والدین
2026-07-04
تحریر ۔ شاہد شکیل
ایک گھر صرف دیواروں، چھت، دروازے اور سامان سے نہیں بنتا۔ گھر اس وقت بنتا ہے جب اس کے اندر کسی کی محنت، برداشت، بھوک، نیند، خاموشی اورقربانی شامل ہو۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اسے کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ اسے نہ روٹی کمانا آتا ہے، نہ چلنا آتا ہے، نہ بولنا آتا ہے، نہ دنیا کا فرق سمجھ آتا ہے۔ وہ مکمل طور پر دوسروں کے رحم، محبت اور ذمہ داری پر ہوتا ہے۔ اسی کمزوری سے اس کی زندگی شروع ہوتی ہے۔ماں باپ انسان کی زندگی کے پہلے محافظ ہوتے ہیں۔ وہ کامل نہیں ہوتے، غلطیوں سے پاک نہیں ہوتے، مگر اولاد کے وجود کی پہلی بنیاد وہی ہوتے ہیں۔ ایک بچہ جب رات کو روتا ہے تو کوئی جاگتا ہے۔ جب بیمار ہوتا ہے تو کوئی پریشان ہوتا ہے۔ جب بھوکا ہوتا ہے تو کوئی پہلے اسے کھلاتا ہے۔ جب گرتا ہے تو کوئی اٹھاتا ہے۔ جب چلنا سیکھتا ہے تو کوئی ہاتھ پکڑتا ہے۔ جب بولنا سیکھتا ہے تو کوئی اس کی ٹوٹی ہوئی زبان بھی سمجھتا ہے۔ یہ معمولی باتیں نہیں ہوتیں۔ یہی زندگی کی بنیاد ہوتی ہیں۔مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں اولاد بڑی ہو کر یہ سمجھنے لگتی ہے کہ اسے جو کچھ ملا، وہ سب خود بخود مل گیا۔ جیسے بچپن خود چل کر جوانی تک پہنچ گیا۔ جیسے روٹی خود پک کر سامنے آتی رہی۔ جیسے کپڑے خود خریدے جاتے رہے۔ جیسے بیماری خود ٹھیک ہوتی رہی۔ جیسے اسکول، علاج، حفاظت، چھت، عزت اور پرورش کسی اَن دیکھی چیز نے دے دی۔ جب انسان اپنے پیچھے لگی ہوئی محنت کو بھول جاتا ہے تو وہ احسان کو حق سمجھنے لگتا ہے۔حق اپنی جگہ ہے۔ اولاد کا حق ہے کہ اسے پالا جائے، سنبھالا جائے، محفوظ رکھا جائے۔ لیکن حق کا مطلب یہ نہیں کہ انسان شکرگزاری سے خالی ہو جائے۔ اگر کسی کا فرض تھا کہ اس نے تمہیں پالا، پھر بھی اس فرض کو نبھانے میں اس کی عمر لگی، اس کا وقت لگا، اس کی طاقت لگی، اس کی جوانی لگی۔ ایک آدمی صرف پیسہ خرچ نہیں کرتا، وہ اپنے دن خرچ کرتا ہے۔ ایک عورت صرف کھانا نہیں بناتی، وہ اپنی نیند، اپنا جسم، اپنی صحت اور اپنی زندگی کے سال خرچ کرتی ہے۔ یہ سب حساب کتاب کی چیزیں نہیں، مگر یہ سب انسان کے وجود میں شامل رہتی ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ آج بہت سے گھروں میں ماں باپ کو محسن کے بجائے پرانا سامان سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب تک وہ کماتے ہیں، گھر چلاتے ہیں، سہارا دیتے ہیں، بچوں کے کام آتے ہیں، تب تک ان کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے ہی وہ کمزور ہوتے ہیں، بیمار ہوتے ہیں، بوڑھے ہوتے ہیں، محتاج ہوتے ہیں، ان کا مقام بدلنے لگتا ہے۔ پہلے وہ گھر کا سایہ ہوتے ہیں، پھر بوجھ کہلانے لگتے ہیں۔ پہلے ان کی دعائیں چاہیے ہوتی ہیں، پھر ان کی دوائیاں مہنگی لگنے لگتی ہیں۔ پہلے ان کے نام سے عزت لی جاتی ہے، پھر ان کی موجودگی سے تنگی محسوس ہونے لگتی ہے۔یہاں اصل خرابی شروع ہوتی ہے۔ جس انسان کو اپنے ماں باپ میں اپنی جڑ نظر نہیں آتی، وہ اپنی اولاد کو بھی جڑ کا مطلب نہیں سکھا سکتا۔ جو شخص اپنے باپ کی تھکن نہیں سمجھتا، وہ اپنے بیٹے کو محنت کی عزت کیسے سکھائے گا؟ جو اپنی ماں کے ہاتھ کی روٹی کھا کر بڑا ہوا اور پھر اسی ماں کی کمزوری کو بوجھ سمجھنے لگا، وہ انسانیت کے کس درجے پر کھڑا ہے؟بڑھاپا انسان کی شکست نہیں ہوتا۔ بڑھاپا اس سفر کا آخری حصہ ہوتا ہے جس میں ایک انسان نے دوسروں کو اٹھاتے اٹھاتے خود کمزور ہونا قبول کیا ہوتا ہے۔ آج جو جوان ہے، کل وہ بھی بوڑھا ہوگا۔ آج جسے اپنے والدین کی سست چال بُری لگتی ہے، کل اس کی اپنی ٹانگیں بھی جواب دیں گی۔ آج جسے ان کی بار بار کی باتیں پریشان کرتی ہیں، کل وہ خود ایک ہی بات کئی بار دہرائے گا۔ آج جسے بزرگ کی دوا، کھانسی، کمزوری اور ضرورت تنگ کرتی ہے، کل اسے بھی کسی کے صبر کی ضرورت پڑے گی۔