سبق
2026-07-26
تحریر ۔ شاہد شکیل
خرابی ہمیشہ اچانک جنم نہیں لیتی۔ کوئی بچہ دنیا میں ظالم، فریبی، لالچی یا بےحس بن کر نہیں آتا۔ وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی آوازوں، رویّوں مثالوں اور خاموشیوں سے زندگی کا مفہوم سیکھتا ہے۔ جو منظر اس کی نگاہوں کے سامنے بار بار دہرایا جائے، وہ آہستہ آہستہ اس کے شعور کا حصہ بن جاتا ہے؛ اور جس رویّے کو گھر اور معاشرہ معمول قرار دے دیں، وہی آگے چل کر اس کے کردار میں جگہ بنا سکتا ہے۔نسلوں میں منتقل ہونے والی خرابی کا تعلق خون سے کم اور ماحول سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگر جھوٹ کو ذہانت، ظلم کو طاقت، لالچ کو ضرورت اور کمزور کو دبانے کو کامیابی سمجھا جائے تو نئی نسل انہی رویّوں کو زندگی کا فطری طریقہ تصور کرنے لگتی ہے۔ بچہ نصیحت سے زیادہ مثال سے سیکھتا ہے۔ اسے سچ بولنے کی تلقین کی جائے مگر گھر کے معاملات جھوٹ پر چلتے ہوں تو وہ الفاظ اور حقیقت کے درمیان فرق بہت جلد سمجھ لیتا ہے۔گھر دراصل بچے کی پہلی درس گاہ ہے۔ وہ خاموشی سے دیکھتا ہے کہ اختلاف کس طرح کیا جاتا ہے، کمزور کے ساتھ کیسا برتاؤ ہوتا ہے، عورت کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، بزرگ کو عزت ملتی ہے یا بوجھ سمجھا جاتا ہے، اور دولت کو انسان سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے یا نہیں۔ وہ فوراً کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتا، لیکن ہر منظر اس کے باطن میں محفوظ ہوتا رہتا ہے۔خرابی صرف الفاظ کے ذریعے منتقل نہیں ہوتی؛ بعض اوقات خاموشیاں اس سے کہیں زیادہ گہرا سبق دے جاتی ہیں۔ گھر میں کسی کا حق دبایا جائے اور سب مصلحت کے نام پر خاموش رہیں، کسی کی تذلیل ہو اور اسے تربیت قرار دے دیا جائے، ظلم ہو اور کہا جائے کہ گھر کی بات باہر نہیں جانی چاہیے، تو بچے کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ناانصافی سے زیادہ خطرناک اس کا ذکر کرنا ہے۔اسی طرح برائی ہمیشہ اپنے اصل نام سے سامنے نہیں آتی۔ دھوکے کو چالاکی، سختی کو نظم، بےحسی کو حقیقت پسندی اور ذاتی مفاد کو دانائی کہا جانے لگتا ہے۔ جب غلط رویّوں کے نام بدل دیے جائیں تو انہیں پہچاننا دشوار ہوجاتا ہے۔ پھر مکان، لباس، زبان اور طرزِ زندگی تو بدل جاتے ہیں، مگر سوچ اپنی پرانی صورت میں زندہ رہتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایک نسل کے زخم دوسری نسل کے رویّوں میں اتر جائیں۔ جس بچے کو عزت نہ ملی ہو، وہ بڑا ہوکر یا تو عزت کی قدر سیکھتا ہے یا دوسروں کو بھی اسی محرومی سے گزارنے لگتا ہے۔ جس نے خوف میں زندگی گزاری ہو، وہ یا تو دوسروں کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتا ہے یا خود خوف کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ تکلیف انسان کو حساس بھی بنا سکتی ہے اور سنگ دل بھی؛ فیصلہ اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے زخم کو سمجھتا ہے یا اسے دوسروں کے خلاف ہتھیار بنا لیتا ہے۔کسی انسان کا ماضی اس کے غلط عمل کی وضاحت تو کرسکتا ہے، اسے جائز قرار نہیں دے سکتا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بہت سے سخت مزاج لوگ کبھی خود سختی کا شکار رہے ہوتے ہیں، مگر مظلوم ہونا کسی کو ظلم کا حق نہیں دیتا۔ اصل عظمت یہ ہے کہ انسان اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو اگلی نسل کی قسمت نہ بننے دے۔