اب نہیں تو کب بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
انسانیت بچاؤ انصاف یقینی بناؤ
بدلو گے سوچ تو بدلے گا انسان کل نہیں آج کا پاکستان
کیپٹل یونین آف جرنلسٹس پاکستان
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ورکنگ جرنلسٹس کو کیپٹل کے پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے
باہمی اتفاق رائے نظم ضبط کو پروان چڑھایا جائے
جبکہ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جا چکا ہے۔
صحافتی سر گرمیوں پر درپیش مسائل پر تحریر کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے
جیسا کہ آئے روز صحافیوں پر قاتلانہ حملے ، پولیس کی طرف سے بدسلوکی جیسے واقعات روز بروز بڑھ رہے ہیں
اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے چند شرپسند عناصر بھی صحافیوں کے ساتھ آئے دن تلخ کلامی ، بدتمیزی ، گالی گلوچ ، ہاتھا پائی ، تھپڑ رسید کرنا اپنا جائز حق سمجھنے لگے ہیں
ورکنگ جرنلسٹس کو میڈیا ہاؤسز مالکان اور مختلف ملکی آئینی ،انتظامی، احتسابی ادارے اپنی اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لئے مختلف تیر انداز طریقوں سے نبرد آزما رہتے ہیں
آج ہم صحافتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے باہمی اتفاق محبت کو فروغ دینے کی تلقین کرتے ہیں
تاکہ جرنلسٹس بھائیوں کے مسائل کو ملکر حل کیا جائے
انکے حقوق کو ہر پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اٹھایا جائے
اب رپورٹنگ کے زرائع پر نظر ڈالتے ہیں
ویسے تو ہر طرح کی رپورٹنگ صحافت کے زمرے میں آتی ہے
کیونکہ ہمیں بیٹ رپورٹر سے لے کر انوسٹی گیٹو رپورٹ کیلئے معلومات کی رسائی کے لئے یکساں طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔
بیٹ رپورٹر کو کسی خصوصی خبر کی کھوج کے لئے تحقیقاتی صحافی کی طرح مہارت حاصل کرنا پڑتی ہے
انہیں عمومی طور پر تمام سیاسی مذہبی جماعتوں
سیاسی، معروف یا سرکاری شخصیات کی خبریں بیانات
ای میل واٹس ایپ پر ہی مل جاتے ہیں
بیٹ رپورٹر کو کہیں جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
نیوز رپورٹر کو تعلقات بنانے کیلئے ذمے داری سے پیشہ ورانہ کاروباری لوگوں سے تعلقات کو وسعت دینا پڑتا ہے
خبر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے سوال جواب کا سلسلہ چلانا پڑتا ہے ۔
انوسٹی گیٹو رپورٹر کو خبر کی تلاش کے لئے مختلف طریقوں سے زاویہ نظر سے گزرنا پڑتا ہے
جن پر مہارت حاصل کرنے کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔
حقائق کی تلاش کے لئے ایسے معاملات کو منکشف کیا گیا ہو
عوام یا پھر ارباب اختیار سے چھپایا ہو یا انہوں نے چھپایا ہو
حصول کے لئے انوسٹی گیٹو رپورٹ میں وقوعہ کی جگہ ذرائع و مصدقہ ریکارڈ کا حصول اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
انوسٹی گیٹو رپورٹر کیلئے تنقید کا عنصر غالب ہوتا ہے
کیونکہ یہی وہ عمل ہوتا ہے
جو صحافی کو کھوج کے لئے اُکساتا ہے۔
