خود سے شناسائی کی، تھی کبھی آرزو یا جستجو ؟
نہ کوئی تجھ کو سمجھ پایا، تو کیوں حیراں ہے تو ؟
وہ سوزِ جاں ہے کہاں ، زر کو جو کندن کرے
طلبِ تحسینِ عالم میں ، اب کیوں پریشاں ہے تو ؟
پوشیدہ ہے عالمِ دروں ، دیدہ کش عالمِ بیروں
انگنت اس دنیا میں گم، پھرکیوں پشیماں ہے تو ؟
تحولِ نفس ہے مقصد ، تغی٘رِ غیر سے کیا حاصل
باغبانِ جاں بنا جہاں گیر، یہ کیوں امتحاں ہے تو ؟
مٹا دے طلبِ تسکینِ غیر ، سوزِ جاں ہی کافی ہے
نہ فکرِعالم، نہ شوقِ پہچاں، اب خود جہاں ہے تو !
چھوٹا سا بِلّا، سنبھالے بہن کو ، میرے پاس آیا
پہلے وہ گھر میں، پھر میرے من میں، کیسے سمایا !
ناراض وہ لگتا ، لیکن اصل میں ، دل کا وہ پیارا
پہلے تو ڈرتا ، مگر جلد ہی تھا ، گھر کا سیّارا
ملنسار وہ ایسا، کہ ملنے سبھی سے، بھاگا ہوا آتا
یا پھر مستی میں ، اپنی بہن کی ، گھات وہ لگاتا
نرم خو وہ اتنا، کبھی بھی کسی پر ، نہیں وہ غرّاتا
ہاں اگر ہم ، گھر سے جو جاتے ، وہ خفگی دکھاتا
سوتا یہاں بھی، سوتا وہاں بھی، جہاں بھی وہ چاہتا
جس سے بھی ملتا، اس کے دل میں، وہ جگہ بناتا
مہر دل، مہرباں، اپنی بہن سے ، یوں الفت دکھاتا
پہلے وہ پیار لے، پہلے وہ کھا لے، پھر پاس آتا
کیسے رہیں گے، بنا یار تیرے ، اب ہم سب اکیلے
مگر یہ دعا ہے، کہ تو جہاں ہے، خوشیوں سے کھیلے