لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ،

عمرہ گائیڈ ( رہنمائے عمرہ ) 

مکمل زیارات مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ

سفرِ مبارک کی مکمل رہنمائی

پیشکش: لاریب رندھاوا ٹریول اینڈ ٹورز (پرائیویٹ) لمیٹڈ

ایڈریس: تحصیل آفس روڈ، بالمقابل لاء چیمبرز، گوجرہ

📄 مقدمہ: زائرینِ عمرہ کے نام پیغام

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے حد احسان ہے کہ اس نے آپ کو اپنے مقدس گھر کی حاضری اور عمرہ جیسی عظیم سعادت کے لیے منتخب فرمایا۔ یہ سفر زندگی کا سب سے مبارک اور یادگار سفر ہے۔

لاریب رندھاوا ٹریولز اینڈ ٹورز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے معزز زائرین کو سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ مناسکِ عمرہ کی ادائیگی میں بھی صحیح شرعی رہنمائی فراہم کریں۔ اسی مقصد کے لیے یہ مختصر مگر جامع کتابچہ تیار کیا گیا ہے تاکہ آپ کسی بھی غلطی کے بغیر، سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق اپنا عمرہ ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا یہ سفر اور عبادت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین!

الداعی: چیف ایگزیکٹو آفیسر: حاجی محمد ارشد رندھاوا

🕋 عمرہ کی فضیلت اور برکات

عمرہ اللہ ربّ العزّت کی بارگاہ میں ایک عظیم اور بہت بڑی عبادت ہے۔ یہ مومن کے دل کو صاف کرنے اور ایمان کو تازہ کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار عمرہ کرنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔" (بخاری و مسلم)

یعنی اللہ پاک بار بار عمرہ کرنے کی برکت سے انسان کے گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔

صرف یہی نہیں، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں عمرہ کو "حجِ اصغر" (چھوٹا حج) بھی کہا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"عمرہ، حجِ اصغر ہے۔" (سنن دارقطنی)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو بندہ خلوصِ نیت سے عمرے کی سعادت حاصل کرتا ہے، وہ گویا ایک چھوٹے حج کا ثواب اور برکتیں سمیٹ رہا ہوتا ہے۔

لاریب رندھاوا ٹریولز اینڈ ٹورز (پرائیویٹ) لمیٹڈ آپ کو اسی عظیم عبادت کی سعادت انتہائی پرسکون اور بہترین انتظامات کے ساتھ حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آئیے! اپنے سفرِ آخرت کو خوبصورت بنائیں۔

​📌 باب 1: سفر کی تیاری اور روانگی

​سفرِ عمرہ پر روانہ ہونے سے پہلے درج ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں 

​ضروری کاغذات: پاسپورٹ، عمرہ ویزا، شناختی کارڈ، فلائٹ ٹکٹ، اور ہوٹل واؤچرز کی کاپیاں ایک فائل میں اپنے پاس محفوظ رکھیں۔

​سامان کی تیاری: احرام (مردوں کے لیے دو سفید چادریں)، آرام دہ چپل، تسبیح، جیب میں رکھنے والی دعاؤں کی کتاب، اور اپنی روزمرہ کی ضروری ادویات۔

​سفر کی نیت: اپنے دل کو ہر قسم کی ریاکاری اور دنیاوی خیالات سے پاک کریں اور صرف اللہ کی رضا کے لیے عمرہ کی نیت کریں۔

​🤲 گھر سے نکلتے وقت کی دعا

​جب آپ عمرہ کے مبارک سفر کے لیے اپنے گھر کی چوکھٹ سے باہر قدم نکالیں، تو یہ مسنون دعا پڑھیں:

​"بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"

(اللہ کے نام کے ساتھ، میں نے اللہ پر بھروسہ کیا، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی توفیق نہیں مگر اللہ کی طرف سے)

​🕋 سواری پر بیٹھتے وقت (سفر کی مسنون دعا)

​جب آپ گاڑی، بس یا جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں، تو تین بار "اَللهُ اَكْبَرُ" کہیں اور پھر یہ قرآنی و مسنون دعا پڑھیں:

​"سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِیْنَ، وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ"

(پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے)