کرپشن، فنڈز میں خرد بُرد، طاقت و اختیارات کے ناجائز استعمال، ماحولیاتی مسائل، نظام صحت، عوامی مفاد عامہ کے اداروں اور دیگر معاملات کا گہرائی کا جائزہ لینا
اور اس کی اصل وجوہات تلاش کرنا انوسٹی گیٹو رپورٹ کا حصہ ہوتا ہے
ذاتی رائے میں کسی ادارے، جماعت یا شخص کی مصنوعی کارگذاری یا جھوٹی تعریف و بلند بانگ دعوؤں کی مداح سرائی زرد صحافت کہلاتی ہے
امریکی یونیورسٹی میں تحقیقاتی صحافت سے وابستہ برانٹ ہوسٹن کا کہنا ہے
کیونکہ یہ ہر وقوعہ کو نئے انداز میں کرنے کا عزم رکھتے ہیں
جو بعد ازاں روزمرہ رپورٹنگ کا حصہ بھی بن جاتے ہیں
جس کے نتیجے میں صحافت کے پورے شعبے کا معیار بڑھانے میں بھی تحقیقات کا کردار ہوتا ہے “۔
صحافت سے وابستہ انوسٹی گیٹو رپورٹر کے لئے یہ نئی بات نہیں ہے
خبر کی اشاعت یا نشر کئے جانے پر مخالفین کی جانب سے خبر کو روکنے کے لئے دباؤ بڑھایا جائے گا
آئندہ احتیاط برتنے کی سخت وارننگ ، جان سے مار دینے کی دھمکیاں ،قاتلانہ حملے فائرنگ جیسے وقوعہ بھی وقوع پذیر ہو جاتے ہیں
اور قیمتی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے
صحافت سے وابستہ کوئی شخص مقدس گائے نہیں ماسوائے سرکاری ملازمین ، پولٹیکل لیڈرز ، قبضہ مافیا وغیرہ
تاہم آزادی اظہار کے نام پر
انسانی اقدار و روایات کو روندے جانے کی کوئی مہذب معاشرہ بھی اجازت نہیں دیتا ۔
میڈیا ہاؤسز کا دوسرا اہم شعبہ مارکیٹنگ کا ہے۔
یہ وہ شعبہ ہے جو ادارے سے وابستہ ہونے کے باعث ایک ایسا برانڈ لے جاتا ہے جسے مارکیٹ میں فروخت کیا جاسکتا ہے
مارکیٹنگ کے اصول میں مبالغہ آرائیاں اور خوشامد پرستی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے
کیونکہ انہیں ”کلائنٹ“ کی ناراضگی کا خوف چین سے سونے بھی نہیں دیتا۔
یہ کلائنٹ سرکاری، سیاسی و نجی شخصیات، عوامی مفاد عامہ سے وابستہ کوئی بھی ہوسکتا ہے۔
پروفیشنل جرنلسٹ کے لئے بہرحال مشکل ہوتا ہے
کہ وہ صحافی کے بجائے سیلز مین بن کر قلم کا استعمال کرے۔
سیلز مین اور جرنلسٹ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
صحافی کسی بھی پلیٹ فارم پر جاکر اظہار رائے کی اہلیت رکھتا ہے
کہ وہ کس قسم کی رپورٹنگ کرتا ہے
اُس کا مقصد ذاتی مفاد ہے یا عوامی کی تکالیف کو ارباب اختیار تک پہنچا کر اپنا فرض ادا کرنا۔
زرد صحافت کے علمبردار عناصر کی بڑی تعداد بھی ہے
جو فروعی مفادات کے لئے چند پیسوں کے عوض اپنا ایمان فروخت کرنے میں ذرہ برابر بھی میانہ روی اختیار کرنے سے قاصر رہتے ہیں
ہمارے سامنے ان گنت ایسے صحافی ہیں
جو بسوں میں لٹک کر آتے تھے
اور مفادات کی قیمت وصولی کے بعد چند برسوں میں ان کی املاک و اثاثے ان کی تنخواہ سے ہزار گنا زیادہ ہو چکے ہیں
احتساب کرنے والے اداروں کو ایسے صحافیوں کو اپنے دائرہ تفتیش میں لانا ضروری ہو گا
جو ہزاروں کی تنخواہ میں کروڑوں کی جائیداد بنا کر بیٹھے ہیں۔
مارکیٹنگ کرنا آسان ہے یا صحاف
ان دونوں شعبوں سے منسلک احباب میڈیا ہاؤسز میں سوتن کی طرح ہوتے ہیں
