جوانی انسان کی زندگی کا وہ مرحلہ ہے جہاں طاقت بھی ہوتی ہے، جذبات بھی ہوتے ہیں اور بے شمار راستے بھی سامنے ہوتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی زندگی کو سنوار بھی سکتا ہے اور بگاڑ بھی سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جوانی ہی انسان کا سب سے بڑا امتحان ہے۔
آج کے دور میں فتنے بہت زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا، غلط صحبت، نفس کی خواہشات—ہر طرف ایسی چیزیں موجود ہیں جو انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہیں۔ لیکن جو شخص اسی جوانی میں اپنے رب کو راضی کر لیتا ہے، اس کا مقام اللہ کے نزدیک بہت بلند ہوتا ہے۔
جوانی میں:
نفس بہت مضبوط ہوتا ہے
گناہ آسان محسوس ہوتے ہیں
دنیا بہت دلکش لگتی ہے
آخرت دور نظر آتی ہے
لیکن یاد رکھیں، اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔
آپ تنہائی میں جو فیصلے کرتے ہیں، وہی آپ کی اصل پہچان ہوتے ہیں۔
نماز صرف ایک فرض نہیں بلکہ اللہ سے تعلق کا مضبوط ذریعہ ہے۔ جو نوجوان اپنی نماز کی حفاظت کرتا ہے، اللہ اس کی زندگی کو سنوار دیتا ہے۔
گناہوں سے بچنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ اگر آپ بار بار گر کر دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہی اصل کامیابی ہے۔
آج کے دور میں اکثر لوگ شہرت اور تعریف کے لیے کام کرتے ہیں، لیکن جو شخص صرف اللہ کی رضا کے لیے کام کرتا ہے، چاہے وہ گمنام ہی کیوں نہ ہو، اللہ اسے بلند مقام عطا کرتا ہے۔
انسان اپنے دوستوں سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کا ساتھ اختیار کریں جو آپ کو اللہ کے قریب کریں، نہ کہ دور۔
موبائل اور سوشل میڈیا آج کے دور کا بڑا فتنہ ہیں، لیکن اگر انہیں اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی چیز کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جن میں سے ایک وہ نوجوان ہوگا جس نے اپنی جوانی اللہ کی عبادت میں گزاری ہوگی۔
سوچیے، جب ہر طرف سختی اور پریشانی ہوگی، اس وقت آپ اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
زندگی بہت مختصر ہے اور جوانی تو اس سے بھی زیادہ تیزی سے گزر جاتی ہے۔ آج آپ جو کچھ کر رہے ہیں، وہی آپ کا کل بنے گا۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ دنیا کے لیے جینا چاہتے ہیں یا اللہ کے لیے۔
یا اللہ! ہمیں اپنی جوانی کو تیری رضا کے لیے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں گناہوں سے بچنے کی ہمت دے اور ہمیشہ اپنے قریب رکھ۔ آمین۔