شفاعت کا لغوی معنی "سفارش" یا "کسی کے حق میں درخواست کرنا" ہے۔ شریعت میں شفاعت اس سفارش کو کہتے ہیں جو کسی نیک اور مقرب ہستی کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے کسی کے لیے طلب کی جاتی ہے، تاکہ اس کے گناہ معاف ہو جائیں یا اس کے درجات بلند ہو جائیں۔
شفاعتِ کبریٰ: قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کی سب سے بڑی شفاعت جو تمام امت کے لیے ہوگی تاکہ حساب و کتاب کا عمل جلدی شروع ہو۔
شفاعتِ مغفرت: گناہگار مسلمانوں کے لیے نبی اکرم ﷺ، دیگر انبیاء، فرشتے اور نیک بندے سفارش کریں گے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے۔
شفاعتِ دخول جنت: وہ لوگ جو بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے، ان کے لیے نبی اکرم ﷺ سفارش فرمائیں گے۔
شفاعتِ رفع درجات: نیک لوگوں کے لیے ان کے درجے بلند کرنے کی سفارش کی جائے گی۔
شرط: شفاعت صرف اللہ کی اجازت سے ہوگی، جیسا کہ قرآن میں ہے:
“کون ہے جو اس کے حضور شفاعت کرے، مگر اس کی اجازت کے ساتھ؟” (البقرہ: 255)
توسل کا لغوی معنی "وسیلہ بنانا" ہے، یعنی کسی چیز یا شخص کے ذریعے اللہ سے قرب حاصل کرنا۔ شریعت میں توسل سے مراد یہ ہے کہ دعا میں اللہ تعالیٰ کے کسی مقرب بندے، کسی نیک عمل یا اللہ کے اسماء و صفات کو وسیلہ بنایا جائے تاکہ دعا جلدی قبول ہو۔
توسل باللہ: اللہ کے ناموں اور صفات کا وسیلہ دے کر دعا کرنا، جیسے "یا رحمان، یا رحیم، ہم پر رحم فرما"۔
توسل بالاعمال الصالحہ: اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنا کر دعا کرنا، جیسے تین آدمیوں کا غار میں پھنس جانا اور اپنے نیک اعمال کا وسیلہ دے کر دعا کرنا (بخاری و مسلم)۔
توسل بالصالحین: کسی نیک اور مقرب بندے کے وسیلے سے دعا کرنا، جیسے صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں آپ کے وسیلے سے دعا مانگا کرتے تھے (صحیح بخاری)۔
توسل بدعا الصالحین: کسی نیک بندے سے دعا کروانا، جیسے صحابہ کرام نبی اکرم ﷺ سے دعا کی درخواست کرتے تھے۔
کسی نیک ہستی کی سفارش
کسی وسیلے سے اللہ سے قربت حاصل کرنا
نبی، فرشتے یا نیک بندے قیامت میں سفارش کریں گے
دعا میں وسیلہ دیا جاتا ہے
البقرہ: 255، الانبیاء: 28، بخاری، مسلم
المائدہ: 35، بخاری، مسلم
قیامت کے دن ہوگا
دنیا میں دعا کے وقت کیا جاتا ہے
ہاں، اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت ممکن نہیں
ہاں، لیکن اللہ کے ناموں، اعمال اور صالحین کا وسیلہ دینا جائز ہے
شفاعت کا تعلق آخرت سے ہے، جبکہ توسل کا تعلق دنیا سے ہے۔
توسل ایک دعا کا طریقہ ہے، جبکہ شفاعت اللہ کے حضور سفارش ہے۔
دونوں کے لیے شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اصل اختیار رکھنے والا ہے۔
یہ فرق سمجھنے سے شفاعت اور توسل کے صحیح مفہوم کو سمجھا جا سکتا ہے اور غیر شرعی تصورات سے بچا جا سکتا ہے۔
شفاعت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے، اور شیعہ مکتب فکر میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، شفاعت کا تصور قرآن، احادیث، اور اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات سے ثابت ہے۔
شیعہ عقیدہ کے مطابق، شفاعت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں (نبی اکرم ﷺ، ائمہ اہل بیت علیہم السلام اور دیگر مقرب ہستیوں) کو اختیار دیتا ہے کہ وہ گناہگاروں کی سفارش کریں، تاکہ ان کی مغفرت ہو اور وہ اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں۔
سورہ یونس (10:3)