مارکیٹنگ سے وابستہ عملے کا سارا دارومدار صحافیوں کی پیشہ وارانہ یا ذاتی تعلقات پر ہوتا ہے
پیشہ وارانہ تعلقات کے ساتھ کسی بھی صحافی کا معروف بیوروکریٹ یا بااثر پولٹیکل شخصیت سے قریبی تعلق بن جانا عام سے عمل ہے۔
مارکیٹنگ کا شعبہ، صحافیوں کا تعلق جو اُس نے کئی برسوں کی شب و روز کی محنت سے بنایا ہوتا ہے
مارکیٹنگ والے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں
کہ کسی بھی طرح اُن شخصیات تک رسائی مل جائے ۔
اختیارات کا خمار بعض اوقات غلط فیصلے کرا دیتا ہے ۔
یہاں مفادات کا ٹکراؤ بھی ہوتا ہے
اور ادارے میں کرپشن و خرد بُرد کرنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔
انوسٹی گیٹو رپورٹر ، بیٹ رپورٹر ، سٹی رپورٹر ، کرائم رپورٹر ، ڈسٹرکٹ رپورٹر ، بیورو چیف کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہوتی ہے
کہ وہ اپنے ناک کے نیچے ہونے والی کرپشن و خرد بُرد کو فوراََ بھانپ لیتا ہے
اگر ایسا صحافی خود کرپشن میں ملوث ہوگا
تو وہ مارکیٹنگ کے عملے کے ساتھ مل کر بد عنوانی کا ایک حصہ بن جائے گا۔
تاہم تحقیقاتی صحافی کی بڑی تعداد اپنے پیشے سے والہانہ عقیدت کے پیش نظر بلیک میلنگ کے گھٹیا عمل سے دور رہنا پسند کرتے ہیں
اور اپنی روحانی تسکین کے لئے ایمانداری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سرانجام دیتے
یقینی طور پر ان گنت ایسے صحافیوں کی مالی حالت کمزور ہی رہتی بے
انکے مالی حالات کی خبریں خود بھی میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں
جو اظہر من الشمس اس اَمر کی نشان دہی کرتی ہیں
اگر مصائب میں مبتلا صحافی، بد عنوانی یا زرد صحافت کے راستے پر گامزن ہوتا آج اس کی حالت ایسی نہ ہوتی۔
ہمیشہ صحافت سے وابستہ کسی بھی شعبے سے منسلک فرد کے خلوص و جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے
کیونکہ وہ رزق حلال کے لئے شعلوں پر قدم رکھ کر چلتا رہتا ہے
وہ اپنی پہچان، اپنی شناخت سے مقام بناتا ہے
اور اُسے بہت محنت ، قوت ارادی ، برداشت کا مرحلہ طے کرنا پڑتا ہے۔
صحافی کوئی چورن بیچنے والا نہیں کہ کسی بھی چوراہے پر چادر بچھا کر بیچنا شروع کر دے ۔
دور جدید میں پیغام رسانی و اظہار رائے کے لئے اتنے ذرائع دستیاب ہیں
کہ ماضی میں کبھی اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا
ضرروت اس اَمر کی ہے کوئی بھی شعبہ ہو
جب تک اُس میں خلوص، ایمان داری اور پروفیشنل ازم نہیں ہوگا
وہاں اختلافات کے باعث ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوجاتے ہیں
جو یقینی طور پر کسی کے حق میں بہتر نہیں۔
اسلئے ہمیں ضرورت ہے کہ قلم مزدور اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنائے
صحافیوں کی آواز بنے صحافی بھائیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے بلا تفریق انکی مدد کریں
انکے شانہ بشانہ قدم قدم ساتھ دینے کے لئے ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں
صحافیوں کے حقوق کی ملک گیر تنظیم
کیپٹل یونین آف جرنلسٹس پاکستان