ایک دفہ کا ذکر ہے میں ایک خوبصورت سفر پر جا رہا تھا راستے کافی تویل اور سفر کافی لمبا تھا تو میں نے ایک پاس والے جنگل سے گزرنے کو بہتر سمجھا۔ ویسے تو جنگ کافی بیابان تھا اور کافی زیادہ گھنے درخت تھے۔ جس میں چلتے وقت یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کہ دن میں رات ہوگئی ہو۔ میں چل چل کر تھک چکا تھا اسی لئے ایک پیڑ کے تنے کے ساتھ کچھ دیر آرام کے لئے بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں ، میں نے چلنے کا ارادہ کیا کہ سفر کو جاری کیا جائے۔ کچھ فاصلے پر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں کچھ بکرے بکریاں ہیں۔ جو کہ بظاہر تو جنگلی لگ رہے تھے مگر مجھے دیکھ کر انہوں نے ایک کہرام سا برپا کر دیا جیسے کہ وہ مجھے اپنا دشمن تسلیم کرتے ہوں۔
عجب تھا کہ جن سے ہمیں ڈرنا چاہئے تھا وہ آج ہم ہی سے ڈر رہے تھے۔ انسان کے موجودہ ظلم کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ اب بے زبان جانور بھی اس کے ظلم سے لرز رہے ہیں۔ دواصل یہ ایک واقعہ نہیں ایک سبق ہے جسے ہمیں کھبی بھی بھولنا نہیں چاہئے۔ اس واقع کو یہاں اسی لئے بیان کرنا مناسب سمجھا کیوں کہ یہ میری تحریر کا اہم حصہ ہے۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ عید قرباں کی آمد آمد ہے۔ اور ہر طرف سنت ابراہیمی کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ اسی دوران کچھ تاجر صفت افراد بھی اپنے ہتیار تیز کر لیتے ہیں۔ جس میں قصائی، اور جانور کے بیوپاری میدان میں اتر آتے ہیں۔ اس وجہ سے مارکیٹ کا رخ کرنے والے افراد انتہائی مشکلات کا ششکار ہوجاتے ہیں۔
ملک میں اسوقت جانوروں کی خرید و فروخت عروج پر ہے۔ اس وقت جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی دیکھائی دے رہی ہیں۔ اس طرح کی قیمت میں اڑان کا اثر ہر کسی طبقے کو انتہائی متاثر کرے گا۔ جس کی وجہ سے لوگ اس سنت کی پیروی سے ببی دور جا نا شروع کر دیں گے۔ اس سے معاشرے کے ہر طبقے پر اثر مرتب ہونا شروع ہوگا۔ جس کی پیروی کے لئے عوام الناس کسی بھی راستے کو اختیار کرنے سے گریذ نہی کریں گے۔ جس سے ماشرے میں بدامنی اور معاشرتی تناؤ میں اضافہ ہوگا۔ اس لئے اس عید پر ان تمام انتظامات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
اب بات کرتے ہیں بکرے بھئیا کی ان کی تو جیسے تیسے شامت پکی ہے۔ ان کا انسانوں کا یہ روئیہ دیکھ کر خود پر کبھی فخر اور کبھی شکر کی کیفیات طاری ہیں۔ اگر وہ بے زبان کلام کر پاتا تو انسانوں کے روئیے پر کافی رنج و الم کا اظہار کرتا۔ پہلے بیوپاری ، پھر بچوں اور آخر میں قصائی سے شکووں کی ایک تویل فہرست چھوڑ جاتا۔ پہلے تو بچوں کے ہاتھ میں اپنی تمام ہڈیوں کا درست علاج کرواتا اور پھر تھک کر لیٹ جاتا تو قصائی کی آمد کی خبر سنتا۔ جس کے بعد اس کی بے رحمی کی داستان کو بیان کرتا اور اپنی زندگی کی بھیک مانگتا مگر کوئی فریاد رس نہ پاتا اور اپنی دنیا سے روانگی کو اپنے لئے عافیت جانتا۔
دراسل یہ وہ موقع ہوتا ہے جس سے ایمان کی تازگی کا وجود ہونا چاہئے۔ مگر اس موقع پر بھی چند شر پسند اور مفاد پرست میدان میں آجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایمان تو دور کی بات اس قربانی کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔اس وقت دکھاوا عروج اختیار کر لیتا ہے اور قربانی کی فضیلت فوت ہوجاتی ہے۔ اس کے بات ایک بسیار خوری کا دور شروع ہوتا ہے جو کے اسلامی اصلوں کے خلاف ہے اور اس سے معاشرہ اور فضائ دونوں ہی متاثر ہو سکتی ہیں۔