گھر کا اصل امتحان خوشحالی میں نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب گھر میں کوئی کمزور ہو جائے۔ جب کوئی کمانا چھوڑ دے۔ جب کسی کو سہارے کی ضرورت پڑے۔ جب کوئی بار بار بلائے۔ جب کوئی خود اٹھ کر پانی نہ پی سکے۔ جب کوئی بات کرتے کرتے بھول جائے۔ جب کسی کے ہاتھ کانپنے لگیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جہاں معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں انسان رہتے ہیں یا صرف فائدہ اٹھانے والے لوگ رہتے ہیں۔والدین کو محسن سمجھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اولاد اپنی زندگی چھوڑ دے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر ظلم، ہر غلطی، ہر سختی کو برداشت کیا جائے۔ نہیں۔ محسن سمجھنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان اپنے وجود کی بنیاد کو نہ بھولے۔ اختلاف ہو سکتا ہے، فاصلہ ہو سکتا ہے، اپنی زندگی ہو سکتی ہے، اپنا راستہ ہو سکتا ہے، مگر دل کے اندر یہ شعور مرنا نہیں چاہیے کہ کسی نے کبھی ہمیں اٹھایا تھا، جب ہم خود کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔جو معاشرہ اپنے بوڑھوں کو عزت نہیں دیتا، وہ دراصل اپنی آنے والی نسلوں کو بتا رہا ہوتا ہے کہ کمزور انسان کی کوئی قیمت نہیں۔ پھر بچے بھی یہی سیکھتے ہیں کہ جب کوئی کام کا نہ رہے تو اسے کنارے کر دو۔ جب کوئی فائدہ نہ دے تو اسے بھلا دو۔ جب کوئی کمزور ہو جائے تو اس کی آواز سننے کی ضرورت نہیں۔ یہی سوچ آگے چل کر رشتوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔رشتہ صرف خون کا نام نہیں۔ رشتہ یاد کا نام ہے۔ رشتہ محنت کا نام ہے۔ رشتہ اس خاموش تاریخ کا نام ہے جو ایک انسان دوسرے انسان کے لیے اپنے اندر اٹھائے پھرتا ہے۔ ماں باپ کے چہرے پر جھریاں صرف عمر کی لکیریں نہیں ہوتیں؛ وہ اولاد کے لیے گزارے گئے سالوں کی نشانیاں بھی ہوتی ہیں۔ باپ کے ہاتھ کی سختی صرف مزدوری کی سختی نہیں، گھر اٹھانے کی سختی بھی ہوتی ہے۔ ماں کی تھکن صرف جسم کی تھکن نہیں، پوری عمر کی ذمہ داری کا بوجھ بھی ہوتی ہے۔انسان کو بڑا گھر، بڑی گاڑی، بڑا عہدہ، بڑی زبان اور بڑا لباس بڑا نہیں بناتے۔ انسان اس وقت بڑا بنتا ہے جب وہ اپنے سے کمزور کے ساتھ اپنے سلوک میں بڑا ثابت ہو۔ اور اپنے بوڑھے والدین سے کمزور اس کے سامنے کون ہوتا ہے؟ وہی والدین جو کبھی اس کے لیے دیوار تھے، ایک دن خود سہارے کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ اس دن اولاد کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ والدین کی خدمت صرف پرانی سوچ ہے۔ مگر یہ خدمت اگر زبردستی، دکھاوے یا دباؤ سے ہو تو واقعی بے جان ہے۔ اصل چیز خدمت کا نام نہیں، احساس ہے۔ اگر احساس زندہ ہے تو دور رہ کر بھی احترام کیا جا سکتا ہے۔ اگر احساس مر گیا ہے تو ایک ہی گھر میں رہ کر بھی انسان والدین کو تنہا کر سکتا ہے۔سب سے خطرناک موت جسم کی نہیں ہوتی۔ سب سے خطرناک موت احساس کی ہوتی ہے۔ جب اولاد کے دل سے یہ احساس مر جائے کہ اس کی زندگی کسی کی قربانی سے بنی ہے، تو پھر وہ تعلیم یافتہ ہو کر بھی اندر سے خالی رہتی ہے۔ وہ دنیا کو تو سمجھ لیتی ہے، مگر اپنے گھر کی بنیاد نہیں سمجھتی۔ وہ قانون، کاروبار، ترقی، آزادی سب کی بات کرتی ہے، مگر اس ہاتھ کو بھول جاتی ہے جس نے کبھی اسے گرنے سے بچایا تھا۔ماں باپ کو محسن سمجھنا انسان کو غلام نہیں بناتا۔ یہ انسان کو انسان بناتا ہے۔ کیونکہ جو اپنی جڑ پہچانتا ہے، وہ اپنے قد کا غرور کم کرتا ہے۔ جو اپنے آغاز کو یاد رکھتا ہے، وہ اپنے انجام سے بھی ڈرتا ہے۔ اور جو اپنے محسن کو بوجھ نہیں سمجھتا، وہ شاید اپنی اولاد کے لیے بھی ایک بہتر مثال چھوڑ جاتا ہے۔اصل بات اتنی سی ہے: جس گھر میں ماں باپ کی قدر ختم ہو جائے، وہاں صرف بزرگ نہیں مرتے، وہاں انسانیت کا ایک حصہ مر جاتا ہے۔