اُن رفیقوں سے شرم آتی ہے !
جو میرا ساتھ دے کے ہارے ہیں !
“جون ایلیا”
ایک ایک کر کے, ہر دوست جا رہا ہے
مرا قاتل بھی اور مقتول جا رہا ہے
خوش باش جو نکلا اپنے کوچے سے
بزمِ یار سے اسکا جنازہ جا رہا ہے
ترے دیدار کو ترسا ہوا ہر شخص
تجھ سے ملے بغیر ہی جا رہا ہے
سخاوتِ سندھ کی شدّت دیکھی
کیوں مگر اب, سخا جا رہا ہے
برجستہ نشستیں بنتی بگڑتی رہیں
اب مگر, ادب کا قرینہ جا رہا ہے
جسے جانا, جسے مانا, اپنی جاناں
بس, اب وہی دل سے جا رہا ہے
حق کا لڑنا سیکھا ہی نہیں جنید
پھر نصیب پر کیوں رویا جا رہا ہے.
“جنید”
کر کے کنارہ کشی کہ ہم مغلوبِ عشق تھے
ہوتی ہے تلاشِ جاں اب رقیب کے در سے
جنؔید
اُدھر بدنامی تھی، شعروں کے انتخاب پر
اِدھر رُسوا ہوۓ، اہلِ سخُن کے ہاتھ پر
جنؔید
شوقِ غفلت میں بھی شرابِ عشق کو نہ بھُولوں
ماءذاللہ، اِسے بھُولانے کو میں خود کو نہ بھُولوں
جنؔید
اُمیدوں سے وفا نبھاۓ کہ ہیں ناداں
بھول چکے ہیں ہمیں افسانوں کے کارساز
جنؔید
دیدارِیاراں بے حال و خستہ جگر کی تسکینِ راز
عشقِ بُتاں میں کر چکے ہیں حجامت کی ساز باز
جنؔید
کس جرم کی پاداش میں سزا دی مجھ کو
دل کے آنگن میں عمر قید کی جگہ دی مجھ کو
جان کر کہ مجھ میں وہ زوق باقی نہ رہا
پھر کیوں وفا کر کے حیاء دی مجھ کو
جنؔید
،افسوس کرتا ہوں
جب اپنوں میں غیر پاتا ہوں۔۔۔
،خود کا احتساب کرتا ہوں تو رشک آتا ہے
اپنی ہی تربیت پر ناز آتا ہے۔
،کہیں تعصب ہوتا ہے زبانوں پر
کہیں زہنوں میں پلتا خمار پاتا ہوں۔
میں اکثر بول پڑتا ہوں
،زات اپنی گرا دیتا ہوں
معملات سمبھال لیتا ہوں، مگر
،افسوس ہوتا ہے
جب اپنوں میں غیر پاتا ہوں۔
جنؔید