ذاتی آزمائشوں کو انسانی خدمت میں بدلنے والے سرفراز حسین کے مشن کو 15 سال مکمل؛ مسقط سے عالمی انسانی مشن کا اعلامیہ
مسقط، سلطنتِ عمان – (میڈیا رپورٹ)
آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ممتاز سماجی مصلح اور صحافی سرفراز حسین نے مسقط (عمان) سے اپنے عالمی انسانی مشن کے 15 سال مکمل ہونے پر ایک خصوصی بیان جاری کیا ہے۔ یہ مشن ایک ایسے انسان کی داستان ہے جس نے اپنوں کی بے وفائی، مالی بحران اور عارضہ قلب جیسی سخت آزمائشوں کے باوجود انسانیت کی بے غرض خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔
بچپن، صحافت اور خدمت کا آغاز:
سرفراز حسین بچپن ہی سے کھیل کود کے بجائے بزرگوں کی صحبت اور دانائی کی گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی فکری پختگی کے باعث انہوں نے 2010 میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ صحافتی ذمہ داریوں کے دوران ان کا واسطہ معاشرے کے پپسے ہوئے طبقات اور گہرے انسانی مسائل سے پڑا، جس کے بعد انہوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ ہر مشکل زدہ انسان کی اخلاقی، قانونی اور مالی مدد کریں گے۔ اب تک وہ دنیا بھر میں 3,400 سے زائد افراد کی داد رسی کر چکے ہیں۔
آزمائشوں کا دور اور ہجرتِ عمان:
سرفراز حسین کی زندگی کا ایک حصہ شدید مالی مشکلات اور جسمانی علالت (عارضہ قلب) میں گزرا۔ انہوں نے اپنے عزیز و اقارب کو ہمیشہ اپنی ذات پر مقدم رکھا، لیکن جواب میں انہیں اپنوں ہی سے دھوکہ ملا۔ ان کے والدِ محترم کی علالت کا فائدہ اٹھا کر جبری طور پر زمین کے حقِ ملکیت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی اور یہاں تک کہ ان کے والد کی قبر تک بنانے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ ان تمام تر زیادتیوں اور جھوٹے مقدمات کے جواب میں سرفراز حسین نے غصے اور انتقام کے بجائے "صبر" اور "لاتعلقی" کا انتخاب کیا اور ایک معزز طریقے سے سلطنتِ عمان ہجرت کر گئے۔
الزام تراشی اور فلسفہِ ملامت:
ایک سوال کے جواب میں سرفراز حسین نے کہا: "میں نے کبھی بھی اپنے اوپر لگنے والے کسی بھی الزام کی صفائی نہیں دی بلکہ 'ہاں' میں ملاتے ہوئے اسے قبول کر کے راستہ بدل لیا۔ الزام کی صفائی دینے کے لیے آپ کو کافی وقت درکار ہوتا ہے اور دماغی سطح پہ کسی دوسرے معاملے پہ مکمل فوکس نہیں کر پاتے، یوں دماغ الجھ جاتا ہے اور انسان اصل مقصد سے بھٹک کر لوگوں کو صفائیاں دے کر اپنے حق میں قائل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر وہ دوبارہ اپنے مقصد کی طرف لوٹ نہیں پاتا۔ لہٰذا، الزام بڑا ہو یا چھوٹا، اسے قبول کرنا ہی بہتر ہے۔"
اصلاحِ معاشرہ اور نفسیاتی پہلو:
سرفراز حسین کا کہنا تھا کہ وہ دوسروں کی محض غلطیوں کو نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپے محرکات پر فوکس کرتے ہیں۔ ان کے بقول: "غصہ ہر شخص میں پایا جاتا ہے، لیکن اشتعال میں آنے والے کے پیچھے اسے کون اکسا رہا ہے، پہلے اس کی اصلاح ضروری ہے۔ ایک نشئی کس وجہ سے نشے کی لت میں پڑا، اس وجہ کو ڈھونڈنا زیادہ ضروری ہے نہ کہ اسے گرفتار کر کے پابندِ سلاسل کر دینا۔ کسی کے متعلق محض سن کر رائے قائم کر دینا عقلمندی نہیں ہے۔ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر تک پہنچ کر اگر ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے تو مسائل حل ہو جاتے ہیں۔"
پردہ پوشی اور نوجوانوں کو پیغام:
سرفراز حسین کا مشن "پردہ پوشی" کے عظیم اصول پر مبنی ہے۔ انہوں نے خودکشی کے دہانے پر کھڑے بے شمار مایوس مرد و خواتین کی کونسلنگ کی اور انہیں زندگی کی طرف لوٹایا۔ وہ مسقط میں بیٹھ کر اپنے وطن کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور جہاں کہیں کسی مظلوم کی آواز دبائی جاتی ہے، وہ پسِ پردہ رہ کر اس کی مضبوط آواز بن جاتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی قیمتی تحقیقات اور رپورٹس بھی فراہم کیں۔
نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: "نوجوانوں کو اعصاب پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر آپ کے اعصاب بلند ہیں اور آپ اجتماعی مفادات پر کام کر رہے ہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو شکست نہیں دے سکتی۔ اجتماعی مفادات سے میری مراد ایک دوسرے سے لڑ کر سڑکیں، نالیاں اور پل بنانا ہرگز نہیں ہے، یہ مقامی روایتی سیاستدانوں کے آلہ کاروں کا کام ہے جو خاندانوں اور خونی رشتوں کو ایسے مفادات کے لیے لڑا دیتے ہیں۔"
وقت اور ضمیر کی پکار:
وقت کی ناقدری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "پہلے لوگ میلوں پیدل چلتے تھے، پیغام پہنچانے میں وقت لگتا تھا، محدود خوراک کندھوں پر اٹھا کر سفر ہوتا تھا، لیکن لوگوں کے پاس وقت پھر بھی ہوتا تھا۔ اب ہوائی جہاز اور موبائل فون نے سفر اور پیغام رسانی کو سیکنڈوں میں بدل دیا، لیکن لوگوں کے پاس وقت نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس وقت ہے تو مجھے بتائیں۔"
انہوں نے مزید کہا: "کانپتی ٹانگوں سے لمبے سفر ممکن نہیں ہوتے۔ اس سے پہلے کہ حالات آپ کو بدل دیں، آپ نے حالات کو بدلنا ہے۔ اگر آپ کو راتوں میں نیند نہیں آتی تو ذرا غور کیجیے؛ کہیں آپ کا پڑوسی، قریبی عزیز بھوکا یا بیمار تو نہیں؟ کہیں کوئی رو رو کر اللہ سے مدد تو نہیں مانگ رہا اور وہ آپ کے اتنا قریب ہو کہ اللہ نے (اس کی پکار سن کر) آپ کی نیند اڑا دی ہو؟"
انسانیت کا عزم:
سرفراز حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دمِ مرگ انسانیت کی فلاح کے لیے اسی طرح سرگرم رہیں گے۔ ان کا مشن کسی خاص رنگ، نسل، مذہب یا سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ صرف انسانیت کے لیے ہے، کیونکہ تباہ ہوتی انسانیت کو بچانے کے لیے کسی فنڈ کی نہیں بلکہ محض نیک نیتی اور خلوصِ دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ رسائی کے باوجود کبھی اپنی ذات کے لیے کوئی سفارش یا فائدہ طلب نہیں کیا، جو ان کے اعلیٰ ظرف کی دلیل ہے۔