"اللہ وہی ہے جو تمہارا پروردگار ہے، کوئی بھی اس کے اذن کے بغیر شفاعت کرنے والا نہیں۔"
سورہ طہ (20:109)
"اس دن شفاعت نفع نہ دے گی مگر جس کو رحمان اجازت دے اور جس کی بات کو وہ پسند کرے۔"
سورہ نساء (4:64)
"اور اگر وہ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آپ (ﷺ) کے پاس آتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے دعا کرتے تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔"
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں، ان میں سے ایک شفاعت ہے، میں اسے اپنی امت کے گناہگاروں کے لیے محفوظ رکھوں گا۔" (صحیح مسلم)
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "ہمارا مقام شفاعت وہی مقام ہے جو اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے، اور جو بھی ہماری محبت اور ولایت پر قائم رہے گا، وہ ہماری شفاعت سے محروم نہ ہوگا۔" (بحار الانوار)
شیعہ عقیدہ میں شفاعت کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں:
یہ وہ شفاعت ہے جو قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ فرمائیں گے تاکہ امت کے گناہگاروں کو اللہ کی رحمت حاصل ہو۔
ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) اللہ کے خاص بندے ہیں اور ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے شفاعت کا حق رکھا ہے۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق، امام علی (علیہ السلام) اور دیگر آئمہ (علیہم السلام) اپنی امت کے لیے قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔
شیعہ عقیدہ کے مطابق، قرآن کی تعلیمات اور احادیث کی روشنی میں یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ نیک بندوں، شہداء، اور علماء کو بھی شفاعت کا اختیار دے گا۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ شہید کی شفاعت ستر افراد کے لیے قبول ہوتی ہے۔
بعض اعمال خود شفاعت کا سبب بنتے ہیں، جیسے:
امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
"قیامت کے دن قرآن شفاعت کرے گا، اور وہ شخص کامیاب ہوگا جو قرآن سے وابستہ ہوگا۔" (اصولِ کافی)
شفاعت کی اصل طاقت اللہ کے پاس ہے
شفاعت کرنے والے صرف اللہ کے اذن سے سفارش کر سکتے ہیں۔
سورہ البقرہ (2:255) میں بیان ہوا: "اللہ کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت نہیں کر سکتا۔"
شفاعت، گناہ پر اصرار کرنے والوں کے لیے نہیں
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر گناہ کرتا رہے اور توبہ نہ کرے، تو وہ شفاعت کا مستحق نہیں۔
امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص گناہ پر اصرار کرے اور شفاعت کی امید رکھے، وہ خود کو دھوکہ دے رہا ہے۔"
شفاعت، ولایتِ اہل بیت سے جڑی ہے
شیعہ عقیدہ کے مطابق، شفاعت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو اہل بیت (علیہم السلام) کی محبت اور ولایت رکھتے ہیں۔
امام حسین (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "ہماری شفاعت اس شخص کے لیے ہے جو ہمارے راستے پر چلے اور ہم سے سچا تعلق رکھے۔"
قیامت کے دن درجات کی بلندی کے لیے بھی شفاعت
جو نیک لوگ ہیں، ان کے درجے بلند کرنے کے لیے بھی شفاعت ہوگی۔
شیعہ عقیدہ کے مطابق، شفاعت ایک حقیقی اسلامی عقیدہ ہے، جو قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ یہ عقیدہ اللہ کی رحمت کا مظہر ہے اور گناہگاروں کے لیے امید کی کرن ہے، مگر یہ اللہ کی مشیت اور ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) کی ولایت پر منحصر ہے۔