تعلیم کا سفر

2026-07-28

تحریر ۔ شاہد شکیل

بچوں کی تعلیم و تربیت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ اساتذہ بھی اس عمل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ بچہ جب گھر سے نکل کر سکول پہنچتا ہے تو وہ محض کتابی علم حاصل نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے استاد کے رویے، گفتگو، نظم و ضبط، برداشت، اخلاق اور طرزِ عمل سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اسی لیے ایک استاد کا فرض صرف نصابی کتاب مکمل کرانا یا امتحان کی تیاری کرانا نہیں، بلکہ بچوں کو اخلاقی، معاشرتی اور عملی زندگی کے تقاضوں سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ ایک اچھا استاد بچے کی شخصیت کو سمجھتا ہے، اس کی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اس کی صلاحیتوں کو ابھارتا ہے اور اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ تعلیم کو بوجھ کے بجائے اپنی زندگی کی ضرورت سمجھے۔ ایک پرانی رپورٹ میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیمی کارکردگی کے درمیان واضح فرق کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق ریاضی، مطالعہ اور سائنس جیسے مضامین میں بعض لڑکوں کو اوسط معیار تک پہنچنے میں زیادہ مشکلات پیش آتی تھیں۔ رپورٹ میں لڑکوں کے لیے چودہ فیصد اور لڑکیوں کے لیے نو فیصد کی شرح بیان کی گئی تھی، تاہم ایسے اعداد کو ہر ملک، ہر سکول اور ہر بچے پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ فرق کیوں پیدا ہوتا ہے اور اسے کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ بعض مشاہدات کے مطابق بہت سے لڑکے سکول میں پڑھائی کے مقابلے میں کھیل کود، کمپیوٹر گیمز اور دوسرے ذرائع ابلاغ میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ نتیجتاً ہوم ورک، مطالعے اور امتحان کی تیاری کے لیے ان کے پاس وقت کم رہ جاتا ہے۔ ایک ماہرِ تعلیم کے مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں اوسطاً ہفتے میں تقریباً ایک گھنٹہ کم ہوم ورک کرتے ہیں، اور وقت کا یہ معمولی سا فرق مسلسل برقرار رہے تو تعلیمی کارکردگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ یہاں مسئلہ کمپیوٹر یا کھیل کود کا وجود نہیں بلکہ ان کے استعمال میں توازن کا نہ ہونا ہے۔ کھیل، تفریح اور ٹیکنالوجی بچوں کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، لیکن جب یہ سرگرمیاں پڑھائی، نیند، صحت اور روزمرہ ذمہ داریوں پر غالب آ جائیں تو نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ بعض معاشروں میں لڑکے تعلیم کو ایک خوشگوار اور فائدہ مند عمل کے بجائے مشکل، بور یا غیر ضروری ذمہ داری سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ گھر کا ماحول، دوسری سکول کا رویہ اور تیسری ہم عمر بچوں کا دباؤ ہو سکتا ہے۔ اگر بچے کے ذہن میں یہ تصور پیدا کر دیا جائے کہ محنت سے پڑھنا صرف لڑکیوں کا کام ہے، یا لڑکا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے کتابوں میں دلچسپی نہیں لینی چاہیے، تو یہ دقیانوسی سوچ اس کی تعلیمی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اسی طرح اگر والدین لڑکیوں کو زیادہ منظم، ذمہ دار اور محنتی سمجھ کر ان پر توجہ دیں، جبکہ لڑکوں کی لاپروائی کو یہ کہہ کر نظرانداز کر دیں کہ لڑکے تو ایسے ہی ہوتے ہیں، تو مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ بچے کی کمزوری کو اس کی جنس کا لازمی حصہ سمجھ لینا اصلاح کا راستہ بند کر دیتا ہے۔ فارغ وقت کے استعمال میں بھی فرق دیکھا جاتا ہے۔ بہت سی لڑکیاں گھریلو کاموں کے ساتھ ہوم ورک، مطالعے اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالتی ہیں، جبکہ بعض لڑکے کمپیوٹر گیمز، ویڈیوز، سوشل میڈیا یا دوسری تفریحی سرگرمیوں میں زیادہ وقت گزار دیتے ہیں۔ لیکن اس صورتِ حال کا حل لڑکوں کو برا یا لڑکیوں کو ہر حال میں بہتر قرار دینا نہیں۔ ہر بچہ الگ شخصیت، الگ ذہنی صلاحیت اور الگ گھریلو ماحول رکھتا ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ والدین اور اساتذہ بچے کے روزمرہ معمول، دلچسپیوں اور مشکلات کو سمجھیں اور اس کے مطابق رہنمائی فراہم کریں۔ اگر لڑکا کسی مضمون میں کمزور ہے تو اسے تنقید، تضحیک یا سزا کے ذریعے نہیں بلکہ مناسب مدد، اضافی وضاحت اور حوصلہ افزائی کے ذریعے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ لڑکوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے والدین اور اساتذہ کے درمیان مضبوط رابطہ لازمی ہے۔ والدین کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ سکول کے استاد یا انتظامیہ سے تفصیلی بات کریں۔ صرف رپورٹ کارڈ دیکھ کر غصہ کرنا یا بچے کو ناکام قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ بچہ کس مضمون میں مشکل محسوس کرتا ہے، کلاس میں اس کا رویہ کیسا ہے، وہ سوال پوچھتا ہے یا خاموش رہتا ہے، دوسرے بچوں سے اس کا تعلق کیسا ہے، اور کہیں وہ خوف، دباؤ، مذاق یا کسی اور مسئلے کا شکار تو نہیں۔ اسی طرح استاد کو بھی والدین کے ساتھ صرف شکایتوں کی فہرست شیئر نہیں کرنی چاہیے بلکہ بہتری کے لیے قابلِ عمل تجاویز دینی چاہییں۔ جب گھر اور سکول ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے مشترکہ طور پر حل تلاش کرتے ہیں تو بچے کے لیے ترقی کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ کلاس میں باقاعدہ حاضری بھی انتہائی ضروری ہے۔ مسلسل غیر حاضری، دیر سے پہنچنا یا اسباق کے درمیان توجہ کا منتشر رہنا تعلیمی کمزوری کو بڑھاتا ہے۔ لیکن حاضری یقینی بنانے کے ساتھ استاد کا رویہ بھی ہمدردانہ، بااخلاق اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ ایسا استاد جو ہر وقت غصے، دھمکی، طنز یا تشدد سے کام لے، وہ بچے کو تعلیم سے قریب نہیں بلکہ دور کرتا ہے۔ خوف وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتا ہے، مگر سیکھنے کی خواہش نہیں۔ زور زبردستی اور جسمانی یا ذہنی تشدد کے ماحول میں بچہ سوال پوچھنے، غلطی تسلیم کرنے اور نئی چیز آزمانے سے ڈرنے لگتا ہے۔ تعلیم کا حقیقی ماحول دو طرفہ احترام سے بنتا ہے۔ بچے کو استاد کا احترام سکھانا ضروری ہے، لیکن استاد پر بھی لازم ہے کہ وہ بچے کی عزتِ نفس کا خیال رکھے۔ تحمل مزاجی، صبر اور برداشت کے ذریعے بچے کو تعلیم کی طرف زیادہ مؤثر انداز میں راغب کیا جا سکتا ہے۔ ہر بچے کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کوئی ریاضی میں تیز ہوتا ہے، کوئی زبان میں، کوئی سائنس میں اور کوئی عملی یا تخلیقی سرگرمیوں میں۔ استاد کا کام صرف تیز بچوں کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ پیچھے رہ جانے والے بچے کا ہاتھ پکڑنا بھی ہے۔ تمام مضامین میں بچوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، کیونکہ مسلسل منفی تبصرے بچے کے اندر یہ یقین پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے برعکس ایک مناسب تعریف، چھوٹی کامیابی کی قدر اور غلطی کے بعد دوسرا موقع بچے کی پوری سوچ بدل سکتا ہے۔ اساتذہ کو اپنے رویے کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ بعض اوقات مسئلہ صرف بچے میں نہیں ہوتا بلکہ تدریس کے طریقے، کلاس کے ماحول یا استاد کے انداز میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔ بچوں کو واضح حدود سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کلاس میں کیا قابلِ قبول ہے، ہوم ورک کی کیا ذمہ داری ہے، دوسروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے اور آزادی کے ساتھ نظم و ضبط کیوں ضروری ہے۔ لیکن حدود کا مطلب خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ ذمہ داری سمجھانا ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اسی وقت بہتر ہو سکتی ہے جب والدین، اساتذہ اور سکول انتظامیہ اپنے اپنے فرائض کو سنجیدگی سے ادا کریں۔ بچے کو صرف نمبر حاصل کرنے والی مشین سمجھنے کے بجائے ایک مکمل انسان سمجھا جائے، جسے علم کے ساتھ اخلاق، اعتماد، ذمہ داری اور صحیح سمت کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وہ فرض ہے جسے پورا کیے بغیر نہ سکول اپنی ذمہ داری ادا کر سکتا ہے اور نہ معاشرہ ایک بہتر نسل کی امید رکھ سکتا ہے۔