رشتے

2026-07-07

تحریر ۔ شاہد شکیل

رشتہ انسان کی سب سے نازک امانت ہے۔ یہ کاغذ پر نہیں بنتا، دل میں بنتا ہے۔ یہ صرف خون، نام، گھر، خاندان یا ساتھ رہنے کا نام نہیں۔ رشتہ اس وقت رشتہ بنتا ہے جب اس میں اعتماد ہو، خیال ہو، عزت ہو، وفاداری ہو، اور انسان دوسرے انسان کو فائدے کی چیز نہیں بلکہ انسان سمجھے۔ جہاں یہ چیزیں ختم ہو جائیں، وہاں رشتہ نام کا رہ جاتا ہے، اندر سے سودا بن جاتا ہے۔سودا بازار میں ہوتا ہے۔ وہاں چیز دیکھی جاتی ہے، قیمت لگائی جاتی ہے، فائدہ دیکھا جاتا ہے، نقصان دیکھا جاتا ہے، پھر فیصلہ ہوتا ہے کہ لینا ہے یا چھوڑ دینا ہے۔ بازار میں یہ طریقہ ٹھیک ہے، کیونکہ وہاں چیزیں بکتی ہیں۔ مگر جب یہی طریقہ گھر، خاندان، محبت، والدین، اولاد، بھائی، بہن، میاں بیوی اور دوستی میں داخل ہو جائے تو رشتہ مرنے لگتا ہے۔ پھر انسان انسان نہیں رہتا، استعمال کی چیز بن جاتا ہے۔رشتے کا سودا اس وقت شروع ہوتا ہے جب آدمی ہر تعلق سے پوچھتا ہے: مجھے کیا ملے گا؟ اگر ماں باپ ہیں تو کیا دیں گے؟ اگر بھائی ہے تو کس کام آئے گا؟ اگر بہن ہے تو اس سے کیا فائدہ ہے؟ اگر دوست ہے تو کہاں استعمال ہو سکتا ہے؟ اگر بیوی ہے تو کتنی خدمت کرے گی؟ اگر شوہر ہے تو کتنا کما کر لائے گا؟ اگر اولاد ہے تو بڑھاپے میں کیا دے گی؟ جب ہر رشتہ فائدے کی زبان میں سوچا جائے، تو محبت آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے۔سودا بنے ہوئے رشتے میں آدمی سامنے والے کی تکلیف نہیں دیکھتا، صرف اپنی ضرورت دیکھتا ہے۔ اسے یہ فرق نہیں پڑتا کہ دوسرا تھکا ہوا ہے، بیمار ہے، پریشان ہے، ٹوٹ رہا ہے یا اندر سے خاموش ہو چکا ہے۔ اسے صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس سے میرا کام نکل رہا ہے یا نہیں۔ اگر کام نکل رہا ہے تو رشتہ اچھا ہے۔ اگر کام نہ نکلے تو رشتہ بوجھ ہے۔ یہ سوچ انسانیت کی دشمن ہے۔کچھ لوگ محبت کے نام پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: تم اپنے ہو، تمہیں ہی کرنا ہوگا۔ تم بھائی ہو، تم انکار کیسے کر سکتے ہو؟ تم بیٹی ہو، تمہیں قربانی دینی چاہیے۔ تم بہو ہو، تمہارا فرض ہے۔ تم بیٹا ہو، تم پر ذمہ داری ہے۔ تم دوست ہو، تمہیں ساتھ دینا پڑے گا۔ یہ جملے سننے میں رشتے والے لگتے ہیں، مگر بہت بار ان کے اندر صرف مطلب چھپا ہوتا ہے۔ رشتہ اگر صرف ایک طرف سے قربانی مانگے اور دوسری طرف سے صرف فائدہ لے، تو وہ رشتہ نہیں رہتا، بوجھ بن جاتا ہے۔سچا رشتہ انسان کو سہارا دیتا ہے، نچوڑتا نہیں۔ سچا رشتہ انسان کو عزت دیتا ہے، استعمال نہیں کرتا۔ سچے رشتے میں ضرورت ہو تو بات کی جاتی ہے، دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔ مدد مانگی جاتی ہے، حق جتایا نہیں جاتا۔ شکریہ ہوتا ہے، مطالبہ نہیں۔ اور سب سے بڑی بات، سچے رشتے میں انسان کو انکار کا حق بھی ہوتا ہے۔ جہاں انکار کی جگہ نہ ہو، وہاں محبت نہیں، قبضہ ہوتا ہے۔رشتوں کا سودا صرف پیسے سے نہیں ہوتا۔ کبھی وقت کا سودا ہوتا ہے، کبھی عزت کا، کبھی خاموشی کا، کبھی جسم کا، کبھی جذبات کا، کبھی عمر کا۔ ایک انسان دوسرے سے سالوں خدمت لیتا ہے، مگر اسے عزت نہیں دیتا۔ ایک شخص گھر کے لیے دن رات کام کرتا ہے، مگر اس کی تھکن کو کوئی نہیں دیکھتا۔ ایک عورت سب کے لیے جیتی ہے، مگر جب وہ اپنے لیے دو لفظ کہتی ہے تو اسے خود غرض کہا جاتا ہے۔ ایک بیٹا یا بیٹی گھر سنبھالتا ہے، مگر باقی لوگ اسے فرض کہہ کر اس کی محنت کو صفر کر دیتے ہیں۔ یہ سب سودا ہے۔سودے کی پہچان یہ ہے کہ وہاں حساب ہمیشہ ایک طرف سے رکھا جاتا ہے۔ لینے والا اپنے حق کا حساب رکھتا ہے، دینے والے کی قربانی کا نہیں۔ وہ یاد رکھتا ہے کہ اسے کیا نہیں ملا، مگر یہ نہیں یاد رکھتا کہ اسے کیا کیا ملا۔ وہ دوسروں سے پوچھتا ہے تم نے میرے لیے کیا کیا، مگر خود سے نہیں پوچھتا کہ میں نے کس کے ساتھ انصاف کیا۔ ایسے رشتوں میں شکریہ مر جاتا ہے اور شکایت زندہ رہتی ہے۔گھروں میں اکثر رشتے اسی لیے خراب ہوتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے کو انسان نہیں، کردار سمجھتے ہیں۔ ماں کا کردار، باپ کا کردار، بیٹے کا کردار، بیٹی کا کردار، بہو کا کردار، شوہر کا کردار، بیوی کا کردار۔ کردار کے پیچھے انسان غائب ہو جاتا ہے۔ ہر شخص سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنی جگہ پر کام کرتا رہے، چاہے اندر سے ٹوٹ جائے۔ ماں ہمیشہ دے، باپ ہمیشہ کمائے، بیٹا ہمیشہ ذمہ داری اٹھائے، بہو ہمیشہ خدمت کرے، بیٹی ہمیشہ سمجھوتہ کرے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ان سب کے اندر انسان بھی ہے یا نہیں۔جب رشتہ سودا بنتا ہے تو زبان بھی بدل جاتی ہے۔ محبت کی جگہ مطالبہ آ جاتا ہے۔ خیال کی جگہ حکم آ جاتا ہے۔ احترام کی جگہ طعنہ آ جاتا ہے۔ ضرورت کی جگہ الزام آ جاتا ہے۔ “کیا تم میری مدد کر سکتے ہو؟” کی جگہ “تمہیں کرنا ہی ہوگا” آ جاتا ہے۔ “تم تھک گئے ہو؟” کی جگہ “اس میں تھکنے والی کیا بات ہے؟” آ جاتا ہے۔ “شکریہ” کی جگہ “یہ تو تمہارا فرض تھا” آ جاتا ہے۔ یہی جملے رشتوں کو اندر سے کھا جاتے ہیں۔ایک خراب رشتہ ہمیشہ شور سے نہیں ٹوٹتا۔ کبھی وہ خاموشی سے مر جاتا ہے۔ لوگ ساتھ رہتے ہیں، بات کرتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں، مہمانوں کے سامنے مسکراتے ہیں، مگر دل میں ایک دوسرے کے لیے گرمی نہیں رہتی۔ کیونکہ ایک نے دوسرے کو بہت استعمال کیا ہوتا ہے، اور دوسرا اندر سے خالی ہو چکا ہوتا ہے۔ پھر رشتہ صرف نام رہ جاتا ہے۔ گھر میں لوگ موجود ہوتے ہیں، مگر تعلق غائب ہوتا ہے۔سودا بنے ہوئے رشتے میں سب سے زیادہ نقصان اعتماد کا ہوتا ہے۔ جب انسان کو محسوس ہو جائے کہ مجھے محبت نہیں، ضرورت کے وقت یاد کیا جاتا ہے، تو اس کا دل پیچھے ہٹنے لگتا ہے۔ وہ مدد بھی کرے تو دل سے نہیں کرتا۔ وہ بات بھی کرے تو احتیاط سے کرتا ہے۔ وہ قریب بھی رہے تو اندر سے دور رہتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہو چکا ہوتا ہے کہ یہاں اس کی ذات نہیں، اس کی دولت دیکھی جاتی ہے۔