات الارض کو بھی بلامقصدنقصان پہنچانااسلامی نظام حیات میں درست نہیں،یہ دنیا کاواحدایسانظام حیات ہے جس کا اطلاق فضاء میں اڑان بھرنے والوں سے لے کر سمندروں کی گہرائی میں رہنے والوں تک ہوتاہے،اللہ کا عطاکردہ امن کا یہ نظام حیات کسی حکومت، ریاست، اسٹبلشمنٹ، سرکار، الیکشن، کرسی، بادشاہ، صدر، وزیراعظم، وائس چانسلر، بادشاہت، شہنشاہیت،سوشلزم، کمیونزم، ڈکٹیٹرشپ، جمہوریت، وغیرہ کی سرپرستی کا محتاج نہیں، بلکہ یہ تو خود اللہ اور اللہ کے نظام حیات کے محتاج ہیں، اسلام امن کا ایسانظام کائنات ہے جو اللہ کے بندوں کے لئےخود سے اپنالینے والا ہے، دلوں کوفتح کرنا اس کی تاثیر ہے، سرتھوپے جانا اس کی فطرت نہیں، اختیارکرنا بنی نوع انساں کی ضرورت ہے۔
دورحاضر میں حق اور باطل اتنا خلط ملط ہوگیا ہے،اب جسے الگ کرپانا اللہ کی ہی روحانی مدد سے ممکن ہے ورنہ کسی کے بس کی بات نہیں، دراصل ہم یعنیٰ امت مسلمہ نے قرآن وشریعت سے تعلق اختیار رکھنےمیں نفاق کا معاملہ کیا،دنیا پراس کے حقیقی نفاذ کے بجائے اپنے اپنے اغراض ومقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا،جس کی وجہ سے مسائل اور بھی پیچیدہ ہوگئے،موقع پاکردجالی نظام نے یہود ونصاریٰ کا سہارالیا اوران کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کے مصادر کو اپنا کر انہیں اپنے خودساختہ طورطریقوں سے ڈھک لیا،سب سے زیادہ جانکاراورحاکم دنیا ہونے کے زعم میں ہم الفاظ کے داؤں پیچ میں ایسا الجھے ایسا الجھے کہ اسلامی تعلیمات کے ان مصادرکوبھی رد قرار دے ڈالا جنہیں دجالی نظام نے برائیوں میں لپیٹ کراپنالیاتھا،چنانچہ ہم جمہوریت، مادیت، بشریت، سرمایہ داریت، انفرادیت،اشتراکیت،اشتمالیت،سیکولرزم، لبرل ازم، کمیونزم وغیرہ وغیرہ کو صاف ستھرا کرنے کے بجائے پیچیدگی کے بھنور میں ایسا پھنسے ایسا پھنسے کہ آج تک نہ نکلے۔
اللہ کے رسولؐ کی دعوت کا طریق وطرز عمل تویہ تھا کہ آپؐ یہود یوں سے ان کے شرعی احکامات کے تعلق سے فرماتے ، تم یہ جو کر رہے ہوکیا اسے اپنی کتابوں میں ٹھیک اسی طرح پاتے ہو؟ پھرجووہ سچ کہتے آپؐ بھی اس کی تصدیق فرماتے،اگر غلط سلط بتاتے تو ان کے بڑوں کو بھی طلب کرلیتے، ان سے ان کے احکام شریعت کی اصلاح خود کرواتے، اگروہ بھی صحیح غلط کواپنے مفاد کے مطابق خلط ملط کرتے اورگمراہ کرنا چاہتے تو آپؐ اصلاح فرماتے کہ یہ نہیں بلکہ یہ درست ہے،جو تم کہہ رہے ہواس میں سے صرف اتنا ہی حق ہے اتنا نہیں،پھرجو درست پاتے اس کو شریعت اسلامی میں بھی شامل فرمالیتے،ہمارااصلاح نظام کائنات کا طریقہ کار تو یہ ہونا چاہئے تھا۔
