میں کھو گیا ہوں! میں کھو گیا ہوں ، اندھیری راتوں میں، صحرا کے ریگزاروں میں، قہر آلود آنکھوں میں، سسکتی ہوئی آہوں میں، بھٹکی ہوئی راہوں میں۔۔۔ ہستہ ہوں تو صدیوں کا صدمہ لئے، روتا ہوں تو مدّتوں کی خوشیاں لئے۔۔۔ کسی دوسرے سے بیر کیا؟ جب چادر تن سے خور ہی تار تار کرلی، سرِبازار اپنی خودی کو نیلام کر دیا، ایسے! کہ جیسے کوٹھے پر دام لگ رہے ہوں، اور اس پر لُطف یہ کہ کوئی اس کا خریدار بھی نہ ہو۔ لوگ باتیں کستے گئے اور میں زہر کا پیالہ چڑہاتا رہا۔ یوں تو پہلے گھونٹ میں ہی مر جاتا لیکن تربیت بسم اللہ پڑھاتی رہی، اور زہر جامِ کوثر بن کر اُترتا رہا۔ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، زہر کے پیالہ میں بھی طلاتم آگیا کہ جب آواز قرابت داروں نے کسی۔۔۔ آنسوئوں کو مردانگی کے پیچھے چھپاتا رہا، پھر بھی خوشحال مسکراتا رہا۔۔۔
،باغباں نے آگ دی جب آشیانہ کو میرے
جن پہ تکیہ تھا، وہی پتّہ ہوا دینے لگے۔
Table of Content
تم اپنی طاقت سے مجھے مسمار کر سکتے ہو…
میں قلم سے تحریک چلا ونگا… سب کو بتاؤں گا…
میں مسمار ہو جاؤں گا، پھر بھی نشانی چھوڑ جاؤں گا…
تم اپنی طاقت سے مجھے مسمار کر سکتے ہو…
تم میری سونچ کو کیسے مار کر سکتے ہو…؟؟
تم میری سونچ کو کیسے مار کر سکتے ہو…؟؟
محمد جنیؔد
اس دور کے لوگ تعلیم حاصل کر رہے ہیں نہ کہ اپنے لئے بلکہ اُس(وہ نظام جو انگریز دور سے چلا آرہا ہے) سسٹم کے لئےجو ایک بے لگام گھوڑا ہے، اپنی پشت پر لاکھوں طلباء کو لئے ہوئے ہے اور اپنی غرض کے رستے پر دوڑ رہا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مختلف تعلیمی اداروں کا معائنہ کرنے کے بعد بہت سے اہم نکات سامنے آئے:
دورِحاضر میں ٪85 اعلیٰ تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو صرف اسٹودنٹ پروڈیوسنگ یونیورسیٹیز(Student Producing Universities) ہیں،جن کا فردِ واحد کے مستقبل سے کوئی سروکار نہیں۔ ہر سال نہیں بلکہ ہر مہینے ہزاروں کی تعداد میں بچّے اَسناد لے کر نکلتے ہیں، لیکن ہمارے موجودہ سسٹم میں کوئی پولسی(Policy) ایسی نہیں کہ ان بچّوں کو کھپایا کہاں جائے! نام نہاد انسٹیٹیوٹ(Institute) مختلف جگہوں پر کُھل گئے، جو محض پیسے کمانے کے لئے ہیں، جن کا اداروں(Companies) سے کوئی کورڈینیشن(Coordination) نہیں !
