وِراثت

2026-07-27

تحریر ۔ شاہد شکیل

انسان کی زندگی میں مشورے دینے والوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔ کوئی ماں باپ کے نام پر بولتا ہے، کوئی خاندان، مذہب، روایت، برادری، عزت، تجربے یا محبت کو دلیل بناتا ہے۔ ہر طرف سے آوازیں آتی ہیں کہ یہ کرو، وہ مت کرو، یہ رشتہ قبول کر لو، اس رشتے سے انکار کر دو، یہاں رہو، وہاں مت جاؤ، اس شخص سے شادی کر لو، اس فیصلے سے باز آ جاؤ، ورنہ لوگ کیا کہیں گے، خاندان کیا سوچے گا اور ماں باپ کا دل ٹوٹ جائے گا۔ انسان چونکہ تنہا نہیں جیتا بلکہ رشتوں، تعلقات، خاندان اور معاشرے کے درمیان رہتا ہے، اس لیے دوسروں کی رائے سننا فطری بھی ہے اور بعض اوقات ضروری بھی۔ مسئلہ مشورہ لینے میں نہیں، بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی عقل، ضمیر اور ذمہ داری کو معطل کرکے اپنی زندگی کا اختیار دوسروں کی آوازوں کے حوالے کر دیتا ہے۔مشورہ لینا کمزوری نہیں، مگر ہر مشورے کو بغیر سوچے اپنی تقدیر بنا لینا کمزوری ضرور ہے۔ دوسروں کا تجربہ انسان کو کسی ممکنہ خطرے سے خبردار کر سکتا ہے، لیکن کوئی دوسرا شخص اس کی جگہ زندگی نہیں گزار سکتا۔ فیصلہ خواہ خاندان کے دباؤ سے ہو، رشتہ داروں کی خواہش سے ہو یا معاشرے کے خوف سے، اس کے نتائج آخرکار اسی انسان کو برداشت کرنا پڑتے ہیں جس کی زندگی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ شادی خاندان کی مرضی سے ہو سکتی ہے، مگر اس رشتے کے اندر صبح و شام دو انسانوں کو رہنا پڑتا ہے۔ بیٹی کی زندگی عزت کے نام پر روک دی جائے تو اس کے اندر پیدا ہونے والی خاموشی، خوف اور ٹوٹا ہوا اعتماد خاندان کے دوسرے افراد نہیں اٹھاتے۔ بیٹے کو خاندانی کاروبار، نام اور توقعات کے نیچے دبا دیا جائے تو اس کی بے سکونی اسی کے دل میں جمع ہوتی ہے۔ والدین بچے کو اپنی پسند کے سانچے میں ڈھال سکتے ہیں، مگر اپنی شناخت کھونے کا درد بچے کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔لوگ مشورہ دے کر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ رشتہ دار چند دن گفتگو کرتے ہیں، برادری کچھ عرصہ شور مچاتی ہے اور پھر کسی نئے معاملے میں مصروف ہو جاتی ہے۔ لیکن جس شخص کی زندگی کا فیصلہ دوسروں نے کیا ہو، اسے اس فیصلے کے ساتھ کئی سال، اور کبھی پوری عمر گزارنی پڑتی ہے۔ اسی لیے زندگی کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ فیصلہ دوسروں کے حوالے کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے نتائج دوسروں کے حوالے نہیں کیے جا سکتے۔اکثر انسان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ اچھا نتیجہ نکل آئے تو کامیابی کا پورا سہرا اپنے سر باندھ لیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ میری سمجھ تھی، میرا فیصلہ تھا اور میں نے درست وقت پر درست قدم اٹھایا۔ لیکن جب نتیجہ خراب نکلتا ہے تو قصورواروں کی ایک لمبی فہرست سامنے آ جاتی ہے۔ کبھی خاندان، کبھی حالات، کبھی شریکِ حیات، کبھی بچے، کبھی معاشرہ، کبھی مغرب، کبھی مذہب، کبھی قسمت اور کبھی خدا کی مرضی کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ انسان کو وقتی تسلی تو دے سکتا ہے، مگر اسے ذہنی اور اخلاقی بلوغت نہیں دیتا۔ بالغ انسان وہ نہیں جو ہر کامیابی کو اپنی عقل اور ہر ناکامی کو دوسروں کی غلطی کہے۔ بالغ انسان وہ ہے جو یہ کہنے کی ہمت رکھتا ہو کہ میں نے مشورے ضرور سنے تھے، مگر آخری فیصلہ میرا تھا؛ اگر وہ غلط نکلا تو میں اس سے سبق سیکھوں گا، اور اگر درست نکلا تو اسے غرور نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ قبول کروں گا۔ذاتی ذمہ داری کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان زندگی میں پیش آنے والی ہر مصیبت کا الزام خود پر لے لے۔ انسان ہر چیز پر قابو نہیں رکھتا۔ حادثات پیش آتے ہیں، بیماریاں آتی ہیں، معاشی حالات بدلتے ہیں، لوگ اپنے وعدوں سے پھر جاتے ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں اور قانونی یا سماجی مشکلات اچانک سامنے آ جاتی ہیں۔ بعض فیصلے نیک نیتی سے کیے جاتے ہیں، مگر حالات ان کے نتائج کو بدل دیتے ہیں۔ اس کے باوجود جو چیز انسان کے اختیار میں تھی، اسے مکمل طور پر تقدیر کے کھاتے میں ڈال دینا دیانت داری نہیں۔ اپنے اختیار سے کیے گئے فیصلے کی ذمہ داری قبول کرنا شعور ہے، جبکہ اپنے اختیار سے باہر حالات کو سمجھنا اور برداشت کرنا زندگی ہے۔ ہر غلطی کو قسمت اور ہر کامیابی کو اپنی عقل قرار دینا انصاف نہیں۔ہجرت کرنے والے خاندانوں میں یہ کشمکش مزید گہری ہو جاتی ہے۔ ایک طرف پرانا ملک، پرانی روایات، برادری، مذہبی و سماجی دباؤ، رشتہ داروں کی توقعات اور “لوگ کیا کہیں گے” کا خوف ہوتا ہے۔ دوسری طرف نیا ملک، نیا قانون، نئی تعلیم، بچوں کی مختلف سوچ، فرد کی آزادی، عورت اور مرد کے حقوق اور شادی و تعلقات کے بارے میں ایک مختلف تصور موجود ہوتا ہے۔ ان دونوں دنیاؤں کے درمیان کھڑا انسان اگر اپنی عقل اور ضمیر استعمال نہ کرے تو وہ ہر سمت سے کھنچتا رہتا ہے۔ وہ جسمانی طور پر نئے ملک میں رہتا ہے، مگر ذہنی طور پر پرانی گلیوں، پرانے خوف اور پرانی پابندیوں میں قید رہتا ہے۔یہ تضاد اس وقت اور نمایاں ہو جاتا ہے جب کوئی شخص نئے معاشرے سے اپنے لیے تمام حقوق اور سہولتیں چاہتا ہے، مگر گھر کے اندر وہی حقوق اپنی اولاد کو دینے سے گھبراتا ہے۔ وہ آزادی کے معاشرے میں رہتا ہے، مگر بچوں سے غلامی جیسی فرمانبرداری چاہتا ہے۔ وہ خود بہتر زندگی کے لیے وطن چھوڑتا ہے، مگر اولاد کو اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا۔ وہ قانون سے اپنے تحفظ کا مطالبہ کرتا ہے، مگر گھر کے اندر اپنی مرضی کو قانون سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ایسا انسان بظاہر خود فیصلہ کر رہا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے فیصلوں کے اندر کئی دوسرے لوگوں کی آوازیں شامل ہوتی ہیں۔ ماں کی خواہش، باپ کی عزت، چچا کی رائے، خالہ کی ناراضی، برادری کا دباؤ، رشتہ داروں کی سرگوشیاں، مذہب کی ذاتی تشریح اور معاشرے کا خوف اس کے فیصلے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر جب نتیجہ خراب ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں کیا کرتا، خاندان کا دباؤ تھا، والدین کی خواہش تھی اور لوگ باتیں بناتے۔ مگر سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ جس زندگی کا بوجھ تمہیں اٹھانا تھا، اس کا فیصلہ تم نے اتنی آسانی سے دوسروں کے ہاتھ میں کیوں دے دیا؟یہ سوال سخت ضرور ہے، مگر ضروری ہے، خصوصاً شادی اور اولاد کے معاملے میں۔ اگر والدین اپنی اولاد کی شادی صرف خاندانی پسند، برادری، ذات، دولت یا سماجی دباؤ کی بنیاد پر طے کرتے ہیں تو وہ اس شادی کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سے مکمل طور پر الگ نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ بیٹی کو اپنی عزت کا صندوق سمجھتے ہیں تو انہیں اس صندوق کے اندر بند انسان کی سانس بھی سننی چاہیے۔ اگر وہ بیٹے کو خاندان کا وارث سمجھ کر اس کی ذاتی پسند، جذباتی ضروریات اور زندگی کے حق کو نظرانداز کرتے ہیں تو بعد میں اس کی بے سکونی کا الزام صرف نئی نسل یا مغربی معاشرے پر نہیں ڈال سکتے۔یہ بھی ایک گہرا تضاد ہے کہ والدین بچے کو نئی دنیا کی تعلیم، زبان، قانون اور خود اعتمادی دیتے ہیں، مگر اس کے سوچنے اور سوال کرنے سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ آپ بچے کو سوچنا سکھائیں اور پھر اس کے سوچنے پر اعتراض کریں، یہ تضاد ہے۔ آپ اسے تعلیم دیں اور پھر اس کی رائے کو گستاخی قرار دیں، یہ ناانصافی ہے۔ آپ اسے ایک خود مختار معاشرے میں پروان چڑھائیں اور پھر اس کی ذاتی زندگی پر مکمل خاندانی اختیار چاہیں، تو آپ خود اس کے اندر ذہنی کشمکش پیدا کر رہے ہیں۔بچے والدین کی نیت سے زیادہ ان کے عمل کو دیکھتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ گھر میں ان کی بات سننے کی جگہ ہے یا صرف حکم ماننے کی۔ اختلاف کی اجازت ہے یا خاموشی لازم ہے۔ محبت ہے یا خوف، رہنمائی ہے یا دباؤ، احترام ہے یا ملکیت کا احساس۔ اگر گھر میں ہر فیصلہ خاندان، عزت، برادری یا مذہبی دباؤ کے نام پر کیا جائے تو بچہ یہ سیکھتا ہے کہ انسان اپنی زندگی کا مالک نہیں بلکہ دوسروں کی توقعات کا مزدور ہے۔پھر یہی سبق ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پہلی نسل فیصلہ نہیں کرتی، صرف حکم مانتی ہے۔ دوسری نسل اسی فرمانبرداری کو روایت سمجھ لیتی ہے۔ تیسری نسل اسے عزت کا نام دیتی ہے، اور چوتھی نسل اسے مذہبی یا ثقافتی تقدس فراہم کر دیتی ہے۔ پھر کسی نسل میں ایک لڑکی، ایک لڑکا یا کوئی ایک انسان کھڑا ہو کر پوچھتا ہے کہ میری زندگی کا فیصلہ میری بات سنے بغیر کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی لمحے خاندان کو محسوس ہوتا ہے کہ بغاوت ہو گئی ہے، حالانکہ ممکن ہے پہلی مرتبہ کسی نے محض سوچنے کی کوشش کی ہو۔