حضرت سخی لال شہباز قلندرؒ برصغیر کے مشہور و معروف صوفی بزرگوں میں سے ایک ہیں، جن کی تعلیمات، کرامات اور خدمتِ خلق کا فیض آج بھی جاری ہے۔ آپ کا اصل نام سید عثمان مروندیؒ تھا، مگر عقیدت مند آپ کو سخی، شہباز، اور لال قلندر کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔
حضرت لال شہباز قلندرؒ کی پیدائش 1177ء (573 ہجری) میں ایران کے شہر مروند میں ہوئی۔ آپ کا نسب حضرت امام جعفر صادقؑ کے ذریعے حضرت علیؑ سے جا ملتا ہے۔ آپ ایک علمی اور مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے، جہاں آپ نے بچپن ہی میں قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ، تصوف، اور روحانی علوم میں مہارت حاصل کرلی۔
آپ کو عربی، فارسی، سندھی، ترکی، اور ہندی زبانوں پر عبور حاصل تھا، جو آپ کی بین الاقوامی تبلیغی سرگرمیوں میں مددگار ثابت ہوا۔
حضرت لال شہباز قلندرؒ نے اپنی جوانی میں ہی مختلف علاقوں کا سفر کیا تاکہ لوگوں میں اسلام کی محبت، اخوت، اور امن کا پیغام عام کیا جا سکے۔ آپ نے ایران، عراق، شام، ترکی، وسطی ایشیا، افغانستان اور ہندوستان کا سفر کیا اور کئی نامور صوفیائے کرام سے ملاقات کی، جن میں حضرت جلال الدین رومیؒ، حضرت شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ، حضرت بابا فرید گنج شکرؒ، اور حضرت بو علی شاہ قلندرؒ شامل ہیں۔
آخرکار، آپ سندھ کے شہر سیہون شریف میں مقیم ہو گئے اور وہیں تبلیغِ دین کا سلسلہ جاری رکھا۔
آپ کو "لال شہباز قلندر" کہنے کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں:
لال – آپ کو سرخ لباس پہننے کا شوق تھا، اس لیے لوگ آپ کو "لال" کہنے لگے۔
شہباز – یہ آپ کی روحانی بلندی اور پرواز کی علامت ہے، کیونکہ آپ دنیاوی خواہشات سے آزاد اور درویشانہ زندگی گزارنے والے تھے۔
قلندر – قلندر ایک خاص روحانی مقام ہے، جو اللہ کی محبت میں مستغرق اور دنیا کی قیود سے آزاد درویشوں کو حاصل ہوتا ہے۔
آپ کی تعلیمات محبت، انسانیت، اور خدمتِ خلق پر مبنی تھیں۔ آپ کسی بھی مذہب، نسل، یا طبقے میں فرق نہیں کرتے تھے، بلکہ سب کو ایک نظر سے دیکھتے تھے۔
آپ کی تعلیمات درج ذیل اصولوں پر مشتمل تھیں:
✅ محبت اور رواداری
✅ سچائی اور اخلاص
✅ خدمتِ خلق
✅ امن اور بھائی چارہ
✅ فقیری اور درویشی
آپ کا لنگر ہمیشہ جاری رہتا تھا، جہاں ہر خاص و عام کو بغیر کسی امتیاز کے کھانا پیش کیا جاتا تھا۔
حضرت لال شہباز قلندرؒ کی زندگی میں کئی روحانی کرامات مشہور ہیں، جنہیں آپ کے عقیدت مند آج بھی بیان کرتے ہیں:
جب آپ سیہون شریف پہنچے تو وہاں کا پانی کھارا تھا۔ آپ نے اللہ کے نام پر دعا کی اور پانی میٹھا ہوگیا۔ آج بھی وہاں ایک چشمہ بہتا ہے، جسے "لال شہباز کا چشمہ" کہا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایک دفعہ جنگل میں بیٹھ کر عبادت کر رہے تھے کہ ایک درندہ آپ کے قریب آیا، مگر آپ کے سکون کو دیکھ کر وہ بھی پرامن ہوگیا۔ بعد میں وہ شیر آپ کا محافظ بن گیا اور آپ کے حکم کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔
سیہون کے ظالم حکمران نے آپ کی مقبولیت دیکھ کر آپ کو قید کرنے کی کوشش کی، مگر جب سپاہیوں نے آپ کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ خود بےبس ہوگئے اور آپ کے قدموں میں گر پڑے۔ بعد میں وہ بادشاہ خود آپ کا مرید بن گیا۔
کہا جاتا ہے کہ آپ کے دربار پر جتنا بھی کھانا تقسیم کیا جاتا، وہ کبھی ختم نہ ہوتا اور ہر آنے والا سیر ہو کر جاتا۔ یہ روایت آج بھی جاری ہے۔
سیہون میں قیام اور امن کا قیام:
سندھ کے اس وقت کے حکمرانوں کو آپ کی شہرت اور اثر و رسوخ کا اندازہ ہوا تو انہوں نے آپ کے خلاف سازشیں کیں۔ مگر آپ کے صبر، حکمت، اور کرامات نے انہیں عاجز کر دیا اور بالآخر وہ بھی آپ کے عقیدت مند بن گئے۔ سرخ لباس کی حقیقت:
آپ کو لال رنگ بہت پسند تھا، اسی لیے لوگ آپ کو لال شہباز قلندر کہنے لگے۔ "شہباز" آپ کی روحانی پرواز اور بلند مرتبے کی علامت ہے ۔ وصال
آپ کا وصال 1274ء (673 ہجری) میں سیہون شریف میں ہوا۔ آپ کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کے لیے روحانی مرکز ہے، جہاں ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں، خاص طور پر عرس کے موقع پر، جو 18 شعبان کو منایا جاتا ہے۔
"دھمال"، جو آپ کے مزار پر ایک خاص انداز میں کیا جاتا ہے، دراصل اللہ کی یاد میں مستی اور عشقِ حقیقی کی علامت ہے۔حضرت لال شہباز قلندرؒ کا پیغام
حضرت سخی لال شہباز قلندرؒ نے ہمیشہ امن، محبت، اور خدمتِ خلق کی تلقین کی۔ ان کا پیغام آج بھی دنیا میں سچائی اور روحانی محبت کی مثال ہے۔
آپ کا ایک مشہور قول ہے:
"جو بھی میرے در پر آئے گا، خالی ہاتھ واپس نہیں جائے گا!"
آپ نے ہمیشہ محبت، انسانیت، اور رواداری کا درس دیا۔ آپ کا پیغام ہر مذہب اور فرقے سے بالاتر تھا، اسی لیے ہندو، مسلم، سکھ، اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی آپ سے عقیدت رکھتے ہیں۔ آپ کا یہ شعر آج بھی آپ کی تعلیمات کی عکاسی کرتا ہے:
"حق سب کا، عشق سب کا، دل میں ہو روشنی،
ہے یہی پیغام میرا، امن ہو زندگی!"
یہی وجہ ہے کہ آپ کے چاہنے والے دنیا بھر میں موجود ہیں، اور آپ کی تعلیمات آج بھی دلوں میں زندہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت لال شہباز قلندرؒ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