​📌 باب 2: احرام باندھنا، میقات اور پابندیاں

​عمرہ کا سب سے پہلا فرض احرام ہے۔

​طہارت: گھر یا ایئرپورٹ پر غسل کریں (یا وضو کریں)، ناخن تراشیں، زائد بال صاف کریں اور احرام کی چادریں باندھنے سے پہلے بدن پر خوشبو لگائیں۔

​احرام کے کپڑے: مرد دو سفید چادریں باندھ لیں (سیدھا کندھا ابھی ڈھانپ کر رکھیں)۔ خواتین اپنے عام پاکیزہ لباس کو ہی احرام بنائیں۔

​🕌 احرام کے وقت نماز کا صحیح طریقہ:

​اگر احرام باندھتے وقت کسی فرض نماز کا وقت ہو، تو پہلے فرض نماز ادا کریں۔ (سنتِ مبارکہ یہی ہے)۔

​اگر فرض نماز کا وقت نہ ہو، تو وضو کرنے کے بعد دو رکعت نفل (تحیۃ الوضو یا تحیۃ المسجد) کی نیت سے ادا کریں۔

​اہم شرعی مسئلہ: یاد رہے کہ خاص احرام کے نام کی کوئی مستقل یا الگ نماز نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ نفل صرف وضو کی طہارت یا مسجد کے ادب کے لیے ہوتے ہیں۔ مکروہ اوقات میں یہ نفل نہ پڑھیں۔

​🤲 نیت اور تلبیہ:

​میقات پر پہنچنے سے پہلے (یا جہاز میں اعلان ہونے پر) عمرہ کی نیت کریں:

 ​"اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اُرِيْدُ الْعُمْرَةَ فَيَسِّرْهَالیْ وَتَقَبَّلْهَا مِنِّیْ"

یا    اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ عُمْرَةً 

(اے اللہ! میں عمرہ کی نیت کرتا ہوں، اس کو میرے لیے آسان فرما اور میری طرف سے قبول فرما)

​نیت کے فوراً بعد مرد اونچی آواز میں اور خواتین دھیمی آواز میں کم از کم تین بار تلبیہ پڑھیں

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ

ترجمہ:میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔

بے شک تمام تعریفیں، نعمتیں اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں۔

 احرام کی پابندیاں (ممنوعاتِ احرام

نیت کرتے ہی آپ پر احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں، یعنی اب مندرجہ ذیل باتوں سے سخت اجتناب کریں

​انسانی جسم کی ساخت کے مطابق سلے ہوئے کپڑے پہننا (مردوں کے لیے)۔

​سر اور منہ کو ڈھانپنا۔

​خوشبو کا استعمال کرنا۔

​بال کاٹنا یا جسم کے کسی حصے سے اکھاڑنا۔

​ناخن تراشنا۔

میاں بیوی کے خاص تعلقات اور ایسی تمام باتوں سے دور رہنا۔"

​فحش باتیں کرنا۔

​شکار کرنا۔

​لڑائی جھگڑا کرنا وغیرہ وغیرہ۔

​🚌 دورانِ سفر

​سفر کے دوران زیادہ سے زیادہ تلبیہ پڑھتے رہیں۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، سواری پر سوار ہوتے ہوئے اور اترتے ہوئے زبان پر تلبیہ جاری رکھیں۔

​📌 باب 3: مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام  میں داخلہ 

مکہ مکرمہ میں داخلے کی دعا:

 اَللّٰهُمَّ هٰذَا حَرَمُكَ وَأَمْنُكَ، فَحَرِّمْنِي عَلَى النَّارِ، وَأَمِّنِّي مِنْ عَذَابِكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ أَوْلِيَائِكَ وَأَهْلِ طَاعَتِكَ.