ہر سوال نافرمانی نہیں ہوتا، ہر اختلاف بے ادبی نہیں ہوتا اور ہر مختلف راستہ خاندان سے دشمنی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سوال صرف اتنا ہوتا ہے کہ میری اپنی زندگی میں میری آواز کہاں ہے؟ لیکن اس سوال کو سننے کے لیے خاندان کے اندر اتنا حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ اختیار سے اوپر اٹھ کر انسان کو دیکھ سکے۔سوچنا آسان نہیں، کیونکہ سوچ انسان کو صرف دوسروں کا احتساب نہیں سکھاتی بلکہ اسے اپنے اندر جھانکنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ اسے ماننا پڑتا ہے کہ وراثت میں ملنے والی ہر بات درست نہیں ہوتی۔ بزرگوں کا احترام اپنی جگہ، مگر ان کی ہر سوچ ابدی قانون نہیں۔ ہر پرانی روایت مقدس نہیں اور ہر خاندانی اصول منصفانہ نہیں۔ جو چیز ایک نسل کے حالات میں ضروری تھی، ممکن ہے دوسری نسل کے لیے نقصان دہ ہو۔ جو فیصلہ والدین کو تحفظ محسوس ہوتا ہے، وہ بچے کے لیے قید بن سکتا ہے۔ جو چیز خاندان کو عزت دکھائی دیتی ہے، وہ کسی بیٹی کے لیے خوف اور کسی بیٹے کے لیے عمر بھر کی گھٹن ہو سکتی ہے۔یہیں انسان کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ کیا وہ اپنی وراثت کو بغیر سوچے اگلی نسل کے حوالے کرے گا، یا اس میں موجود اچھائی اور خرابی کو الگ کرنے کی ہمت پیدا کرے گا؟ کیا وہ اپنی اولاد سے محبت کرے گا، یا محبت کے نام پر اپنا خوف مسلط کرے گا؟ کیا وہ بیٹی کو محفوظ بنائے گا، یا اس کی زندگی پر پہرہ بٹھائے گا؟ کیا وہ بیٹے کو مضبوط بنائے گا، یا خاندان کی توقعات کا قیدی؟ کیا وہ شادی کو دو بالغ انسانوں کا تعلق سمجھے گا، یا دو خاندانوں کی انا کا معاہدہ؟ کیا وہ مذہب کو اخلاق، انصاف اور رحم کے لیے اپنائے گا، یا دوسروں کو قابو کرنے کے لیے استعمال کرے گا؟ کیا وہ روایت کو شناخت اور محبت کا ذریعہ بنائے گا، یا اختیار اور خاموشی کا ہتھیار؟یہ سوال انسان کو بے چین کرتے ہیں، مگر بعض اوقات یہی بے چینی شعور کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ جو شخص کبھی اپنے فیصلوں، رویّوں اور وراثتی سوچ پر سوال نہیں اٹھاتا، ممکن ہے وہ مطمئن دکھائی دے، مگر وہ تبدیلی کے دروازے سے بہت دور ہوتا ہے۔کسی بھی معاشرے میں حقیقی تبدیلی صرف قانون بدلنے سے نہیں آتی۔ نیا ملک موقع فراہم کر سکتا ہے، تعلیم نئی سوچ کے دروازے کھول سکتی ہے، قانون فرد کو تحفظ دے سکتا ہے اور معاشرہ آزادی و مساوات کا ماحول پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر انسان اندر سے سوچنے کے لیے تیار نہ ہو تو وہ ہر نئی جگہ پر اپنی پرانی قید دوبارہ تعمیر کر لیتا ہے۔ وہ یورپ میں رہ کر بھی گھر کے اندر وہی پرانا فرمان چلاتا ہے، آزاد معاشرے میں رہ کر بھی اپنی بیٹی کی آزادی سے خوف کھاتا ہے، اپنے حقوق کے لیے قانون کا سہارا لیتا ہے مگر بچوں کے حقوق کو خاندانی معاملہ کہہ کر رد کر دیتا ہے۔یہ تضاد زیادہ دیر چھپا نہیں رہتا۔ آخرکار رشتے متاثر ہوتے ہیں، بچے خاموش ہو جاتے ہیں، والدین اور اولاد کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔ والدین کہتے ہیں کہ بچے بدل گئے، جبکہ بچے کہتے ہیں کہ والدین نے کبھی انہیں سمجھا ہی نہیں۔ دونوں طرف محبت موجود ہو سکتی ہے، مگر اس محبت کے درمیان خوف، انا، خاموشی اور ادھورا مکالمہ دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ذاتی ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خود غرض ہو جائے، خاندان سے کٹ جائے، ہر مشورہ رد کر دے یا اپنی خواہش کو آخری قانون بنا لے۔ یہ آزادی نہیں بلکہ دوسری انتہا ہے۔ ذاتی ذمہ داری کا مطلب یہ ہے کہ انسان مشورہ سنے، مگر فیصلہ سوچ کر کرے۔ خاندان کا احترام کرے، مگر اپنی یا اپنی اولاد کی پوری زندگی خاندان کی خواہش پر قربان نہ کرے۔ روایت کو سمجھے، مگر اسے عقل، انصاف اور انسانیت سے بڑا نہ بنائے۔ مذہب کو اخلاق، رحم اور ذمہ داری کا ذریعہ بنائے، نہ کہ خوف اور کنٹرول کا ہتھیار۔ اپنی آزادی کا حق مانگے تو دوسروں کی آزادی کا احترام بھی کرے، اور اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی قبول کرے۔زندگی ادھار کے فیصلوں سے نہیں بنتی۔ جو انسان ہر فیصلہ دوسروں کی آوازوں پر کرتا ہے، وہ ہر خراب نتیجے کے بعد کسی نہ کسی قصوروار کی تلاش میں رہتا ہے۔ جو انسان اپنی عقل، ضمیر اور ذمہ داری سے فیصلہ کرتا ہے، وہ غلطی کے بعد بھی کچھ سیکھتا ہے۔ اس کے اندر یہ اطمینان باقی رہتا ہے کہ اس نے یہ راستہ سوچ سمجھ کر منتخب کیا تھا۔شاید انسان کی سب سے بڑی آزادی یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا بوجھ خود اٹھانے کے قابل ہو جائے۔ وہ اپنی کامیابی پر غرور نہ کرے، اپنی غلطی سے فرار نہ ہو، دوسروں کی بات ضرور سنے مگر اپنی آواز نہ کھوئے۔ جو والدین یہ بات سمجھ لیتے ہیں، وہ اپنی اولاد کو کھوتے نہیں۔ وہ بچوں کو سوچنے دیتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں، اپنا تجربہ پیش کرتے ہیں مگر اسے ہتھکڑی نہیں بناتے۔ وہ بچوں کو خطرات سے خبردار کرتے ہیں مگر زندگی کے ہر دروازے پر پہرہ نہیں بٹھاتے۔ وہ انہیں جڑیں دیتے ہیں، مگر شاخیں نہیں کاٹتے۔ ایسے بچے والدین سے دور رہ کر بھی ان سے جڑے رہتے ہیں، کیونکہ ان کا تعلق خوف پر نہیں، اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔جو والدین یہ فرق نہیں سمجھتے، وہ اکثر محبت کے نام پر کنٹرول، عزت کے نام پر خوف، روایت کے نام پر قید اور تربیت کے نام پر خاموشی مسلط کرتے ہیں۔ پھر ایک دن جب بچے اپنی آواز استعمال کرتے ہیں تو وہ شکایت کرتے ہیں کہ بچے بدل گئے ہیں۔ ممکن ہے بچے نہ بدلے ہوں؛ ممکن ہے وہ صرف اپنی زندگی کے فیصلوں میں اپنی آواز چاہتے ہوں۔رشتے اس وقت محفوظ رہتے ہیں جب ایک انسان دوسرے کو انسان سمجھے، ملکیت نہیں۔ شادی اس وقت چلتی ہے جب دو بالغ انسان اپنی ذمہ داری، حدود، حقوق اور فیصلوں کو سمجھیں، نہ کہ جب دو خاندان اپنی مرضی مسلط کریں۔ اولاد اپنی جڑوں سے اس وقت جڑی رہتی ہے جب جڑیں اسے سہارا دیں، اس کی سانس نہ روکیں۔ والدین کی عزت اس وقت مضبوط رہتی ہے جب وہ خوف کے بجائے کردار، انصاف اور محبت سے پیدا ہو۔