تیزاب
2026-07-16
تحریر۔ شاہد شکیل
ہم انسان بھی ایک عجیب مخلوق ہیں۔
نہ جانے کب، کہاں اور کس خیال کے بہانے، کچھ نہ کچھ کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ بھوک ہو یا نہ ہو، دل کی ایک ضد سی ہوتی ہے کہ ذرا کچھ چکھ لیں، کچھ منہ کا ذائقہ بدل لیں۔ مگر کیا کبھی ہم نے ٹھہر کر یہ سوچا ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں؟ ہماری روزمرہ کی خوراک میں کیا کچھ شامل ہے؟ کون سی غذائیں ہمارے جسم کے لیے نعمت ہیں اور کون سی آہستہ آہستہ ہمیں اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہی ہیں؟کیا ہم روزانہ اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹ، پروٹین، چربی، وٹامنز، نمکیات اور معدنیات کی وہی مقدار لیتے ہیں جو ہمارے جسم کو درکار ہے؟ یا پھر ہم صرف ذائقے کے تعاقب میں اپنی صحت کو بھلا دیتے ہیں؟انسان اگر اپنی غذا کے بارے میں غور کرے تو معلوم ہو کہ یہی چھوٹے چھوٹے انتخاب اس کی زندگی کے بڑے رخ متعین کرتے ہیں۔ اچھی خوراک جسم کو طاقت دیتی ہے، اور بے احتیاطی والی غذا آہستہ آہستہ زندگی سے چمک چھین لیتی ہے۔بلا شبہ غذا وہ بنیادی عنصر ہے جو انسان کے جسمانی و ذہنی نشوونما اور تندرستی کے لیے قوت اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ جہاں تک ہمارے جسم کا تعلق ہے، اسے صحت مند رکھنے کے لیے مختلف غذاؤں کا متوازن استعمال نہایت ضروری ہے۔لیکن افسوس کہ عام انسان اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ جو خوراک ہم روزمرہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں، اس میں مختلف اقسام کے تیزاب شامل ہوتے ہیں—اور ہم نادانستہ طور پر ایسی تیزابی غذاؤں کا حد سے زیادہ استعمال کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہی غفلت رفتہ رفتہ صحت پر ایسے اثرات چھوڑتی ہے جو بعد میں سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔انسانی جسم کے لیے چربی، وٹامنز اور قلیل مقدار میں مخصوص نمکیات نہایت ضروری ہیں۔ ان میں سے کسی ایک عنصر کی کمی بھی جسم کے خلیوں پر منفی اور تباہ کن اثرات ڈال سکتی ہے۔ مگر جب انسان غیر متوازن غذا کا مسلسل استعمال کرتا ہے تو وہ خود اپنے لیے بیماریوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔مثال کے طور پر ہم گوشت کا استعمال حد سے زیادہ کرتے ہیں، اور چونکہ گوشت میں قدرتی طور پر تیزاب پایا جاتا ہے، اس لیے اس کا زیادہ استعمال جسم کے اندرونی ماحول کو تیزابی بنا دیتا ہے۔ علم کی کمی کے باعث ہم کھانا کھانے سے پہلے یہ سوچنے کی زحمت تک نہیں کرتے کہ ہماری خوراک میں کوئی ایسا جز تو شامل نہیں جو جسم کو نقصان پہنچا سکے۔ہمیں اس بات کا شعور بھی نہیں ہوتا کہ کون سی غذا میں تیزابیت کس حد تک موجود ہے اور کس میں چکنائی کی مقدار کہاں تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بیماری کی حالت میں ڈاکٹر ہمیں تیل اور گھی کے استعمال سے سخت پرہیز کی ہدایت کرتے ہیں—تاکہ جسم اس بوجھ سے کچھ حد تک محفوظ رہے جسے ہم خود اپنی بے توجہی سے بڑھا دیتے ہیں۔صحت مند رہنے کے لیے صرف مناسب اور متوازن غذا ہی کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ جاننا ہے کہ جو غذا ہم کھا رہے ہیں، وہ واقعی ہماری صحت و تندرستی کے لیے مفید ہے یا نہیں۔ یہ سوچ لینا کہ بس کھا پی لینے سے صحت برقرار رہتی ہے، سراسر نادانی ہے۔ اصل عقل مندی تو یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہماری خوراک میں شامل اجزاء ہمارے جسم کے لیے کتنے مفید یا نقصان دہ ہیں—نہ کہ بس پیٹ بھر کر کھا لیا اور پھر بدہضمی، معدے کے درد یا بھاری پن کی شکایت پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑے۔