ترجمہ: اے اللہ! یہ تیرا حرم اور تیری امن والی جگہ ہے، پس مجھے آگ پر حرام فرما دے، اور جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا اس دن مجھے اپنے عذاب سے امن عطا فرما، اور مجھے اپنے دوستوں اور اپنے فرمانبردار بندوں میں شامل فرما۔

مکہ مکرمہ میں پورے ذوق شوق، عظمت و محبت اور عاجزی کے ساتھ لبیک پڑھتے ہوئے اور دعائیں مانگتے ہوئے داخل ہوں۔ ہوٹل میں سامان رکھیں اور تازہ وضو کر کے پورے ادب کے ساتھ بیت اللہ کا رخ کریں۔

​مسجد الحرام  میں داخلے کی دعا

 مسجد الحرام میں دایاں پاؤں پہلے رکھیں اور یہ دعا پڑھیں 

​"بِسْمِ اللهِ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ، اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"

​بیت اللہ پر پہلی نظر: 

اللَّهُمَّ زِدْ هَذَا الْبَيْتَ شَرَفًا وَتَعْظِيمًا وَتَكْرِيمًا وَمَهَابَةً، وَزِدْ مَنْ شَرَّفَهُ وَكَرَّمَهُ مِمَّنْ حَجَّهُ أَوِ اعْتَمَرَهُ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا وَبِرًّا 

ترجمہ:اے اللہ! اس گھر (کعبہ) کی عزت، عظمت، شرف اور ہیبت میں اضافہ فرما، اور جو اس کی زیارت کرے اس کے شرف اور بزرگی میں بھی اضافہ فرما۔ 

کعبہ شریف پر جب پہلی نظر پڑے تو درود شریف پڑھیں اور دل کھول کر دعا مانگیں۔ یہ دعا کی قبولیت کا خاص وقت ہوتا ہے۔

​📌 باب 4: طوافِ کعبہ (عمرہ کا دوسرا فرض)

وضو کی حالت میں بیت اللہ شریف کے اردگرد سات (7) چکر لگانا طواف کہلاتا ہے۔ طواف کا آغاز اور اختتام ہمیشہ حجرِ اسود سے ہوتا ہے۔ طواف کے دوران کل 8 مرتبہ استلام (حجرِ اسود کا اشارہ) کیا جاتا ہے۔

​اضطباع (مردوں کے لیے): طواف شروع کرنے سے پہلے مرد اپنا سیدھا کندھا ننگا کر لیں (چادر کو دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال دیں)۔

طواف شروع کرنے کا مقام اور نشانی

بایاں کندھا بیت اللہ (کعبہ شریف) کی طرف کریں گے، تو آپ کے دائیں کندھے کے بالکل برابر (حرم کی دیوار پر) سبز رنگ کی لائٹ نظر آئے گی، جو حجرِ اسود کی سیدھ کی مکمل نشاندہی کرتی ہے۔ بس اسی سیدھ میں کھڑے ہو کر آپ نے طواف کی نیت اور پہلا استلام کرنا ہے۔

​پہلا استلام (چکر کا آغاز): حجرِ اسود کے سامنے پہنچ کر کعبہ کی طرف رخ کریں اور اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے حجرِ اسود کی طرف اشارہ کر کے   کہیں "بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرُ" اور ہاتھ نیچے چھوڑ دیں۔  ہر چکر میں اسی طرح ہی کرنا ہے: 

​اہم شرعی مسئلہ: دور سے اشارہ (استلام) کرتے وقت صرف دائیں ہاتھ کا استعمال ہی سنتِ مبارکہ سے ثابت ہے، دونوں ہاتھ اٹھانے کی صریح دلیل نہیں ہے۔ اسی طرح دور سے اشارہ کرنے کی صورت میں اپنے ہاتھ کو چومنا نہیں ہے، بلکہ صرف اشارہ کر کے ہاتھ نیچے چھوڑ دینے ہیں۔ (اگر براہِ راست حجرِ اسود تک پہنچنا ممکن ہو تو منہ سے چومنا یا ہاتھ لگا کر ہاتھ چومنا سنت ہے، لیکن ہجوم میں دور سے اشارہ کرتے وقت ہاتھ چومنا ثابت نہیں)۔

​رمل (مردوں کے لیے): طواف کے پہلے تین چکروں میں مرد ذرا اکڑ کر، پہلوانوں کی طرح شانے ہلاتے ہوئے چھوٹے قدموں کے ساتھ تیز چلیں (باقی 4 چکر عام رفتار سے پورے کریں)۔

