تجزیہ
2026-08-04
تحریر ۔ شاہد شکیل
انسانی تاریخ کا اگر عمیق اور غیر جانبدارانہ نظر سے مطالعہ کیا جائے، تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ کائنات اور انسانی معاشرے کچھ ثابت شدہ طبعی، حیاتیاتی اور سائنسی قوانین کے تحت حرکت کر رہے ہیں۔ کائنات کا یہ سائنسی نظام کسی کے جذبات، تمناؤں یا زبانی نعروں کا پابند نہیں ہے۔ جو اقوام ان قدرتی اور سائنسی حقائق کو سمجھ کر ان کے مطابق اپنے افکار اور عمل کی بنیاد رکھتی ہیں، وہ دنیا میں باوقار اور مضبوط مقام حاصل کر لیتی ہیں، اور جو قومیں حقائق سے آنکھیں چرا کر محض لفظی دعوؤں اور باطل مفروضوں کے سہارے جینا چاہتی ہیں، زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔دنیا میں ترقی اور زوال کے اس بنیادی اصول کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو مختلف طرزِ فکر کا باہمی موازنہ کرنا پڑے گا۔پہلی طرزِ فکر وہ ہے جسے ہم سائنسی اور عملی اندازِ فکر کہہ سکتے ہیں۔ اس سوچ کے حامل معاشرے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انسان کا وجود، اس کا ماحول، اور اس کی تمام تر پیشرفت سائنسی تحقیق، تجربے، اور سخت محنت سے مشروط ہے۔ یہ معاشرے جذبات کے بجائے عقل، منطق، اور حقائق کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیماری کا علاج صرف دوا اور طبی تحقیق سے ممکن ہے، زراعت کی ترقی کے لیے سائنسی طریقوں کی ضرورت ہے، اور معیشت کی مضبوطی کے لیے پیداواری صلاحیت اور ڈسپلن کا ہونا لازمی ہے۔ان معاشروں کی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف ہوتی ہیں کہ دنیا کے سائنسی قوانین کو کیسے سمجھا جائے اور ان کو انسانی بہبود کے لیے کیسے استعمال میں لایا جائے۔ وہاں تعلیم، تحقیق، سچی بات کہنے کی آزادی اور تنقیدی فکر کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ان کا ہر قدم حقائق کی روشنی میں اٹھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، طب، اور نظامِ زندگی میں دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کا یہ عروج کسی معجزے کا نتیجہ نہیں، بلکہ سائنسی حقیقتوں کو قبول کرنے اور عملی محنت کا براہِ راست ثمر ہے۔اس کے بالکل برعکس، دوسری طرزِ فکر وہ ہے جو حقیقت پسندی کے بجائے ظاہری نعروں، الفاظ کی جادوگری اور وہم پرستی پر قائم ہے۔ اس فکری روئے کے حامل معاشرے سائنسی اور طبعی حقائق کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ اپنی ہر ناکامی، بدحالی اور جہالت کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہوتے ہیں اور سچی بات یا تلخ حقیقت کو سننے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں۔ان خطوں میں مسائل کا حل سائنسی تحقیق، جدید تعلیم اور عملی اقدام میں تلاش کرنے کے بجائے صرف زبانی جمع خرچ اور جذباتی بیانیوں میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ وہاں ظاہری نمائش اور بڑے بڑے دعوؤں پر تو بہت زور دیا جاتا ہے، لیکن جب عمل، صفائی، سچائی اور ڈسپلن کی باری آتی ہے تو وہاں مکمل خاموشی اور ناکامی دکھائی دیتی ہے۔اس طرزِ فکر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ انسان کو فکری جمود کا شکار کر دیتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں سائنسی اور عقلی سوچ کو دبایا جائے اور صرف روایتی و جذباتی بیانیوں کو ہی حتمی سچ مان لیا جائے، تو وہاں تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ایسا سماج نئی ایجادات اور جدید سوچ کا مقابلہ کرنے میں مکمل طور پر نا اہل ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ باقی دنیا سے صدیوں پیچھے رہ جاتا ہے۔یہاں یہ سائنسی حقیقت بالکل روشن ہو جاتی ہے کہ عمل اور سچائی کی طاقت کا مقابلہ کوئی بھی لفظی نعرہ نہیں کر سکتا۔قدرت کا قانون بہت بے رحم اور غیر جانبدار ہے۔ وہ اس بات سے کوئی غرض نہیں رکھتا کہ کون کتنے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے، بلکہ وہ صرف اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ کس نے حقیقت کو تسلیم کر کے عملی محنت کی ہے۔ اگر کوئی قوم سائنسی علوم، محنت، ڈسپلن اور سچائی کو اپنائے گی تو وہی آگے بڑھے گی، چاہے اس کا پس منظر کچھ بھی ہو۔ اور اگر کوئی قوم سائنسی فکر کو ٹھکرا کر صرف زبانی دعوؤں پر تکیہ کرے گی تو وہ تباہی اور غیروں کی محتاجی سے خود کو نہیں بچا سکے گی۔حقیقی زوال سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم تمام تر جذباتی بیانیوں، ظاہری دکھاوے اور وہم پرستی کو یکسر رد کر دیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کائنات اور سوسائٹی صرف اور صرف عقل، سائنسی قوانین، آئین اور عمل کی بنیاد پر چلتے ہیں۔ جب تک اس سچائی کو تسلیم کر کے اپنے رویوں میں تبدیلی نہیں لائی جائے گی، تب تک تاریکی اور زوال کے بادل چھٹ نہیں سکتے۔