پس شمع رسالتؐ کے پروانوں کو اب چاہیئے یہ کہ اقوام عالم کے نظاموں کے تعلق سے اپنے آقامحمدرسول اللہؐ کا وہی طرز عمل اختیار کریں جو آپؐ نے یہود کے ساتھ اختیار کیا تھا،ہرباطل انسانیت مخالف بات کے سامنے ڈٹ جائیں کہ فلاں فلاں انسانی نظام حیات کے نعروں کے تحت جو تم یہ اور یہ کرتے ہو وہ تو ہمارا ہے،چلوہم بھی اسے اپناتے ہیں،مگر جو یہ یہ کر رہے ہو وہ دجال کو مبارک، یہ تو انسانوں کے نظام حیات کا جز ہے ہی نہیں، یہ تو تم پرابلیس کی طرف سے مسلط کیا ہوا فسادہے تاکہ انسانوں پر دجالی نظام مسلط ہوسکے، اگر تم اس سے منحرف نہیں ہوتے تو جھوٹے ہو ،مکار ہو، تب توتم دجال کے پجاری ہو، انسانیت کی رہنمائی کے لئے ہمیں ہمارے اورتمہارےپیدا کرنے والے خالق کائنات نے جوآخری کتاب عطاکی ہے اس نے تمہارے فریب سے ہم کوبچا لیا ہے،(تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ)پس آجاؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیاں یکساں ہے،پھر جب وہ یہ بھی نہ مانیں تواقوام عالم سےکہیں، اے دنیا بھرمیں بسے والے تمام انسانوں جو یہ یہ تمہیں بتا یاجارہاہے وہ انسانوں کا نظام ہرگزنہیں یہ تو دجالی اورشیطانی نظام ہے، یہ تمہیں غلام بنانے کا فریب ہے، اسے اپنانا اپنے مالک حقیقی سے کھلی نافرمانی کرنا ہے، مگر ایسا تب ممکن ہے جب ہم قرآن کو اپنے اپنے مسلک و نظریے کا نہیں، انسانی نظام حیات کا ترجمان بنا لیں،اور یہ اس صورت میں کیسے ممکن ہے؟ جب ہم منبرومحراب سے تو اپنے اپنے گروہ کا دفاع اوردوسروں کا ردکریں، پھر عاجزی کے ساتھ دونوں ہاتھ اٹھا کر دل ہی دل میں میں قرآن وسنت نہیں بلکہ صرف اپنے ہی گروہ کے نظریات وخیالات پر امت کے جمع ہونے کی خواہش وتمنا کے ساتھ دعا کرائیں کہ یا اللہ امت مسلمہ کو اتحاد واتفاق اور اجتماعیت پر کھڑا کردے۔
یہ آواز تو کرب وتکلیف میں ڈوبے ہر امت پرست کے دل کی آوازہے، جس کا کوئی اظہار کرپاتا ہے کوئی نہیں، بات اصل یہ ہے کہ اب ہمیں اللہ کے دئیے مال ودولت کو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا منظم نظام عمل میں لانا ہی ہوگا ورنہ ہماری ساری فکریں وکوششیں سابقہ جدوجہد کی طرح ریت کا گھروندا ثابت ہونگیں،اجتماعی طورپرایک مضبوط ٹھوس لائحہ عمل طے کرنا ہی ہوگا جس پر چل کر ہم پھراندھیروں سے نکلیں اور روشنی سے سارے جہاں کو منور کریں،سب سے اہم بات تو یہ ہے،سوچیں فکر کریں کہ وہ کیا باتیں ہیں جو ہمارا مال صحیح لوگوں تک نہیں پہنچ پاتا، جہاں لگنا ہوتا ہے وہاں نہیں لگ پاتا، تو اس کی وجوہات میں ایک بات یہ ہے کہ ہمارے مقاصد میں کہیں نہ کہیں نفاق پرستی موجود ہے جو ہمارا مال اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں، ہم دین کے کام میں لگےصحیح لوگوں کو دھوکا دیتے اور اپنے اپنےمفاد کے لئے ان لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں جو ہرگزہرگز درست نہیں ہوسکتے ہیں،اسی لئے ہم پر اللہ کی رحمت نہیں اترتی، ہم سودی نظام سے محتاط نہیں،کہیں نہ کہیں ہمارے دلوں میں یہ چھپا ہے، نظام ہی ایسا ہے، سب چلتا ہے،ہماری نمازیں تو اللہ خیر وہی جانےان کا حال،ہم نیک لوگوں یا نیکیوں پر غیرمطمئن دل اور دیکھلاوے پر شوق وذوق سےخرچ کرتے ہیں، یقیناً یہی حق ہے جو ہمارا مال اللہ کے درست کاموں کے لئے قابل قبول نہیں ہوتا، پھر ہم ہزارگلے شکوے کرتے رہتے ہیں۔