​دورانِ طواف دعا اور ذکر: طواف کے چکروں کے لیے کوئی خاص دعا یا کلمہ پڑھنا نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔ آپ طواف کے دوران اپنی پسند کے مطابق کوئی بھی ذکر کر سکتے ہیں۔ سب سے افضل یہ ہے کہ آپ قرآن پاک کی تلاوت کریں، استغفار اور درود شریف پڑھیں، یا اپنی زبان میں اپنے اور پوری امت کے لیے دل سے دعائیں مانگیں۔ (اگر کوئی شخص عام ذکر کے طور پر سبحان اللہ، الحمد للہ، یا کلمہ طیبہ پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے، لیکن اسے طواف کی مخصوص دعا نہ سمجھے)۔

​رکنِ یمانی: جب رکنِ یمانی (حجرِ اسود سے پہلے کا کونا) پر پہنچیں تو اگر ہجوم نہ ہو اور آسان ہو تو اپنے دائیں ہاتھ سے اسے چھوئیں اور چھوتے وقت کہیں: "بِسْمِ اللہِ اللہُ اَکْبَرُ"۔

​اہم شرعی مسئلہ: رکنِ یمانی کو صرف ہاتھ لگانا اور تکبیر کہنا سنت سے ثابت ہے، اسے چومنا یا اس کی طرف دور سے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ اگر ہجوم کی وجہ سے ہاتھ لگانا ممکن نہ ہو تو دور سے اشارہ کیے بغیر خاموشی سے آگے بڑھ جائیں۔ رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کے درمیان یہ مسنون دعا پڑھیں:

​"رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ"

ترجمہ:اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ 

​اگلے چکر اور استلام: ہر چکر کے شروع میں حجرِ اسود کے سامنے پہنچ کر اسی طرح دائیں ہاتھ سے اشارہ (استلام) کریں۔ اس طرح سات چکروں کے شروع میں 7 استلام ہوں گے۔

​طواف کا اختتام (آٹھواں استلام): جب آپ ساتواں چکر مکمل کر کے دوبارہ حجرِ اسود کے سامنے پہنچیں، تو طواف کو ختم کرنے کے لیے دائیں ہاتھ سے آٹھواں استلام (اشارہ) کریں اور مقامِ ابراہیم کی طرف بڑھ جائیں۔ اب مرد اپنا سیدھا کندھا دوبارہ چادر سے ڈھانپ لیں۔

​📌 باب 5: طواف کے بعد کے اعمال اور نواں استلام

​طواف کے سات چکر اور 8 استلام مکمل کرنے کے بعد درج ذیل ترتیب اپنائیں:

​مقامِ ابراہیم: مقامِ ابراہیم کے پیچھے (یا مسجد میں جہاں جگہ ملے) دو رکعت واجب الطواف نماز ادا کریں۔

پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص پڑھنی ہے

آبِ زم زم 

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ 

ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والا علم، کشادہ رزق اور ہر بیماری سے شفا مانگتا ہوں۔ 

نماز سے فارغ ہو کر زم زم کے اسٹال پر جائیں، قبلہ رخ ہو کر پیٹ بھر کر زم زم پیئیں، دعا مانگیں اور کچھ پانی سر پر بھی ڈال دیں۔

​نواں استلام (سعی سے قبل): آبِ زم زم پینے کے بعد، صفا پہاڑی کی طرف جانے سے پہلے ایک بار پھر حجرِ اسود کے سامنے (سبز لائٹ کے پاس) آئیں اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دائیں ہاتھ سے نواں استلام (اشارہ) کریں۔ یہ سعی شروع کرنے سے پہلے کا مسنون طریقہ ہے۔

​📌 باب 6: سعی (صفا اور مروہ کے چکر)

​نویں استلام کے بعد اب آپ صفا پہاڑی کی طرف بڑھیں گے:

​صفا کی طرف پیش قدمی: صفا پہاڑی کی طرف جاتے ہوئے یہ آیت پڑھیں:

​"اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ

"صفا اور مروہ کی دعا 

صفا اور مروہ پہاڑی پر پہنچیں تو کعبہ شریف کی طرف رخ کر کےدونوں ہاتھ اٹھائیں اور تین مرتبہ یہ دعا پڑھیں، 

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ

  لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَ

ترجمہ:اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے ہی لشکروں کو شکست دی

