کچھ تعلیمی ادارے اسلامی اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں اور وہاں پردے کو لازمی قرار دیا جاتا ہے، جیسے:
مدارس اور دینی جامعات میں عبایا اور نقاب پہننا ضروری ہوتا ہے۔
بعض کالجز میں طالبات کو حجاب لازمی کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
یونیورسٹی سطح پر بھی کچھ ادارے پردے کے لیے سخت پالیسی اپناتے ہیں۔
بیشتر سرکاری اور نجی سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں پردہ لازمی نہیں ہے، لیکن خواتین کو اپنی مرضی سے حجاب کرنے یا نہ کرنے کی آزادی دی جاتی ہے۔
کچھ ادارے مخصوص یونیفارم کی شرط رکھتے ہیں، لیکن اس میں حجاب کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔
بعض تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے لیے الگ سیکشنز بنائے گئے ہیں تاکہ وہ آرام دہ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، خواتین کے لیے پردہ ان کی عزت اور تحفظ کا ضامن ہے۔
پردہ خواتین کو غیر ضروری نظروں اور ہراسانی سے بچاتا ہے۔
پردہ خواتین کو زیادہ سنجیدگی سے لینے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر تعلیمی اور پروفیشنل ماحول میں۔
بعض لوگ پردے کو ایک زبردستی کا عمل سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔
کچھ طالبات کا خیال ہے کہ حجاب یا نقاب پہننے سے وہ خود کو محدود محسوس کرتی ہیں۔
جدید تعلیمی اداروں میں پردے کو غیر ضروری تصور کیا جاتا ہے، خاص طور پر مخلوط نظام تعلیم میں۔
عائشہ لاہور کی ایک مشہور یونیورسٹی میں پڑھنے والی ایک ذہین طالبہ تھی۔ وہ ہمیشہ سے عبایا اور اسکارف پہنتی تھی کیونکہ اس کے خاندان میں پردے کی روایت تھی۔ جب اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا، تو اسے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔
یونیورسٹی میں کچھ طلبہ نے اس پر طنز کرنا شروع کر دیا کہ وہ جدید دنیا میں بھی پردہ کیوں کر رہی ہے؟ کچھ اساتذہ نے بھی اسے مشورہ دیا کہ وہ پردہ ترک کر دے تاکہ وہ زیادہ ’خوداعتماد‘ لگے۔ لیکن عائشہ اپنے فیصلے پر قائم رہی کیونکہ اس کے لیے پردہ محض ایک لباس نہیں بلکہ اس کی شناخت تھا۔
شروع میں اسے لگتا تھا کہ شاید وہ اس ماحول میں فٹ نہیں ہو پائے گی، لیکن جلد ہی اس نے اپنی تعلیمی کارکردگی سے سب کو متاثر کر دیا۔ وہ کلاس میں سب سے زیادہ نمبر لینے لگی اور جلد ہی اس کے ہم جماعتوں نے محسوس کیا کہ اس کی صلاحیتیں کسی بھی دوسرے طالب علم سے کم نہیں۔
وقت کے ساتھ، وہی لوگ جو پہلے اس کا مذاق اڑاتے تھے، اس کی عزت کرنے لگے۔ کچھ لڑکیاں اس سے پردے کے بارے میں سوال کرنے لگیں اور کچھ نے تو خود بھی حجاب لینا شروع کر دیا۔