اکثر لوگ ایسے موقعوں پر حاضمے کی گولیاں کھا لیتے ہیں، مگر یہ حقیقت کم ہی کسی کو معلوم ہوتی ہے کہ ان گولیوں میں بھی خاص مقدار میں تیزاب شامل ہوتا ہے، جو وقتی طور پر تکلیف سے نجات تو دلادیتا ہے، مگر طویل مدت میں اس کے اثرات جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ یوں انسان وقتی آرام خرید کر مستقبل کی تکالیف کو خود دعوت دیتا ہے۔ہم میں سے اکثر لوگ غذا صرف پیٹ بھرنے کے لیے کھاتے ہیں۔ ہمیں اس بات سے شاذ و نادر ہی سروکار ہوتا ہے کہ آیا ہماری خوراک میں وہ ضروری عناصر بھی موجود ہیں یا نہیں، جو جسم کو تندرست، مضبوط اور توانائی بخش رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی غذا کو واقعی متوازن رکھ پائیں تو ہمارے نظامِ ہضم، دل، دماغ، گردوں، جگر، پھیپھڑوں اور دورانِ خون پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں خوراک کے معاملے میں ایسا انقلاب آیا ہے جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کھانے کا مقصد صحت کم اور ذائقہ زیادہ رہ گیا ہے، اور یہی بدلا ہوا رویّہ آہستہ آہستہ ہماری جسمانی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ہم مغربی طرزِ زندگی کی طرف اس قدر مائل ہو چکے ہیں کہ فاسٹ فوڈ اب ہماری روزمرہ کا حصہ بن چکا ہے۔ اس طرزِ خوراک نے ہمیں بے شمار انجانی اور پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ مزید یہ کہ شاید دنیا میں کوئی قوم ایسی نہ ہو جو میٹھی اشیاء کی اتنی شوقین ہو جتنے ہم ہیں۔اسی بے اعتدالی اور حد سے بڑھتی ہوئی رغبت کے باعث ہم شوگر، ہائی بلڈ پریشر، امراضِ قلب، موٹاپے اور کئی قسم کی سرطانی بیماریوں کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ یوں ہماری پسند، ہماری سہولت اور ہماری بے فکری—ایک خاموش دشمن بن کر ہمارے جسموں کو اندر ہی اندر کمزور کر رہی ہے۔تیزابی غذاؤں کا بے دریغ استعمال شادی بیاہ اور تہواروں کے مواقع پر اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ ان تقریبات میں گوشت کا استعمال حد سے بڑھ جاتا ہے، اور کھانے کے بعد میٹھا تو گویا لازمی سمجھا جاتا ہے۔مرغن، مصالحہ دار، چکنائی اور تیزابیت سے بھرپور غذائیں—اور ان کے بعد شیریں پکوان جیسے زردہ، سوئیاں، کھیر اور مختلف میٹھائیاں—یہ سب بظاہر لذت تو دیتی ہیں، مگر حقیقت میں صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔تیل اور چربی میں تلی ہوئی غذائیں دل کے امراض کی بنیاد رکھتی ہیں، اور ضرورت سے زیادہ میٹھا شوگر (ذیابیطس) کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ یوں خوشی کے نام پر پیش کی جانے والی یہ لذتیں اکثر زندگی بھر کی بیماریوں میں بدل جاتی ہیں۔صحت اور غذا کے حوالے سے ماہرین نے طویل تحقیقات کے بعد چند ایسے اجزاء کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں خصوصاً محتاط رہنے کی تاکید کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ کی خوراک میں بعض اشیاء کا حد سے زیادہ استعمال نہ صرف مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں یہ انسانی جان کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔یوں بے احتیاطی سے کھائی جانے والی معمولی سی خوراک بھی، اگر اس کے مضر اثرات سے لاعلمی ہو، انسان کے لیے شدید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔مثال کے طور پر دودھ کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے الرجی یا شدید دست لگنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اسی طرح الکوحل کا استعمال جگر ہی نہیں بلکہ معدے کی نالی، لبلبے، عضلات، یادداشت اور قلبی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے الکوحل انتہائی خطرناک ہے—یہ نہ صرف ماں بلکہ بچے کی جان کے لیے بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ ولادت سے پہلے ہی جنین کی موت کا سبب بن جاتی ہے، جب کہ کئی مرتبہ بچے کی جسمانی ساخت، ذہنی نشوونما اور اعضاء کی صحت پر گہرے اور ناقابلِ تلافی اثرات بھی چھوڑ جاتی ہے۔ ان خطرات کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔تلخ اور کڑوے بادام میں سائنائیڈ جیسا خطرناک زہریلا مادہ پایا جاتا ہے، اس لیے ان کا بے احتیاط استعمال شدید نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ کڑوے بادام کا تیل تو خاص طور پر نہایت مہلک سمجھا جاتا ہے اور معمولی مقدار میں بھی جان لیوا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔اسی طرح خام انڈوں کے استعمال سے سالمونیلا انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی نمایاں علامات میں پیٹ میں درد، دست اور تیز بخار شامل ہیں۔ یہ بیماری خاص طور پر بچوں، کمزور مدافعت والے افراد اور عمر رسیدہ لوگوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ ان کے جسم فوراً اس حملے کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔مچھلی اور دیگر سمندری جانوروں میں سمندری آلودگی کے اثرات اکثر بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ان کا حد سے زیادہ استعمال بعض اوقات ایسے افراد کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جن کے اعصاب مضبوط ہوں۔آلودہ سمندری غذا کھانے کے بعد متلی، چکر آنا، پٹھوں میں کمزوری، سانس لینے میں دشواری اور جسمانی توازن بگڑنے جیسے شدید آثار ظاہر ہو سکتے ہیں۔ بعض انتہائی سنگین صورتوں میں یہ زہریلا اثر اتنا تیز ہوتا ہے کہ صرف پندرہ منٹ کے اندر موت تک واقع ہو سکتی ہے۔کسی بھی قسم کا کچا گوشت حاملہ خواتین کے لیے سخت ممنوع ہے۔ اس کے استعمال سے خواتین لسٹریا کے خطرناک انفیکشن میں مبتلا ہو سکتی ہیں، اور یہ مہلک جراثیم براہِ راست بچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کچے گوشت سے خارش، جلدی حساسیت اور آنتوں کی سوزش کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔اسی طرح فرانسیزی، فرائیز، کوکیز اور کیک جیسی اشیاء میں چکنائی کی مقدار بے حد زیادہ ہوتی ہے۔ یہ غذا خون میں کولیسٹرول کو بڑھاتی ہیں، جو دل کی بیماریوں کے بنیادی اسباب میں شمار ہوتا ہے۔ یوں بظاہر بے ضرر سمجھے جانے والے یہ لذیذ پکوان، درحقیقت انسانی دل اور دورانِ خون کے لیے نہایت مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔بہت زیادہ کافی کے استعمال سے ہاتھوں میں کپکپی، بے چینی، جلن، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور معدے کے مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ کیفین کی زیادتی اعصاب پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے اور جسم کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے۔اسی طرح سرسوں کے تیل کا کھانا پکانے میں ضرورت سے زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہے۔ اس سے متلی، قے اور معدے میں جلن پیدا ہو سکتی ہے، جب کہ بعض صورتوں میں گردوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ یوں وہ چیزیں جنہیں ہم روزمرہ معمول سمجھ کر استعمال کر لیتے ہیں، درحقیقت جسم کے لیے دیرپا نتائج چھوڑ جاتی ہیں۔