اللہ کی حمد و ثناء بیان کریں، درود شریف پڑھیں اور دل کھول کر دعا کریں۔

​چکروں کی گنتی: صفا سے مروہ جانا 1 چکر ہے، اور مروہ سے واپس صفا آنا دوسرا چکر ہے۔ اس طرح چکر لگاتے ہوئے مروہ پہاڑی پر آپ کے 7 چکر مکمل ہوں گے۔ (یاد رہے: سعی ہمیشہ صفا سے شروع ہو کر مروہ پر ختم ہوتی ہے)۔

​سبز میلین (سبز لائٹیں): صفا اور مروہ کے درمیان جہاں چھت پر سبز لائٹیں لگی ہیں، وہاں مرد تھوڑا دوڑ کر (تیز) چلیں، جبکہ خواتین اپنی عام رفتار برقرار رکھیں۔

​سعی کا اختتام: مروہ پہاڑی پر ساتواں چکر مکمل کرنے کے بعد وہاں بھی قبلہ رخ ہو کر اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کریں۔ (سعی کے لیے وضو فرض نہیں لیکن ہونا بہتر ہے)۔

​📌 باب 7: حلق یا قصر (احرام کھولنا)

​مردوں کے لیے: پورے سر کے بال منڈوانا (حلق) سب سے افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے، یا پورے سر کے بالوں کو انگلی کے ایک پور کے برابر کٹوانا (قصر)۔

​خواتین کے لیے: اپنے بالوں کی چٹیا کے آخر سے ایک انگلی کے پور (تقریباً ایک انچ) کے برابر بال خود یا اپنے کسی محرم سے کٹوائیں۔

​یہ عمرہ کا آخری رکن ہے جس کے بعد آپ احرام کی تمام پابندیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔

حلق (بال منڈوانے) والوں کے لیے نبی کریم ﷺ کی دعا:( تین بار )

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ اے اللہ ! حلق ( بال منڈوانے والوں) کو بخش دے۔

قصر ( بال کٹوانے) والوں کے لیے نبی کریم ﷺ کی دعا:(ایک بار )

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُقَصِّرِينَ اے اللہ ! قصر ( بال کٹوانے والوں ) کو بخش دے۔

​الحمد للہ! آپ کا عمرہ مکمل ہو گیا۔ اب آپ غسل کر کے عام کپڑے پہن سکتے ہیں۔

تَقَبَّلَ اللَّهُ عُمْرَتَكُمْ         ترجمہ: اللہ پاک آپ کا عمرہ قبول فرمائے۔

عمرہ مکمل ہونے پرشکرانے کے نفل پڑھنا 

تھکاوٹ اور وضو کے حوالے سے ایک مفید شرعی رہنمائ  

​نفل پڑھنا ضروری یا واجب نہیں: یاد رہے کہ عمرہ مکمل ہونے پر شکرانے کے نفل پڑھنا ایک مستحب (پسندیدہ) عمل ہے، یہ عمرے کا کوئی فرض یا واجب حصہ نہیں ہے۔ اگر سعی کے بعد شدید تھکاوٹ ہو، تو نفل چھوڑنے سے عمرے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی۔

​نماز کے لیے طہارت کی شرط: چونکہ کسی بھی نماز یا نفل کی قبولیت کے لیے باوضو ہونا لازمی شرط ہے، اس لیے اگر سعی کے طویل سفر کے بعد آپ کا وضو قائم نہ رہا ہو یا آپ شدید تھکاوٹ محسوس کر رہے ہوں، تو مروہ پہاڑی پر جلدی میں نفل پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

​ہوٹل جا کر آرام سے پڑھنے کی سہولت: شکرانے کے نفل کے لیے کوئی جگہ یا وقت مقرر نہیں ہے۔ زائرین کے لیے سب سے پرسکون طریقہ یہ ہے کہ مروہ پر عمرہ ختم کر کے سیدھے اپنے ہوٹل جائیں، بال کٹوا کر احرام کھولیں، غسل فرما کر آرام کر لیں اور جب تھکاوٹ اتر جائے تو ہوٹل کے کمرے میں یا دوبارہ حرم پاک آ کر باوضو ہو کر پورے خشوع و خضوع کے ساتھ شکرانے کے نفل ادا کر لیں۔