نسلوں کے درمیان اصل کشمکش کپڑوں، زبان، رہن سہن یا ملکوں کی نہیں، بلکہ سوچ اور اختیار کی ہے۔ ایک نسل کہتی ہے کہ ہم نے بھی برداشت کیا تھا، تم بھی کرو۔ دوسری نسل پوچھتی ہے کہ اگر وہ غلط تھا تو ہم اسے کیوں دہرائیں؟ ایک نسل فرمانبرداری کو کردار سمجھتی ہے، دوسری سوال کو شعور سمجھتی ہے۔ ایک نسل خاموشی کو عزت کہتی ہے، دوسری اپنی بات کہنے کو بنیادی حق سمجھتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان پل صرف مکالمہ بنا سکتا ہے، حکم نہیں؛ احترام بنا سکتا ہے، خوف نہیں؛ سمجھ بنا سکتی ہے، ملکیت نہیں۔اگر ہر نسل اپنی تکلیف، خوف، ادھورے خواب اور غلط روایات بغیر سوچے اگلی نسل کے حوالے کرتی رہے تو خاندان آگے نہیں بڑھتا، صرف اپنے زخم منتقل کرتا رہتا ہے۔ باپ کا خوف بیٹے کی پابندی بن جاتا ہے، ماں کی محرومی بیٹی کی تقدیر بنا دی جاتی ہے، بزرگوں کی خاموشی نئی نسل کا حکم بن جاتی ہے، اور برسوں بعد کسی کو معلوم نہیں رہتا کہ یہ سلسلہ شروع کہاں سے ہوا تھا۔ سب صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔لیکن “ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے” کسی غلط بات کے درست ہونے کی دلیل نہیں۔ غلطی اگر سو سال پرانی ہو تو بھی غلطی رہتی ہے۔ ناانصافی روایت بن جائے تو انصاف نہیں بن جاتی۔ خوف اگر عزت کا نام اختیار کر لے تو محبت نہیں بن جاتا، اور کنٹرول اگر تربیت کہلانے لگے تو آزادی نہیں بن سکتا۔ہر نسل کے سامنے ایک انتخاب ہوتا ہے۔ وہ پرانے زخم اگلی نسل کو منتقل کر سکتی ہے، یا ان زخموں کا سلسلہ اپنے مقام پر روک سکتی ہے۔ وہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، وہ ہمارے بچوں کے ساتھ نہیں ہوگا۔ ہم مشورہ دیں گے مگر فیصلہ نہیں چھینیں گے۔ ہم روایت دیں گے مگر عقل کا دروازہ بند نہیں کریں گے۔ ہم عزت چاہیں گے مگر خوف پیدا نہیں کریں گے۔ ہم اپنے بچوں کو اپنے ماضی کی نقل نہیں، اپنے مستقبل کا باشعور انسان بننے دیں گے۔نسلوں کی اصل ترقی صرف یہ نہیں کہ بچے والدین سے زیادہ تعلیم حاصل کریں، زیادہ کمائیں یا بہتر ملک میں رہیں۔ اصل ترقی یہ ہے کہ وہ والدین کے خوف سے زیادہ آزاد، ان کی غلطیوں سے زیادہ باشعور اور ان کی اچھی تربیت سے زیادہ مضبوط انسان بنیں۔ اگر نئی نسل پرانی نسل سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھے تو انسانی سفر کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے؟آخر میں بات نہایت سادہ ہے۔ مشورے بہت ملیں گے، آوازیں ہر طرف سے آئیں گی، خوف راستہ روکیں گے، روایات اپنے حق میں دلیل دیں گی اور خاندان اپنی توقعات سامنے رکھے گا۔ لیکن زندگی انسان کو خود جینی ہے۔ جو اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کی ہمت نہیں رکھتا، وہ اس زندگی کا سکون بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکتا۔ اور جو نسل اپنی عقل، ضمیر اور ذمہ داری سے فیصلہ کرنا سیکھ لے، وہ صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی بلکہ آنے والی نسلوں کی تقدیر سے بھی ایک پرانی زنجیر توڑ دیتی ہے۔