شہد شیر خوار بچوں کے لیے سخت ممنوع ہے، کیونکہ اس کی تیاری کے دوران جراثیم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ یہی جراثیم اور ان کا پیدا کردہ زہریلا مادہ بچے کے خون میں سرایت کرکے آنتوں اور پٹھوں کو کمزور بلکہ مفلوج تک کر سکتا ہے۔ نوزائیدہ بچوں کا معدہ ایسے جراثیم کے مقابلے کی قوت نہیں رکھتا، اسی لیے شہد کا ذرا سا استعمال بھی ان کے لیے شدید خطرہ بن جاتا ہے۔اسی طرح ڈرائی فروٹ میں الرجی پیدا کرنے والے اجزاء سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ یہ حساسیت بعض اوقات معمولی مقدار میں استعمال سے بھی دمہ جیسے سنگین مسئلے کا باعث بن سکتی ہے۔ خاص طور پر مونگ پھلی کو سب سے زیادہ الرجی کا محرک سمجھا جاتا ہے، جو بڑے تو بڑے، بچوں کے لیے بھی شدید ردِعمل کا باعث بن سکتی ہے۔پھل اور سبزیاں عموماً کیڑے مار ادویات اور ضرر رساں اسپرے کے اثرات سے آلودہ ہوتی ہیں، اسی لیے انہیں ہمیشہ اچھی طرح دھو کر اور جہاں ممکن ہو، چھیل کر استعمال کرنا چاہیے۔ صفائی میں ذرا سی غفلت بھی صحت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔کالی چائے میں سیلیسیلک ایسڈ کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے جن افراد کو الرجی یا حساسیت کا مسئلہ ہو، انہیں چائے کے استعمال میں مزید احتیاط برتنا چاہیے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کھانے پینے کی اتنی ساری اشیاء انسان کے لیے نقصان دہ اور تکلیف دہ ثابت ہوتی ہیں، تو کیا انسان بھوکا رہے؟ اس سوال کا نہایت سادہ اور معقول جواب ہے: دنیا بھر میں لوگ کھانا تو کھاتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ورزش، کھیل، جمناسٹک، واکنگ اور جاگنگ کو اپنی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بناتے ہیں، تاکہ ان کے جسم فعال، متوازن اور صحت مند رہیں۔اس کے برعکس ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ معمول عام ہے کہ کھانا کھاتے ہی لوگ آرام دہ جگہ ڈھونڈ کر فوراً لیٹ جاتے ہیں یا گہری نیند میں چلے جاتے ہیں۔ یہی بے احتیاطی جسم میں چربی، سستی، بدہضمی اور درجنوں بیماریوں کا راستہ ہموار کر دیتی ہے۔ انسان جسمانی حرکت چھوڑ دے تو صحت بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔دنیا میں کوئی بھی انسان اگر اچھی، متوازن خوراک کے ساتھ باقاعدہ ورزش بھی کرتا رہے، تو وہ اوسطاً دس سے بیس سال زیادہ صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ مغربی ممالک اس کی نمایاں مثال ہیں، جہاں ستر اور اسی برس کے بزرگ بھی سائیکل چلاتے نظر آتے ہیں، سیر و تفریح کرتے ہیں، لمبے فاصلے تک پیدل چلتے ہیں اور اپنے جسم کو متحرک رکھتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ یہاں چالیس اور پینتالیس برس کی عمر میں ہی لوگ خود کو عمر رسیدہ سمجھنے لگتے ہیں، جیسے زندگی کی رفتار اب بس تھم جانی چاہیے۔ اس کی بنیادی وجہ نہایت سادہ ہے: پوری زندگی صرف کھانا، پینا اور کھانے کے فوراً بعد لمبی تان کر سو جانا—یعنی جسمانی محنت، چلنا پھرنا اور فعال رہنا تقریباً ناپید ہو جانا۔جسم جب حرکت چھوڑ دے تو زندگی بھی اپنی تازگی اور چمک کھو بیٹھتی ہے۔زندہ رہنے کے لیے انسان کو کم مگر متوازن خوراک پر بھروسا کرنا چاہیے، نہ کہ وہ یہ سوچ لے کہ وہ صرف کھانے پینے کے لیے زندہ ہے۔ زندگی کا مقصد محض پیٹ بھرنا نہیں، بلکہ جسم و ذہن کو اس قدر صلاحیت دینا ہے کہ انسان صحت، قوت اور وقار کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جو زندگی کے لطف اور صحت کے تحفظ دونوں کو یکجا کرتا ہے۔