​زبان سے شکر ادا کریں: اگر جسمانی تھکاوٹ زیادہ ہو، تو مروہ پہاڑی پر ہی کھڑے کھڑے دل سے اور زبان سے "الحمد للہ" کہہ کر اللہ پاک کا شکر ادا کر لینا بھی اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔

​📌 باب 8: مدینہ منورہ کی حاضری اور آداب

​مدینہ منورہ کا سفر عمرہ کا رکن تو نہیں، لیکن ہر مومن کی زندگی کی سب سے بڑی تمنّا ہوتی ہے۔

​سفر کا ادب: مدینہ منورہ جاتے ہوئے کثرت سے درود شریف کا ورد کریں۔

​مسجدِ نبویﷺمیں داخلہ:  مسجدِ نبویؐ  میں دایاں پاؤں پہلے رکھیں اور یہ دعا پڑھیں

​"بِسْمِ اللهِ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللهِ، اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِكَ"

انتہائی عاجزی، انکساری اور درود شریف پڑھتے ہوئے دایاں پاؤں پہلے رکھ کر مسجد میں داخل ہوں۔

​روضہ رسولﷺ پر با ادب حاضری: مواجہہ شریف (سنہری جالیوں) کے سامنے نہایت ادب سے کھڑے ہو کر آقائے دو جہاں ﷺ اور ان کے جلیل القد صحابہ کرام (حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ) کی بارگاہ میں سلام عرض کریں:

السلام عليك يا رسولَ الله ﷺ السلام عليك يا نبيَّ الله ﷺ السلام عليك يا خيرةَ خلقِ الله ﷺ

السلام عليك يا أبا بكرٍ الصِّدِّيق رضي الله عنه

السلام عليك يا عمرَ بنَ الخطاب رضي الله عنه

​ریاض الجنتہ: مسجدِ نبوی کا وہ حصہ جو جنت کا ٹکڑا ہے (سبز قالین والا علاقہ)۔ یہاں حکومتِ سعودیہ کی طے شدہ "نُسُک"ایپ کے ذریعے پرمٹ لے کر حاضر ہوں اور نفل نماز ادا کریں۔

​📌 باب 9: مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مقدس زیارات

​🕋 مکہ مکرمہ کی مشہور زیارات (بذریعہ ٹرانسپورٹ)

​جبلِ ثور (غارِ ثور): وہ مبارک پہاڑ جہاں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ہجرتِ مدینہ کے وقت تین دن پناہ لی تھی۔

​جبلِ رحمت اور میدانِ عرفات: حج کا سب سے بڑا رکن اسی میدان میں ادا ہوتا ہے اور جبلِ رحمت وہ پہاڑ ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع دیا تھا۔

مزدلفہ اور منیٰ (مقامِ قربانی و شبِ مزدلفہ): یہ حج کے دوران قیام کی مبارک جگہوں اور خیموں کا شہر ہے۔جس جگہ پر حاجیوں نے منی کی دن راتیں گزارنی ہوتی ہیں. یاد رہے کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا عظیم اور تاریخی واقعہ بھی اسی منیٰ کے میدان کے اندر ہی پیش آیا تھا۔

​🌌 مزدلفہ کی رات کا عبرت ناک منظر: مزدلفہ وہ مبارک مقام ہے جہاں حجاجِ کرام کو (9 ذوالحجہ کی) رات کھلے میدان کے اندر، اسی طرح زمین کے اوپر لیٹ کر، بغیر خیموں کے، بغیر ہوٹلوں کے اور بغیر کسی چھت کے گزارنی ہوتی ہے۔ لاکھوں انسانوں کا ایک ساتھ کھلے آسمان تلے زمین پر سونا آخرت کے میدان اور عاجزی کی سب سے بڑی یادگار ہے۔

​جبلِ نور (غارِ حرا): وہ عظیم پہاڑ جہاں نبی کریم ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔

​جنت المعلیٰ: مکہ مکرمہ کا تاریخی قبرستان جہاں ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ اور رسول اللہ ﷺ کے دیگر رشتہ دار اور صحابہ کرام مدفون ہیں۔

​مسجدِ جن: وہ تاریخی مساجد جہاں جنات نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔

مسجدِ فتح (مسجدِ رایہ): مکہ مکرمہ کے فتح ہونے کے دن جہاں رسول اللہ ﷺ نے اسلام کا جھنڈا نصب فرمایا تھا۔ یہ بھی حرم پاک کے قریبی بازاروں کے پاس ہے۔

