ترقی

2026-07-05

تحریر ۔ شاہد شکیل

ترقی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ سڑکیں بڑی ہو جائیں، عمارتیں اونچی ہو جائیں، گاڑیاں نئی ہو جائیں، موبائل ہاتھ میں آ جائے، کپڑے بدل جائیں، زبان بدل جائے، رہن سہن بدل جائے۔ یہ سب تبدیلیاں ہیں، سہولتیں ہیں، زمانے کی رفتار ہیں۔ مگر یہ سب مل کر بھی انسان کو انسان نہیں بناتیں۔ انسان ترقی سے بڑا نہیں ہوتا، انسان اپنے کردار سے بڑا ہوتا ہے۔اگر ترقی کے ساتھ احساس نہ ہو تو وہ صرف چمک رہ جاتی ہے۔ باہر روشنی ہوتی ہے، اندر اندھیرا رہتا ہے۔ آدمی کے پاس پیسہ آ جاتا ہے مگر دل تنگ رہتا ہے۔ گھر بڑا ہو جاتا ہے مگر دل میں جگہ کم ہو جاتی ہے۔ زبان میں نئے لفظ آ جاتے ہیں مگر بات میں نرمی ختم ہو جاتی ہے۔ لباس صاف ہو جاتا ہے مگر نیت گندی رہتی ہے۔ ایسے آدمی کو ترقی یافتہ کہنا آسان ہے، انسان کہنا مشکل ہے۔ترقی اصل میں انسان کو بہتر بنانی چاہیے۔ اسے زیادہ سمجھ دار، زیادہ نرم، زیادہ ذمہ دار، زیادہ انصاف پسند بنانا چاہیے۔ اگر ایک انسان پڑھ لکھ کر بھی کمزور کو ذلیل کرتا ہے، پیسہ پا کر بھی رشتوں کو خریدنے لگتا ہے، طاقت مل کر بھی دوسروں کو دبانے لگتا ہے، آزادی پا کر بھی بے حس ہو جاتا ہے، تو یہ ترقی نہیں، صرف شکل کی تبدیلی ہے۔ اندر وہی پرانا لالچ، وہی غرور، وہی حساب، وہی خود غرضی زندہ رہتی ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ پرانی چیزوں کو چھوڑ دینا ہی ترقی ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ ہر پرانی چیز اچھی نہیں ہوتی، مگر ہر پرانی چیز بری بھی نہیں ہوتی۔ پرانے وقتوں میں سختیاں تھیں، ناانصافیاں تھیں، دباؤ تھے، غلط رسمیں تھیں؛ مگر کچھ بنیادی باتیں بھی تھیں جن میں انسانیت کا وزن تھا۔ بزرگ کی عزت، رزق کی قدر، محنت کی شرم، رشتے کا لحاظ، زبان کی احتیاط، گھر کی ذمہ داری، یہ سب چیزیں اگر پرانی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں کچرے میں پھینک دیا جائے۔اسی طرح ہر نئی چیز اچھی نہیں ہوتی۔ نئی سوچ اگر انسان کو آزاد کرے تو اچھی ہے۔ اگر وہ انسان کو بے شرم، بے حس اور خود غرض بنا دے تو وہ نئی ہو کر بھی خراب ہے۔ زمانہ بدلنا چاہیے، مگر انسان کا ضمیر نہیں مرنا چاہیے۔ راستے بدل سکتے ہیں، گھر بدل سکتے ہیں، ملک بدل سکتے ہیں، لباس بدل سکتا ہے، زبان بدل سکتی ہے، مگر انسان کے اندر یہ بات زندہ رہنی چاہیے کہ وہ دوسروں کی محنت، قربانی اور حق کو پامال کر کے بڑا نہیں بن سکتا۔ترقی کا سب سے خطرناک جھوٹ یہ ہے کہ آدمی سمجھنے لگتا ہے کہ اب اسے کسی کی ضرورت نہیں۔ وہ کہتا ہے: میں خود کما رہا ہوں، خود رہ رہا ہوں، خود فیصلہ کر رہا ہوں، مجھے کسی کا احسان یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہی جگہ انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔ کیونکہ کوئی انسان اکیلا نہیں بنتا۔ ہر انسان کے پیچھے کسی نہ کسی کی محنت ہوتی ہے۔ کسی نے اسے پالا، کسی نے سکھایا، کسی نے راستہ دیا، کسی نے برداشت کیا، کسی نے وقت دیا، کسی نے جگہ دی۔ جو آدمی اپنے بننے کے پیچھے کھڑی ہوئی ان خاموش محنتوں کو بھول جائے، وہ کتنا بھی کامیاب ہو، اندر سے ادھورا رہتا ہے۔احسان فراموشی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آدمی شکریہ نہ کہے۔ اصل احسان فراموشی یہ ہے کہ آدمی اپنی بنیاد سے انکار کر دے۔ وہ کہے کہ میں جو ہوں، صرف اپنے دم پر ہوں۔ یہ جملہ سننے میں طاقت ور لگتا ہے، مگر اکثر اس کے پیچھے غرور چھپا ہوتا ہے۔ انسان اپنے دم پر چل سکتا ہے، مگر اپنے دم پر پیدا نہیں ہوتا۔ اپنے دم پر کما سکتا ہے، مگر اپنے دم پر بڑا نہیں ہوتا۔ اپنی عقل سے آگے جا سکتا ہے، مگر عقل بھی کسی ماحول، کسی تربیت، کسی تجربے، کسی تکلیف، کسی سہارے سے بنتی ہے۔جب ترقی احسان فراموشی میں بدل جاتی ہے تو رشتے کمزور ہونے لگتے ہیں۔ پھر ماں باپ پرانی نسل بن جاتے ہیں، استاد پرانا طریقہ بن جاتا ہے، بزرگ پرانی سوچ بن جاتے ہیں، خاندان بوجھ بن جاتا ہے، معاشرہ رکاوٹ بن جاتا ہے۔ آدمی ہر اس چیز کو کاٹنا چاہتا ہے جس نے کبھی اسے کسی شکل میں سنبھالا تھا۔ اسے لگتا ہے کہ وہ آزاد ہو رہا ہے، حالانکہ وہ اپنی جڑیں کاٹ رہا ہوتا ہے۔جڑ کا مطلب قید نہیں ہوتا۔ درخت جڑ سے بندھا ہوتا ہے، مگر اسی جڑ سے زندہ بھی رہتا ہے۔ اگر جڑ کو مکمل کاٹ دیا جائے تو درخت کچھ دیر کھڑا ضرور رہ سکتا ہے، مگر اندر سے خشک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ انسان بھی ایسا ہی ہے۔ اگر وہ اپنی بنیاد کو گالی بنا دے، اپنے محسنوں کو بوجھ بنا دے، اپنے ماضی کو صرف شرمندگی سمجھ لے، تو وہ اپنی موجودہ زندگی کو بھی گہرا نہیں بنا سکتا۔ وہ صرف اوپر سے چمکتا ہے، اندر سے خالی رہتا ہے۔ترقی کا اصل مطلب یہ ہونا چاہیے کہ انسان پرانی غلطیوں کو چھوڑے، مگر پرانے احساس کو نہ مارے۔ وہ ظلم چھوڑے، مگر احترام بچائے۔ وہ دباؤ چھوڑے، مگر ذمہ داری بچائے۔ وہ اندھی اطاعت چھوڑے، مگر تہذیب بچائے۔ وہ خوف چھوڑے، مگر شرم بچائے۔ وہ پرانی جاہلیت چھوڑے، مگر انسانیت بچائے۔ اگر ترقی صرف بغاوت بن جائے اور اس میں کوئی اخلاقی سمت نہ ہو، تو وہ بہت جلد تباہی بن جاتی ہے۔ایک معاشرہ اس وقت واقعی آگے بڑھتا ہے جب اس کے لوگ کمزور کو پہلے سے زیادہ محفوظ کریں۔ جب بوڑھے پہلے سے زیادہ عزت سے جی سکیں۔ جب عورت پہلے سے زیادہ انسان سمجھی جائے۔ جب بچہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہو۔ جب مزدور کی محنت پہلے سے زیادہ قابلِ احترام ہو۔ جب قانون طاقتور کے لیے بھی قانون ہو اور کمزور کے لیے بھی سہارا ہو۔ اگر ترقی کے بعد بھی کمزور ڈرتا رہے، بوڑھا ذلیل ہوتا رہے، عورت پستی رہے، بچہ غیر محفوظ رہے، مزدور پسینہ بہا کر بھی بھوکا رہے، تو پھر ترقی صرف کاغذ پر ہے، زمین پر نہیں۔ترقی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رویے میں بہتر ہو۔ اس کا لہجہ بہتر ہو۔ اس کی آنکھ میں دوسرے انسان کے لیے عزت ہو۔ اس کے ہاتھ سے ظلم کم ہو۔ اس کے فیصلوں میں انصاف آئے۔ اس کے گھر میں خوف کم ہو، سکون زیادہ ہو۔ اگر گھر میں پیسہ آ گیا مگر زبان زہریلی رہی، اگر بچے پڑھ گئے مگر والدین ذلیل رہے، اگر مکان بن گیا مگر دلوں میں دیواریں کھڑی رہیں، تو یہ ترقی نہیں، صرف سامان کی زیادتی ہے۔احسان فراموش آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ زمانے سے آگے ہے۔ مگر اصل میں وہ اپنے اندر بہت پیچھے رہ گیا ہوتا ہے۔ کیونکہ جس انسان کو شکرگزاری نہیں آتی، اسے رشتہ بھی نہیں آتا۔ جسے رشتہ نہیں آتا، اسے وفاداری نہیں آتی۔ جسے وفاداری نہیں آتی، وہ ہر چیز کو فائدے کے حساب سے دیکھتا ہے۔ پھر اس کے لیے انسان بھی استعمال کی چیز بن جاتا ہے۔ جب تک فائدہ دے، اچھا۔ جب فائدہ ختم، تو رشتہ ختم۔یہی وہ جگہ ہے جہاں ترقی بے حسی بن جاتی ہے۔ آدمی کہتا ہے کہ میں جدید ہوں، مگر اس کی جدیدیت صرف اپنے آرام تک محدود ہوتی ہے۔ وہ اپنے لیے آزادی چاہتا ہے، مگر دوسروں کے لیے جگہ نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنے لیے عزت چاہتا ہے، مگر دوسروں کی عمر، محنت اور قربانی کا احترام نہیں کرتا۔ وہ اپنی کامیابی کا شور مچاتا ہے، مگر یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی کامیابی کی بنیاد میں کن لوگوں کی خاموش قربانیاں دبی ہوئی ہیں۔ترقی کا دشمن پرانا زمانہ نہیں۔ ترقی کا دشمن بے حس انسان ہے۔ اگر انسان کے اندر احساس زندہ ہے تو وہ نئے زمانے میں رہ کر بھی شریف رہ سکتا ہے۔ اگر احساس مر گیا ہے تو وہ پرانے لباس میں بھی ظالم تھا، نئے لباس میں بھی ظالم رہے گا۔ مسئلہ زمانے کا کم، انسان کے اندر کے وزن کا زیادہ ہے۔اصل ترقی وہ ہے جو انسان کو انسان سے دور نہ کرے، قریب کرے۔ جو اسے اپنی جڑ سے نفرت نہ سکھائے، اپنی جڑ کو سمجھنا سکھائے۔ جو اسے محسن کو بوجھ نہ سمجھائے، بلکہ یہ شعور دے کہ جس نے کبھی تمہیں اٹھایا تھا، اسے گرانا تمہاری ترقی نہیں ہو سکتی۔اگر ترقی کے راستے پر چلتے ہوئے انسان شکرگزاری، شرم، احساس، رشتہ، رزق، محنت اور کمزور کی عزت کھو دے تو وہ آگے نہیں بڑھ رہا، صرف اپنی روح سے دور جا رہا ہے۔ اور جو انسان اپنی روح سے دور ہو جائے، اس کے پاس چاہے دنیا کی ہر سہولت ہو، وہ اندر سے غریب ہی رہتا ہے۔