ذِمہ داری
2026-07-09
تحریر ۔ شاہد شکیل
بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے نازک، سب سے حساس اور سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ صرف گھروں کی رونق نہیں ہوتے، بلکہ آنے والے وقت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جس معاشرے کے بچے محفوظ، پُراعتماد، باعزت اور ذہنی طور پر مضبوط ہوں، وہ معاشرہ اپنے مستقبل کے بارے میں امید رکھ سکتا ہے۔ لیکن جس معاشرے میں بچے خوف، الجھن، خاموشی، عدم تحفظ اور بڑوں کی غلطیوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے بڑے ہوں، وہاں مستقبل کمزور ہو جاتا ہے، چاہے عمارتیں کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں۔والدین کے لیے اولاد اللہ کی امانت بھی ہے اور ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی۔ بچہ دنیا میں آتے ہی اپنا حق مانگتا نہیں، مگر اس کا حق موجود ہوتا ہے۔ اسے محبت چاہیے، تحفظ چاہیے، توجہ چاہیے، عزت چاہیے، تربیت چاہیے، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا ماحول چاہیے جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کرے۔ بچہ صرف کھانے، کپڑے، اسکول اور علاج سے مکمل نہیں ہوتا۔ اس کی شخصیت گھر کے ماحول، والدین کے رویے، الفاظ، لہجے، محبت اور اعتماد سے بنتی ہے۔اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کی ذمہ داری کا مطلب صرف ان کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ انہیں اچھا کھانا مل جائے، اچھا لباس مل جائے، اسکول میں داخلہ ہو جائے، فیس ادا ہو جائے، کتابیں آ جائیں، تو گویا فرض ادا ہو گیا۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ بچے کو صرف سہولت نہیں چاہیے، اسے جذباتی حفاظت بھی چاہیے۔ اسے یہ یقین چاہیے کہ گھر اس کی پناہ ہے، ماں باپ اس کے اپنے ہیں، اور اس کی بات سنی جاتی ہے۔بچہ اپنی عمر کے حساب سے دنیا کو سمجھتا ہے۔ وہ بڑوں کی طرح دلیل نہیں کر سکتا، مگر محسوس بہت گہرائی سے کرتا ہے۔ وہ والدین کے چہرے پڑھتا ہے، آواز کا اتار چڑھاؤ سمجھتا ہے، گھر کی فضا محسوس کرتا ہے، خاموشی کا بوجھ پہچانتا ہے، اور محبت کی کمی کو الفاظ کے بغیر بھی جان لیتا ہے۔ اس لیے والدین کا ہر رویہ بچے کی شخصیت پر اثر ڈالتا ہے۔ ایک نرم جملہ اسے اعتماد دے سکتا ہے، اور ایک سخت جملہ اس کے دل میں برسوں کا خوف بٹھا سکتا ہے۔جب والدین کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے ہیں تو بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں ہوتے، مگر اس کے اثرات سب سے زیادہ ان پر پڑتے ہیں۔ بڑے لوگ اپنی بات کہہ لیتے ہیں، اپنا غصہ نکال لیتے ہیں، اپنی صفائی دے دیتے ہیں، اپنی طرف داری جمع کر لیتے ہیں، مگر بچہ خاموش رہتا ہے۔ وہ نہ مکمل سمجھ پاتا ہے، نہ کسی کو سمجھا پاتا ہے۔ اس کی خاموشی کو اکثر سکون سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ کئی بار یہی خاموشی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی علامت ہوتی ہے۔والدین کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ بچوں کے سامنے ان کا رویہ صرف وقتی نہیں ہوتا، تربیتی بھی ہوتا ہے۔ بچہ سیکھتا ہے کہ اختلاف کیسے کیا جاتا ہے، غصہ کیسے سنبھالا جاتا ہے، معافی کیسے مانگی جاتی ہے، دوسرے کی بات کیسے سنی جاتی ہے، اور رشتہ کیسے نبھایا جاتا ہے۔ اگر وہ گھر میں صرف چیخ، الزام، ضد، خاموشی، بے عزتی اور دوری دیکھے گا، تو وہ رشتوں کے بارے میں کیا سیکھے گا؟ اگر وہ دیکھے گا کہ ہر مسئلے کا جواب غصہ ہے، تو وہ خود بھی غصے کو زبان بنا لے گا۔