🌳 مسجدِ شجر کی مختصر تاریخ اور معجزہ

​کافروں کا مطالبہ: ایک مرتبہ زمانۂ جاہلیت میں مکہ کے مشرکین اور کفار نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کی نبوت پر کوئی نشانی یا معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔

​درخت کو حکم: آپ ﷺ اس جگہ تشریف فرما تھے جہاں آج یہ مسجد قائم ہے۔ آپ ﷺ نے کفار کا مطالبہ سن کر وہاں موجود ایک درخت کی طرف اشارہ کیا اور اسے اللہ کے حکم سے اپنے پاس آنے کا حکم دیا۔

​درخت کی گواہی: وہ درخت زمین کو پھاڑتا ہوا، اپنی جڑوں سمیت چل کر آقائے دو جہاں ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو گیا اور اس نے اونچی آواز میں آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی۔

​اپنی جگہ واپسی: معجزہ دکھانے کے بعد آپ ﷺ نے درخت کو دوبارہ حکم دیا، تو وہ درخت فوراً واپس اپنی جگہ پر چلا گیا اور زمین پہلے کی طرح برابر ہو گئی۔

مسجدِ جعرانہ (مقامِ احرام اور لاریب رندھاوا ٹریول کی خصوصی پیشکش) 

مسجدِ جعرانہ : یہ مکہ مکرمہ کی وہ تاریخی اور متبرک مسجد ہے جہاں غزوۂ حنین کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت تقسیم فرمایا تھا۔ اسی مبارک جگہ سے آقائے دو جہاں ﷺ نے خود عمرہ کا احرام باندھا تھا، اسی لیے یہ ایک اہم میقات (احرام باندھنے کی جگہ) ہے۔ یہ خوبصورت مسجد مکہ مکرمہ سے تقریباً   30سے35 کلومیٹر کی دوری پر طائف روڈ پر واقع ہے۔

🌟 ہماری خصوصی پیشکش: لاریب رندھاوا ٹریول اینڈ ٹورز اپنے معزز زائرین کی سفری سعادت کو بڑھانے کے لیے مکہ مکرمہ کی عام زیارات کے ساتھ ساتھ خصوصی طور پر مسجدِ جعرانہ کی زیارت کا باقاعدہ اہتمام کرتی ہے۔ ہم اپنے زائرین کو صرف زیارت ہی نہیں کرواتے، بلکہ اس مبارک اور تاریخی مقام پر لے جا کر آپ کو احرام بنوا کر ایک اور نفلی عمرہ ادا کرنے کا بہترین اور یادگار موقع بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ آپ کو بھی اسی سنتِ مبارکہ پر عمل کی توفیق نصیب ہو سکے جس جگہ سے پیارے نبی ﷺ نے خود احرام باندھا تھا۔

​🚶‍♂️ مکہ مکرمہ میں حرم پاک کے پاس پیدل کی جانے والی زیارات

بیت اللہ شریف ، مطاف ، حطیم ملتزم ، مزاب رحمت ، حجر اسود ، مقام ابراہیم ، صفا مروہ ،

​مولد النبی ﷺ (مقامِ ولادت): رسول اللہ ﷺ کا وہ آبائی مکان جہاں آپ ﷺ کی مبارک ولادت ہوئی (آج کل یہاں ایک عظیم الشان لائبریری قائم ہے)۔ یہ بابِ مروہ سے باہر نکل کر چند منٹ کی پیدل مسافت پر ہے۔

دارِ ارقم (اسلام کا پہلا خفیہ مرکز): یہ اسلام کا سب سے پہلا خفیہ مرکز ہے جہاں ابتدائی صحابہ کرام نے اسلام قبول فرمایا۔ یہ مقام صفا پہاڑی کے بالکل نیچے (دامن میں) واقع ہے، جہاں سے سعی کا آغاز ہوتا ہے۔