کچھ لوگ رشتے کو اتنا استعمال کرتے ہیں کہ آخر میں رشتہ دینے والا انسان بھی سخت ہو جاتا ہے۔ پھر لوگ کہتے ہیں یہ بدل گیا۔ یہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ یہ جواب دینے لگا ہے۔ یہ دور ہو گیا ہے۔ مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ اسے دور کس نے کیا۔ ہر بار اس کے احساس کو ہلکا کس نے سمجھا۔ ہر بار اس کی نرمی کو کمزوری کس نے بنایا۔ ہر بار اس کی مدد کو اپنا حق کس نے سمجھا۔ انسان اچانک سخت نہیں ہوتا، اسے بار بار استعمال کیا جاتا ہے، پھر وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے سخت ہوتا ہے۔رشتے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی حد کھو دے۔ محبت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ہمیشہ دیتا رہے اور دوسرا ہمیشہ لیتا رہے۔ قربانی کا مطلب یہ نہیں کہ ایک شخص اپنی زندگی جلا دے تاکہ دوسرے لوگ آرام سے بیٹھے رہیں۔ رشتے میں حد ضروری ہے۔ حد نہ ہو تو محبت بھی استحصال میں بدل جاتی ہے۔ جو شخص ہر وقت دوسرے کی حد توڑتا ہے، وہ محبت نہیں کر رہا، قبضہ کر رہا ہے۔رشتوں میں سب سے خطرناک لوگ وہ ہوتے ہیں جو استعمال کو محبت کی زبان میں چھپاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم تو اپنے ہیں۔ مگر اپنا ہونا دوسرے کی گردن پر ہاتھ رکھنا نہیں ہوتا۔ اپنا ہونا اس کی تکلیف سمجھنا ہوتا ہے۔ اپنا ہونا یہ نہیں کہ جب چاہا کام لے لیا، جب چاہا طعنہ دے دیا، جب چاہا خاموش کرا دیا۔ اپنا ہونا یہ ہے کہ انسان دوسرے کی عزت کو اپنی عزت سمجھے۔اگر کوئی شخص صرف تب یاد آتا ہے جب ضرورت ہو، تو یہ رشتہ کم اور انتظام زیادہ ہے۔ اگر کسی کو صرف پیسے، کام، سفارش، خدمت، سہولت یا فائدے کے لیے پکارا جائے، تو ایک دن وہ دل سے جواب دینا بند کر دیتا ہے۔ رشتہ مسلسل استعمال سے تھک جاتا ہے۔ جیسے کپڑا بار بار رگڑنے سے کمزور ہوتا ہے، ویسے ہی تعلق بار بار مطلب سے کمزور ہوتا ہے۔رشتے کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ انسان کو صرف کام کے وقت نہیں، بے کام وقت بھی یاد رکھا جائے۔ اس کی خیریت پوچھی جائے جب کوئی ضرورت نہ ہو۔ اس سے بات کی جائے جب کوئی مقصد نہ ہو۔ اس کے پاس بیٹھا جائے جب کوئی فائدہ نہ ہو۔ اسے عزت دی جائے جب وہ کچھ دے نہ سکتا ہو۔ یہی رشتہ ہے۔ باقی سب لین دین ہے۔بعض گھروں میں بزرگوں کو اس وقت تک عزت ملتی ہے جب تک وہ جائیداد، پنشن، گھر، زمین یا فیصلہ دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جیسے ہی یہ طاقت ختم ہوتی ہے، ان کی آواز بھی ختم کر دی جاتی ہے۔ بعض رشتوں میں عورت کی قدر اس وقت تک ہے جب تک وہ کام کر رہی ہے، برداشت کر رہی ہے، خدمت کر رہی ہے۔ جیسے ہی وہ اپنی تکلیف بیان کرے، اسے مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ بعض جگہ بھائی کی قدر اس وقت تک ہے جب تک وہ پیسہ بھیجتا ہے۔ جیسے ہی وہ رک جائے، اس کی محبت مشکوک ہو جاتی ہے۔ یہ سب رشتے نہیں، سودا ہیں۔سودا بنے ہوئے رشتے میں انسان کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ اسے ہمیشہ زیادہ چاہیے۔ زیادہ خدمت، زیادہ پیسہ، زیادہ وقت، زیادہ فرمانبرداری، زیادہ قربانی۔ وہ جو ملتا ہے، اسے معمول سمجھتا ہے؛ جو نہ ملے، اسے جرم بنا دیتا ہے۔ ایسے آدمی کا پیٹ رشتوں سے نہیں بھرتا، کیونکہ وہ رشتوں کو کھاتا ہے، نبھاتا نہیں۔رشتہ نبھانے کے لیے انصاف چاہیے۔ ہر انسان کے حصے کی تھکن دیکھی جائے۔ ہر انسان کی حد مانی جائے۔ ہر مدد کو حق نہیں، احسان سمجھا جائے۔ ہر قربانی کو معمول نہیں، قدر سمجھا جائے۔ ہر خاموش انسان کو کمزور نہیں، شاید تھکا ہوا سمجھا جائے۔ ہر دینے والے سے یہ بھی پوچھا جائے کہ تمہارے پاس اپنے لیے کیا بچا ہے۔رشتے کو سودا بننے سے بچانے کے لیے زبان بدلنی پڑتی ہے۔ “تمہیں کرنا ہوگا” کی جگہ “کیا تم کر سکتے ہو؟” آنا چاہیے۔ “یہ تمہارا فرض ہے” کی جگہ “تم نے بہت کیا” آنا چاہیے۔ “تم بدل گئے ہو” کی جگہ “شاید ہم نے تمہیں تھکا دیا” آنا چاہیے۔ “ہم اپنے ہیں” کی جگہ “ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے” آنا چاہیے۔ الفاظ چھوٹے ہوتے ہیں، مگر رشتوں کی سانس انہی سے چلتی ہے۔ایک معاشرہ جہاں رشتے سودا بن جائیں، وہاں انسان بہت جلد تنہا ہو جاتے ہیں۔ باہر سے خاندان بڑے نظر آتے ہیں، اندر سے ہر آدمی حساب میں لگا ہوتا ہے۔ کون کیا دے گا، کون کیا لے گا، کس سے کیا نکلے گا، کس کو کیسے قابو کیا جائے گا۔ ایسی جگہ محبت نہیں پنپتی۔ وہاں ڈر، شک، لالچ، تھکن اور خاموش نفرت پیدا ہوتی ہے۔اصل رشتہ وہاں ہوتا ہے جہاں انسان کی قیمت اس کے فائدے سے نہ لگے۔ جہاں باپ باپ رہے، چاہے اس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو۔ ماں ماں رہے، چاہے وہ کمزور ہو جائے۔ بہن بہن رہے، چاہے اس کا حصہ دینا پڑے۔ بھائی بھائی رہے، چاہے اس سے کام نہ نکلے۔ بیوی انسان رہے، صرف خدمت گار نہیں۔ شوہر انسان رہے، صرف کمائی کی مشین نہیں۔ اولاد انسان رہے، صرف بڑھاپے کا سہارا نہیں۔ دوست دوست رہے، صرف ضرورت کا نمبر نہیں۔رشتے کو رشتہ رہنے کے لیے دل میں یہ بات زندہ رہنی چاہیے کہ انسان استعمال کی چیز نہیں۔ اس کی عزت ہے، حد ہے، تھکن ہے، اپنی زندگی ہے، اپنا درد ہے۔ جو شخص یہ نہیں سمجھتا، وہ ہر تعلق کو بازار بنا دیتا ہے۔ اور جب گھر بازار بن جائے، تو پھر آوازیں تو رہتی ہیں، مگر محبت کی خوشبو ختم ہو جاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ رشتے فائدے کے لیے نہیں، انسانیت کے لیے ہوتے ہیں۔ فائدہ آ جائے تو شکر، نہ آئے تو رشتہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ جس دن انسان نے رشتے کو صرف اپنے مطلب سے ناپنا شروع کر دیا، اسی دن اس نے اپنے دل کو دکان بنا لیا۔ دکان میں چیزیں رکھی جاتی ہیں، انسان نہیں۔ اور جس دل میں انسان کی جگہ حساب بیٹھ جائے، وہاں محبت نہیں رہتی، صرف لین دین رہ جاتا ہے۔