اسی لیے والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کو نصیحت کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اپنے عمل سے مثال قائم کرنے تک ہے۔ بچے وہ نہیں بنتے جو والدین کہتے ہیں، بچے زیادہ تر وہ بنتے ہیں جو والدین کرتے ہیں۔ اگر والدین سچ بولنے کی نصیحت کریں مگر خود جھوٹ بولیں، احترام کی بات کریں مگر ایک دوسرے کی بے عزتی کریں، صبر کا درس دیں مگر ہر بات پر بھڑک اٹھیں، تو بچہ نصیحت نہیں، عمل سیکھے گا۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ ہے، اور والدین اس کے پہلے استاد ہیں۔طلاق یا علیحدگی اگر زندگی کی مجبوری بن جائے تو بھی والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ راستے جدا ہو سکتے ہیں، مگر اولاد کی ذمہ داری جدا نہیں ہوتی۔ ماں اور باپ کا رشتہ آپس میں بدل سکتا ہے، مگر بچے کے ساتھ رشتہ نہیں بدلنا چاہیے۔ بچے کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ والدین کے اختلافات کے ساتھ اس کی محبت بھی تقسیم ہو گئی ہے۔ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ماں سے بھی محبت کرے اور باپ سے بھی، بغیر کسی خوف، جرم یا دباؤ کے۔بچے کو یہ یقین دلانا بہت ضروری ہے کہ وہ قصوروار نہیں ہے۔ والدین کے تنازعات، اختلافات، علیحدگی یا طلاق کی ذمہ داری بچے پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ بہت سے بچے اپنی کم عمری، معصومیت اور محدود سمجھ کی وجہ سے خود کو ہی وجہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ شاید میں اچھا بچہ نہیں تھا، شاید میری وجہ سے جھگڑا ہوا، شاید اگر میں خاموش رہتا، بہتر پڑھتا، کم ضد کرتا، تو گھر نہ ٹوٹتا۔ یہ سوچ بچے کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ والدین کو بار بار، محبت سے، نرمی سے اور عمل سے اسے یہ احساس دلانا ہوگا کہ اس کا کوئی قصور نہیں۔بچے کی زندگی میں مستقل مزاجی بہت اہم ہوتی ہے۔ اگر گھر بدل جائے، معمولات بدل جائیں، والدین کا ساتھ بدل جائے، تو بھی کچھ چیزیں مستحکم رہنی چاہئیں۔ محبت مستحکم رہے، رابطہ مستحکم رہے، توجہ مستحکم رہے، اسکول اور تربیت پر نظر مستحکم رہے، اور سب سے بڑھ کر بچے کو یہ احساس مستحکم رہے کہ وہ کسی کے لیے بوجھ نہیں ہے۔ جب بچہ خود کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے تو اس کے اندر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔والدین کو اپنے دکھ اور غصے کے باوجود بچے کے سامنے ایک دوسرے کے لیے کم از کم بنیادی احترام برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ آسان نہیں ہوتا، مگر ضروری ہوتا ہے۔ اگر بچہ ہر وقت ایک والدین کے منہ سے دوسرے کے خلاف زہر سنتا رہے تو اس کے دل میں محبت، وفاداری اور شناخت کے درمیان کشمکش پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھ نہیں پاتا کہ جس انسان سے میں محبت کرتا ہوں، اسے برا کیوں کہا جا رہا ہے۔ یہ ذہنی الجھن بچے کو اندر سے تھکا دیتی ہے۔بچے کو بڑوں کی جنگ کا قیدی نہیں بنانا چاہیے۔ اسے پیغام رسانی کے لیے استعمال کرنا، ایک دوسرے کی خبر لینے کا ذریعہ بنانا، اپنی مظلومیت سنانے کے لیے استعمال کرنا، یا اسے مجبور کرنا کہ وہ کسی ایک طرف کھڑا ہو، یہ سب بچے کی روح پر بوجھ ڈالتا ہے۔ بچہ ماں باپ کے درمیان پل بن سکتا ہے، مگر میدانِ جنگ نہیں۔ اسے محبت کی ضرورت ہے، سیاست کی نہیں۔ اسے تحفظ چاہیے، طرف داری نہیں۔والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر بچہ اپنے درد کو ایک ہی طرح ظاہر نہیں کرتا۔ کوئی بچہ رو لیتا ہے، کوئی خاموش ہو جاتا ہے، کوئی غصہ کرنے لگتا ہے، کوئی پڑھائی سے دور ہو جاتا ہے، کوئی بہت زیادہ فرمانبردار بن جاتا ہے تاکہ گھر میں مزید مسئلہ نہ ہو۔ بعض اوقات بچہ اتنا ڈر جاتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات بھی بیان کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اس لیے بچے کے رویے کو سطحی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر بچہ غیر معمولی خاموشی، خوف، غصہ، اداسی، نیند کی خرابی، پڑھائی میں کمی، لوگوں سے دوری یا بے چینی دکھا رہا ہو تو اسے صرف ڈانٹنا مسئلے کا حل نہیں۔ ایسے وقت میں بچے کو سننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے یہ کہنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ تم جو محسوس کر رہے ہو، وہ اہم ہے۔ اور اگر ضرورت ہو تو ماہرِ نفسیات یا تربیت یافتہ مشیر کی مدد لینے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے۔ جس طرح جسمانی بیماری کا علاج کیا جاتا ہے، اسی طرح ذہنی زخموں کو بھی توجہ، علاج اور سہارا چاہیے۔ہمارے معاشرے میں اکثر بچوں کی نفسیاتی تکلیف کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ بچہ ہے، بھول جائے گا۔ مگر بچے سب کچھ نہیں بھولتے۔ بہت سی چیزیں ان کے اندر بیٹھ جاتی ہیں۔ کبھی وہ خوف بن کر ظاہر ہوتی ہیں، کبھی اعتماد کی کمی بن کر، کبھی رشتوں سے ڈر بن کر، کبھی غصے کی صورت میں، اور کبھی زندگی بھر کی خاموش اداسی بن کر۔ اس لیے یہ سوچ غلط ہے کہ وقت خود سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ وقت تب مدد کرتا ہے جب اس کے ساتھ محبت، رہنمائی اور ذمہ داری بھی ہو۔والدین کو اپنی ذاتی تکلیف کے ساتھ ساتھ بچے کے مستقبل کو بھی دیکھنا ہوگا۔ مستقبل صرف اسکول، ڈگری اور نوکری کا نام نہیں۔ مستقبل بچے کی شخصیت، سوچ، اعتماد، تعلقات، جذباتی صحت اور زندگی پر یقین کا نام بھی ہے۔ اگر بچہ اندر سے ٹوٹا ہوا بڑا ہو، اگر اسے خود پر اعتماد نہ ہو، اگر اسے رشتوں سے خوف ہو، اگر اس کے دل میں مسلسل عدم تحفظ ہو، تو صرف تعلیم اسے مکمل نہیں بنا سکتی۔ تعلیم کے ساتھ جذباتی سلامتی بھی ضروری ہے۔اگر والدین الگ ہو جائیں تو بھی مشترکہ ذمہ داری کا احساس باقی رہنا چاہیے۔ بچے کے اسکول، صحت، تربیت، ملاقات، مالی ضروریات، جذباتی کیفیت اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے سنجیدہ بات چیت ضروری ہے۔ یہ بات چیت جھگڑے، الزام اور پرانے زخم کھولنے کے لیے نہیں، بچے کی بہتری کے لیے ہونی چاہیے۔ والدین اگر اپنے اختلافات سے اوپر اٹھ کر بچے کے حق میں بات کر سکیں تو بہت سے نقصان کم ہو سکتے ہیں۔یہاں قریبی رشتے داروں، دوستوں اور خاندان کا کردار بھی اہم ہے۔ انہیں آگ کو بڑھانے کے بجائے کم کرنا چاہیے۔ اکثر خاندانوں میں مسئلہ میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے، مگر رشتے دار اسے انا، غیرت، ضد اور بدلے کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اس کا نقصان بھی بچوں کو ہوتا ہے۔ جو لوگ واقعی خیر خواہ ہوں، انہیں بچوں کے مفاد کو سب سے پہلے رکھنا چاہیے۔ ہر مشورہ جو گھر توڑ دے، ضروری نہیں کہ غیرت مند ہو؛ بعض اوقات اصل غیرت گھر اور بچوں کو بچانے میں ہوتی ہے۔بچے کو سچ بتانا بھی ضروری ہے، مگر سچ کا طریقہ اس سے زیادہ ضروری ہے۔ بچے کو جھوٹے خواب، غلط امیدیں، ایک دوسرے کے خلاف باتیں یا تلخ تفصیلات دینا مناسب نہیں۔ اسے عمر کے مطابق، نرم الفاظ میں، محبت اور یقین کے ساتھ بات سمجھانی چاہیے۔ سچ اگر سختی سے کہا جائے تو زخم بن جاتا ہے، اور اگر حکمت سے کہا جائے تو سمجھ کا راستہ بن سکتا ہے۔ والدین کو یہی فرق سمجھنا ہوگا۔بچے کو یہ بھی محسوس ہونا چاہیے کہ اس کی بات کی اہمیت ہے۔ اس سے پوچھا جائے کہ وہ کیسا محسوس کر رہا ہے، اسے کس چیز سے ڈر لگتا ہے، اسے کیا چاہیے، وہ کس بات سے پریشان ہے۔ مگر یہ سوال تفتیش کی طرح نہیں، محبت کی طرح ہونے چاہئیں۔ بچے کو بولنے کی جگہ دی جائے، مگر فیصلہ کرنے کا بوجھ اس پر نہ ڈالا جائے۔ وہ اپنی تکلیف بیان کر سکتا ہے، مگر بڑوں کے فیصلوں کا ذمہ دار نہیں بن سکتا۔غلطی ماننا والدین کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔ اگر ماں یا باپ سے بچے کے سامنے سختی ہوئی، تلخ بات ہوئی، بے توجہی ہوئی، یا کسی وقت بچے کو نظر انداز کیا گیا، تو معافی مانگنا کمزوری نہیں۔ بچے سے معافی مانگنے والا والدین چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ انسان اپنی غلطی تسلیم کر سکتا ہے۔ یہی سبق بچے کو زندگی بھر کام آتا ہے۔ جو والدین خود احتسابی دکھاتے ہیں، وہ بچے کے اندر بھی انصاف اور نرمی پیدا کرتے ہیں۔بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے والدین کو اپنی انا، غصے اور ذاتی جنگ سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ یہ آسان نہیں، مگر ضروری ہے۔ ہر انسان اپنے دکھ کو بڑا سمجھتا ہے، مگر بچے کا دکھ اکثر اس سے بھی گہرا ہوتا ہے کیونکہ وہ بے بس ہوتا ہے۔ وہ نہ حالات بدل سکتا ہے، نہ بڑوں کو روک سکتا ہے، نہ اپنے دل کی پوری بات سمجھا سکتا ہے۔ اسی لیے بڑوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ طاقت جس کے پاس ہو، ذمہ داری بھی اسی کی زیادہ ہوتی ہے۔آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بچہ کسی بھی تنازع کا سامان نہیں، کسی بھی رشتے کا بوجھ نہیں، اور کسی بھی بڑوں کی ناکامی کی سزا کا مستحق نہیں۔ وہ ایک زندہ دل، حساس اور مکمل انسان ہے۔ اس کی عزت ہے، اس کا حق ہے، اس کی آواز ہے، اس کا مستقبل ہے۔ اگر والدین واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں تو انہیں یہ محبت صرف لفظوں میں نہیں، فیصلوں، رویوں اور قربانیوں میں دکھانی ہوگی۔بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا حال محفوظ کیا جائے۔ ایک خوف زدہ بچہ کل کا پُراعتماد انسان نہیں بن سکتا۔ ایک نظر انداز بچہ کل کا مضبوط فرد نہیں بن سکتا۔ ایک ایسا بچہ جو محبت کے لیے ترستا رہا ہو، وہ زندگی بھر رشتوں پر آسانی سے یقین نہیں کر پاتا۔ اس لیے بچوں کو صرف بڑا نہ کریں، انہیں سنبھالیں بھی۔ صرف پڑھائیں نہیں، انہیں سمجھیں بھی۔ صرف نصیحت نہ کریں، انہیں محبت، وقت، تحفظ اور اعتماد بھی دیں۔معاشرہ تب بہتر ہوگا جب گھر بہتر ہوں گے، اور گھر تب بہتر ہوں گے جب والدین اپنی ذمہ داری کو صرف اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھیں گے۔ بچے قوم کا مستقبل ہیں، یہ جملہ ہم بہت کہتے ہیں، مگر اس جملے کو سچ بنانے کے لیے بچوں کا آج محفوظ، باعزت اور پُرسکون ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کو اپنے اختلافات، اپنی انا، اپنی ضد اور اپنی غفلت کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دیا تو پھر آنے والا کل بھی ہمارے آج کی طرح زخمی ہوگا۔بچوں کا مستقبل والدین کے ہاتھ میں ایک نازک چراغ کی طرح ہے۔ اگر اسے محبت، حفاظت، سچائی، نرمی اور ذمہ داری سے تھاما جائے تو یہ چراغ روشنی دے سکتا ہے۔ مگر اگر اسے غصے، ضد، بے توجہی اور انا کی آندھی میں چھوڑ دیا جائے تو اس کی لو کمزور پڑ سکتی ہے۔ فیصلہ والدین کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنی اولاد کو روشنی دیں گے یا اپنے اختلافات کا اندھیرا۔