مسجدِ ابوبکر صدیقؓ (مقامِ ہجرت): مکہ مکرمہ میں جس جگہ پر سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ اللہ عنہ کا تاریخی مکان تھا، آج وہاں مکہ کلاک ٹاور کے پاس مکہ ہلٹن ہوٹل (Hilton Hotel) قائم ہے۔ اس ہوٹل کے چوتھے فلور (4th Floor) پر ایک انتہائی پرنور مسجد بنی ہوئی ہے جس کا نام مسجدِ ابوبکر صدیقؓ ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی مبارک جگہ ہے جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی طرف تاریخی سفرِ ہجرت شروع فرمایا تھا۔

مقبرہ شبیکہ (جاہلیت کا عبرت ناک مقام): یہ وہ تاریخی اور عبرت ناک جگہ ہے جہاں اسلام سے پہلے زمانۂ جاہلیت میں معصوم زندہ بچیوں کو زمین میں درگور (دفن) کیا جاتا تھا۔ اللہ کے فضل سے اسلام نے آ کر بیٹیوں کو رحمت بنایا۔ یہ جگہ آج بھی مکہ مکرمہ میں اسی طرح ویران چھوڑی گئی ہے، جو حرم پاک کے بالکل پاس "بابِ ملک عبداللہ" والی سائیڈ پر، باہر مین روڈ کے ساتھ ہی واقع ہے۔

جبلِ ابو قبیس (مقامِ معجزہ شقِ قمر): حرم پاک کے بالکل پاس جس پہاڑ کے اوپر آج کل شاہی محل (بادشاہوں کے محلات) بنے ہوئے ہیں، اس تاریخی پہاڑ کا نام جبلِ ابو قبیس ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ کا وہ عظیم الشان پہاڑ ہے جس پر   چاند کے دو ٹکڑے ہونے (شقِ قمر) کا عظیم معجزہ رونما ہوا تھا۔

​🕌 مدینہ منورہ کی مشہور زیارات (بذریعہ ٹرانسپورٹ)

​مسجدِ قبا: اسلام کی سب سے پہلی مسجد۔ اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کا ثواب ایک مقبول عمرہ کے برابر ہے۔

​جبلِ احد اور شہدائے احد کا قبرستان: وہ تاریخی پہاڑ جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ "احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم احد سے"۔ یہاں سید الشہداء حضرت حمزہؓ اور دیگر شہدائے احد کے مزارات ہیں۔

​مسجدِ قبلتین: وہ تاریخی مسجد جہاں نماز کے دوران قبلہ تبدیل کرنے کا حکم آیا اور رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف ہوا۔

​میدانِ خندق (مساجدِ سبعہ): وہ جگہ جہاں غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھودی گئی تھی، یہاں اب سات چھوٹی مساجد موجود ہیں

مزرعہ : کھجوروں کا باغ

​🚶‍♂️ مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کے پاس پیدل کی جانے والی زیارات

​جنت البقیع: مدینہ منورہ کا وہ متبرک قبرستان جہاں امہات المومنین (نبی پاک ﷺ کی ازواجِ مطہرات)، آپ ﷺ کی آل، اولاد اور دس ہزار سے زائد صحابہ کرام مدفون ہیں۔ یہ مسجدِ نبوی کے بالکل مشرقی صحن کے ساتھ ہے۔

​مسجدِ غمامہ: مسجدِ نبوی کے بابِ سلام کی طرف باہر نکل کر تھوڑے فاصلے پر واقع ہے، جہاں رسول اللہ ﷺ نے عید کی نمازیں پڑھائی تھیں اور بارش کی دعا (استسقاء) فرمائی تھی۔

​مسجدِ ابوبکر صدیقؓ اور مسجدِ علیؓ: یہ مساجد بھی مسجدِ غمامہ کے بالکل قریب پیدل کی مسافت پر واقع ہیں جہاں ان صحابہ کرام کے مکانات یا نماز پڑھنے کی جگہیں تھیں۔

مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران مکمل رہنمائی کے لیے

حافظ محمد عمر رندھاوا : 00966547204068

​📞 اہم رابطہ نمبرز (برائے رہنمائی و مدد)

 ​ سفر کے دوران کسی بھی مسئلے یا رہنمائی کے لیے ہمارے ان نمبرز پر رابطہ کریں  

لاریب رندھاوا ٹریول اینڈ ٹورز 

​حاجی محمد ارشد رندھاوا (CEO) : 03036074390  

​محمد طیب رندھاوا: 03435664226