جو طالبِ علم پاس آوٹ(Pass out) ہو کر نکل رہا ہے ، اُسے معلوم ہی نہیں کہ جانا کہاں ہے؟ سوال اب یہ ہے کہ کہیں بھی نوکری مل جائے! پہلے سوچا یہ تھا کہ فلانا فیلڈ(Field) کی طرف جاؤں لیکن کیا کریں نہیں مل رہی تو گھر والوں کو بھوکا چھوڑ بھی نہیں سکتے (یہ بات درست ہے کہ جس نے دانت دیئے ہیں وہ رزق بھی دیتا ہےلیکن جہد کے بعد)۔ یہ ہے منصوبہ بندی کی کمی کہ انسٹیٹیوشنز(Institutions) کا روزگار فراہم کرنے والے اداروں(Companies) کے ساتھ کورڈینیشن(Coordination) نہیں ہے۔
کراچی میں گورنمنٹ ایجوکیشن سیکٹرز(Government Education Sector) کا معئنہ کرنے سے معلوم یہ چلا کہ 2014 میں قابیلیت(Merit) پر آنے والے اساتذہ زیادہ تر ایم۔اے(M.A) اور ڈبل ایم۔اے(Double M.A) تھے جن کا رینک(Rank) ٹائٹل 17گریڈ بنتا ہے ، مگر اِن اساتذہ کو 14 گریڈ کا ٹائٹل دیا گیا۔۔۔ اس سسٹم کے شکنجے میں طلباء ہی نہیں بلکہ تیچرز بھی ہیں۔
سب سے بڑا مسلئہ یہ ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم ایک طبقاتی نظام بن چُکا ہے۔ یہاں کیمبرج(Cambridge)، آغاخان(Aga Khan)، بیکن ہاؤس اسکولنگ(Beacon House Schooling) سسٹم الگ الگ چل رہے ہیں، سندھ بورڈ الگ چل رہا ہے۔اتنی ڈائیورژنز ہیں اس سسٹم میں کہ انڈیویجیول(Individual) کیسے ایڈجسٹ(Adjust) کرے؟
ایک حکمرانوں کے بچّے ہیں جو حکمران بنّے کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور دوسری طرف غریب کا بچّہ ہے جو صرف مزدوری کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔ پالسی میکرز(Policy Makers) چاہتے ہی نہیں کہ انڈیویجیول(Individual) آگے بڑھے ۔ جسے موقع ملے گا وہی آگے بڑھے گا اور جسے موقع دیا ہی نہیں جا رہا اس کی صلاحیتوں کی دھجّیاں اُڑ جاتیں ہیں۔ جو لوگ اعلیٰ طبقے پر ہیں اُنہیں مواقع پیش کیئے جاتے ہیں اور جو غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لیئے محض دلاسے۔ دو لوگوں کو کہا گیا کہ دریا عبور کرنا ہے ، ایک کو کشتی میں سوار کیا گیا اور دوسرے کو تیرنے کا کہا گیا، ایک کو موقع دیا اور دوسرے کی وراثت میں دلاسا آیا۔ اب یہ زندگی گزار لے گا لیکن دریا عبور نہیں کر سکے گا کیونکہ دنیا بہت ظالم ہے، اِس کی لہریں اُس کو غرقِ دریا کر دیں گی۔
مصنف: محمد جنید
The Pakistani system of approach towards better education in today’s time is not a big concern as it is the system that British rulers brought to Pakistan in the erstwhile, which reigns above all educational systems as of now. It is the system through which one’s capacitative and imaginative thinking and understanding is not adhered to and thus enhanced, where the doors to success are shown but not the ones to mastery and skillfulness.
The single most objection is that the subjects taught in schools and colleges following such systems are only taught in, well, an educational form: paper-based, unlike schools in other developing countries that aspire to bring some reality into the growing virtuality of the image of the education a student receives from a day at school. Before any further education, students of such learning centers are taught the science of logic. Perceiving and solving everyday problems through the lenses of logic, and this results in the addition of the capability to think wisely and ‘logically’ without creating any further problems.
The student that is taught through the British or Standardized schooling system follows thus: that till his IGCSEs/ O Levels he must stay in secondary school, then move on to high school for his A Levels, and then graduate from it, if he doesn’t, he doesn’t have the rights to show his face in the society, the system has ordered him to do his Masters, and he did it, he got a job that he wasn’t satisfied with, and ‘unluckily’, his pay his less than his expenses. He gets married and has kids, his expenses increased, the system orders him to do Double Masters, and he does it, obeying the system again! This ‘beating around the bush’ continues until the man could only hope to find a meaningless death exit from a meaningless life.
Imagine only once what you wished for when you were a bright kid against what the educational system forced down your screaming throat.
Translator & Editor: Ali Jawwad
Writer: Muhammad Junaid