نسلوں میں خرابی اس وقت زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے جب خاندان اپنے اندر موجود کمزوریوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ عزت کے نام پر حقیقت کو چھپانا، بزرگوں کے احترام کے نام پر ہر غلطی کو درست سمجھنا اور روایت کے نام پر ناانصافی کو جاری رکھنا اصلاح کے تمام دروازے بند کردیتا ہے۔ جس بیماری کو بیماری ہی نہ مانا جائے، اس کے علاج کی ابتدا کیسے ہوسکتی ہے؟عمر کا بڑھ جانا ہمیشہ شعور کی ضمانت نہیں ہوتا۔ انسان برسوں کا تجربہ رکھنے کے باوجود اپنی غلطیوں سے بےخبر رہ سکتا ہے۔ اصل بلوغت اس وقت آتی ہے جب کوئی شخص یہ تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرے کہ اسے اپنے گھر اور ماحول سے ملنے والی ہر چیز درست نہیں تھی۔ اچھی وراثت کو سنبھالنا اور نقصان دہ روایت کو روک دینا ہی حقیقی دانش مندی ہے۔اگر گھر نے محنت، دیانت، صبر اور احترام سکھایا ہے تو ان اقدار کو آگے منتقل کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر اسی گھر نے خاموش رہ کر ظلم سہنا، کمزور کو دبانا، عورت کو کمتر سمجھنا یا تعلقات کو صرف فائدے کے ترازو میں تولنا سکھایا ہے تو ایسی وراثت کو قبول کرنا ضروری نہیں۔ وراثت صرف اٹھائی نہیں جاتی، اسے پرکھا بھی جاتا ہے۔خرابی کی زنجیر توڑنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ انسان کو صرف ایک عادت نہیں بلکہ اپنے اندر موجود کئی پرانی آوازوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اسے بار بار بتایا گیا ہوتا ہے کہ دنیا ایسے ہی چلتی ہے، سیدھا انسان نقصان اٹھاتا ہے، ہر شخص اپنا فائدہ دیکھتا ہے اور سوال کرنے والا رشتے خراب کرتا ہے۔ ان جملوں کو پہچان لینا ہی تبدیلی کا پہلا قدم ہے۔جو شخص یہ کہہ سکے کہ میں اپنے بچوں کو وہ خوف، ذلت اور تلخی منتقل نہیں کروں گا جو مجھے ملی تھی، وہ ایک نئی ابتدا کررہا ہوتا ہے۔ نسل بدلنے کا مطلب صرف نئے بچوں کا دنیا میں آنا نہیں؛ اصل تبدیلی یہ ہے کہ ان بچوں کو پرانے زخم، تعصبات اور غلط روایتیں ورثے میں نہ دی جائیں۔کبھی کبھی ایسے ماحول میں اچھا انسان بنے رہنا بھی ایک خاموش مزاحمت بن جاتا ہے جہاں جھوٹ کو قابلیت، حق تلفی کو کامیابی اور بےحسی کو طاقت سمجھا جاتا ہو۔ ایسے حالات میں سچ بولنا، انصاف کرنا، صاف کمائی پر قائم رہنا اور کمزور کے وقار کا احترام کرنا معمولی اعمال نہیں رہتے۔ یہی چھوٹے مگر بااصول فیصلے معاشرے کی سمت بدلنے کی بنیاد بنتے ہیں۔گھر ہی سے معاشرے کا سفر شروع ہوتا ہے۔ گھر کا رویّہ محلے، ادارے اور نظام تک پہنچتا ہے، پھر وہی نظام دوبارہ گھروں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک گھر میں پیدا ہونے والی بےحسی کل کسی دفتر، درس گاہ یا اختیار کی کرسی تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح ایک گھر میں پیدا ہونے والی دیانت بھی معاشرے کے کئی گوشوں کو روشن کرسکتی ہے۔اگر خرابی نسلوں میں منتقل ہوسکتی ہے تو اچھائی بھی وراثت بن سکتی ہے۔ ایک نرم لہجہ، ایک منصفانہ فیصلہ، صاف رزق، عورت کا احترام، بزرگ کا وقار اور بچے کا محفوظ بچپن آنے والی نسلوں کی بنیاد بدل سکتے ہیں۔ انسان جو کچھ اپنے بعد چھوڑتا ہے، وہ صرف مال یا جائیداد نہیں ہوتا؛ اس کا کردار بھی دوسروں کی زندگیوں میں آگے سفر کرتا ہے۔نسلوں سے چلتی ہوئی خرابی کوئی ناقابلِ تبدیلی تقدیر نہیں، بلکہ ایک زنجیر ہے۔ اسے توڑنے کے لیے پہلے اس کی موجودگی تسلیم کرنا ہوگی۔ انسان کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کتنی دولت چھوڑتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انہیں اپنے زخموں، تعصبات اور باطنی آلودگی سے کس حد تک محفوظ رکھتا ہے۔