یعنیٰ کھلی بات ہے کہ ہم نے تم انسانوں کوزمین میں رہنے کاٹھکانا دیا،اور اس میں تمہارے لیے روزی کے اسباب پیدا کئے،پھربھی تم لوگ شکرکم ہی اداکرتےہو۔
دنیا میں جتنے بھی انسانی نظام حیات ہیں ان سب کی کامیابی کا بنیادی محورصرف دو چیزیں ہیں، پہلا علم دوسرامعیشت،علم انسان کوفکرکرناسوچناسیکھلاتاپھرکوئی نظام حیات تشکیل پاتا ہے،اور اس کوعمل میں لانے کے لئے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے،وسائل بھی دنیامیں قدرتی طورپرموجود ہیں جنہیں علم کی بنیادوضرورت کے مطابق مرتب ومستعمل کرکے انسان ایک معاشی نظام کی صورت میں ترتیب دے لیتا ہے،پھر لوگوں کایہی معاشی استحکام نظام حیات کومستحکم ومنظم کرنے میں علم والوں کی مدد کرتا ہے،اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ تعلیم اورمعیشت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں توکوئی برائی نہیں،اب یہ الگ مسئلہ (علماء دین کے طے کرنے کے لئے) ہے کہ کن کن قدرتی وسائل کو معیشت بنایا جائے،کن کن کو نہیں یا بقدر ضرورت،اورجنہیں اس بات کا علم واس کے نفاذ کا طریقہ پتہ ہےحقیقی معنوں میں وہی قیادت اوررہنمائی کے لائق ہیں،چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے،رشک (جائز) نہیں مگر دو شخصوں کی عادتوں پر،(پہلا) اس شخص کی عادت پر جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اس مال پران لوگوں کو قدرت دے جو اسےراہ حق میں صرف کریں اور(دوسرا) اس شخص (کی عادت) پر جس کو اللہ نے علم عنایت کیا ہواور وہ اس کے ذریعہ سے حکم (اطلاق عمل)کرتا ہواور (لوگوں کو) اس کی تعلیم دیتا ہو۔(بخاری)
اسلام توخالق کائنات کا بتلایا ہواانسانیت کے لئے امن وامان کا گہوارہ مکمل نظام حیات ہے،جو سیدناحضرت آدم علیہ الصلوۃ السلام سے شروع ہو کر نہ جانے کتنے انبیاء،رسولوں،پیغمبروں،نبیوں سے ہوتا ہوا،حضرت نوحؑ،ابراہیمؑ،یوسفؑ،موسیٰ ؑ،وعیسیٰ ؑ، تک پہنچا،پھرنبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکمل ہوا،اس لئے شک کی گنجائش نہیں کہ اس میں کہیں بھی ذرا بھی کھوٹ ہے،اگر کھوٹ ہے تو ہماری نفاق زدہ نیتوں میں ہے،اگر کھوٹ ہے تو ہمارے نفاق زدہ نفاذ شریعت کے طور وطریقے میں ہے،اگر کھوٹ ہے تو ہمارے نفاق زدہ دلوں کے ارادوں میں ہے جو لفاظی کوعلم سمجھ کر حق بات باطل کے ساتھ خلط ملط کردینے کا ذریعہ بن جاتے ہیں،اگر کھوٹ ہے تو ہمارے نفاق زدہ علم میں ہے جو ہم کام کو درست کرنے کی سوچنےکے بجائے ایک دوسرے کی کھینچا تانی میں مبتلا ہوکرنیکی پر عمل روکنے یا رکوانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں،اگر کھوٹ ہے تو ہماری نفاق زدہ فکروں میں ہے جو ضرورت کے مطابق شریعت کے احکامات کا نفاذ آگے پیچھے کرلینے پر ہم ایک دوسرے کوتحریفِ قرآن و شریعت کا مجرم ثابت کرنے میں تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں،کھوٹ تو ہمارے نفاق زدہ دماغ کی وسعتوں میں ہے جو ہم عملی کام کرنے والوں کی اصلاح کے بجائےان کی تحقیروتذلیل کے راستے تلاش کرنے کی جستجومیں حیران وپریشان رہتے ہیں، یہ یاد رکھیں کہ ہم شریعت کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کا نفاذ بھی چھوڑنے سے دستبردار نہیں ہونے والے مگراس حکمت عملی کو اختیار کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ شریعت کا کون سا حکم پہلے پھر کس کس کا اطلاق کب اور کیسے کیا جائے،اور یہی تفقہ فی الدین ہے۔
