اوزون کی تہہ سورج کی خطرناک UV شعاعوں سے زمین کو بچاتی ہے۔
ماضی میں اوزون کی تہہ کو پہنچنے والے نقصان نے سورج کی تپش کو زمین تک پہنچنے دیا، جس سے درجہ حرارت بڑھا۔
اے سی، ہیٹرز، اور برقی آلات کا بے دریغ استعمال فوسل فیولز کو جلاتا ہے۔
اس سے کاربن گیسز میں اضافہ ہوتا ہے جو درجہ حرارت کو مزید بڑھاتا ہے۔
سمندر زمین کی گرمی کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں۔
گرم سمندر موسم کے نظام میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں، جیسے طوفان اور بارشیں، اور زمین کے درجہ حرارت کو بھی بڑھاتے ہیں۔
گرمی اور خشک سالی کی وجہ سے لگنے والی آگ فضا میں بہت زیادہ CO₂ خارج کرتی ہے۔
یہ ایک خطرناک چکر پیدا کرتی ہے: آگ → زیادہ CO₂ → زیادہ گرمی → مزید آگ۔
برف پگھلنے سے زمین کی سورج کی روشنی کو واپس منعکس کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
برف کم → سورج کی روشنی زیادہ جذب → زمین زیادہ گرم → برف مزید پگھلتی ہے۔
درجہ حرارت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ ایندھن جلانا، درخت کاٹنا، فیکٹریوں سے دھواں، اور بڑھتی ہوئی شہری ترقی سب مل کر زمین کے قدرتی درجہ حرارت کو بڑھا رہے ہیں۔ اگر یہی روش جاری رہی، تو ہمیں مستقبل میں شدید گرمی، خشک سالی، اور خطرناک موسم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