اسلام تو قیامت تک کے انسانوں کے لئے نظام حیات ہے مگر افسوس کہ ہم نے اسے خود کے لئے بھی عمل کے لائق نہیں چھوڑا ہے، جس بات کی ضرورت ہے اس سے لاپرواہ، جس کی نہیں اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے رہتےہیں، نتیجتاً پوری دنیا یہاں تک کہ اب جزیرۃ العرب کی مقدس سرزمین پر بھی ذلیل وخوار ہیں، اگر اب بھی نہ جاگے تو میدان محشر یعنیٰ انصاف کے دن جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ڈالے جانے کا فرمان سنائے جانے کے بھی مستحق ضرور ٹھریں گے، جہاں مخصوص نفاق زدہ لوگ ڈالے جائیں گے،استغفراللہ، اللہ ہی معاف کرے۔
اللہ کے نزدیک زکوۃ کس کس کاحق ہے اسے علماء حضرات سے پوچھیں،میں صرف اتنی بات کہہ کر اپنی اصل بات پر آؤں گا کہ مثال کے طور پر زکوۃ مسافروں کا حق یہ قرآن کا حکم ہے، مگر اس پرآسائش وآرام دہ دور میں سفر ومسافر کا اب وہ مطلب نہیں رہا جو سائنسی ایجادات وسہولیات سے پہلے تک تھا،اس لئے اگر اس پر رقوم زکوۃ کا (اس وقت تک جب کہ پھر سائنسی ایجادات وسہولیات ختم یا مفقود نہ ہوجائیں، یا ان جگہوں کو چھوڑکرجہاں مسافروں کو سہولیات کم یا نہ ہوں) اصراف کم کر کے غریب ونادار لوگوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم پر اخراجات بڑھا دیئے جائیں تو یقیناً سوفیصد حق ہے،ہاں اس بات کا دھیان رکھا جائے کہ جو کھانے پینے کے اخرجات اٹھانے کے بھی لائق نہیں ہیں پہلا مصرف ان کا کھانا کپڑا پھر انہیں خود سے کھانے کپڑے کے لائق بنانے کے اقدامات کے ساتھ ان کے بچوں کی تعلیم وتربیت،اور اگر وہ خود سےکھانا کپڑا جٹا لیتے ہیں تو پھر ان کے بچوں کی تعلیم وتربیت زکوۃ کا جائز وحقیقی مصرف ہے۔
اسلامی نظام حیات نے ہمیں اپنی معیشت کی اصلاح کے لئے عشر،خمس،فطرہ،زکوۃ،صدقات،عطیات وغیرہ کا ایسامستحکم ومکمل،سادہ اور آسان اجتماعی نظام معیشت عطا کیا جو مفت میں ہمیں مل گیا ہے،اس لئے دلوں میں اس کی قدر نہیں،جب قدرہی نہیں تو جاننے کی بھی ضرورت نہیں کہ اس دور میں اس کا اطلاق کیسے کیا جائے؟اور ان مدوں میں حاصل شدہ رقومات کا کیا کیا جائے؟تو یہ جان لیں کہ ان سبھی کا مصرف صرف اورصرف حقوق العباد کی ادائیگی ہے،اوراسلام کا نظامِ حقوق العباد مذہب ومسلک کی تفریق نہیں کرتا،حقوق العباداسلامی نظام انصاف اور عدل کا اہم جز ہے،اوراسلامی نظام عدل تو انسانوں اورحیوان میں بھی کوئی تمیز نہیں کرتا،حقوق العباد اورحقوق مخلوقات خدا کے تحت سب کے اپنے اپنے دائرےاورحقوق مطلوب ہیں جن کی ادائیگی علم والوں اورسرمایہ داروں کی ذمہ داری ہے،اگر وہ یہ نہیں کرتے تو دنیااورآخرت میں اللہ کی پکڑ سے ہرگزہرگز بچ نہیں سکیں گے۔