رِشتہ یا دیوار

2026-07-20

تحریر ۔ شاہد شکیل

دنیا میں شاید ہی کوئی باپ اپنی اولاد کی ناکامی چاہتا ہو۔ وہ محنت اور قربانی سے بچے کو ان ٹھوکروں سے بچانا چاہتا ہے جن سے خود گزرا۔ یہ جذبہ محبت اور ذمہ داری ہے، مگر کبھی محبت میں خوف اور اختیار شامل ہو کر ایسی دیوار بن جاتے ہیں جس کے پیچھے بچے کی خواہش، صلاحیت، اعتماد اور شناخت دبنے لگتی ہے۔ باپ سمجھتا ہے کہ وہ راستہ بنا رہا ہے، مگر انجانے میں اسے بند کر دیتا ہے۔یہ بات والدین کی قربانیوں کو نظرانداز کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک باپ کا اپنی سوچ سے سوال ہے۔ وقت سکھاتا ہے کہ اولاد کو اپنی زندگی کی نقل بنانا اس کی انفرادیت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ باپ کا تجربہ قیمتی ہے، لیکن بچے کا زمانہ مختلف ہے؛ جو تعلیم، پیشہ یا اصول کل کامیابی کی ضمانت تھے، آج بدل چکے ہوں گے۔باپ کا تجربہ چراغ ضرور ہے، مگر بچے کی آنکھ نہیں۔ اگر وہ اپنے زمانے کی عینک زبردستی بچے کو پہنا دے تو بچہ دنیا کو اپنی نظر سے نہیں دیکھ سکے گا۔ یہی رہنمائی اور حکم کا فرق ہے۔ رہنمائی سوچنے، سوال کرنے اور غلطی سے سیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے، جبکہ حکم سوچنے کا حق چھین لیتا ہے۔ مسلسل کنٹرول بچے کو خوف زدہ رکھتا ہے اور اختیار صرف فرمان سنانا چاہتا ہے۔ہمارے بہت سے گھروں میں آج بھی باپ کا فیصلہ آخری سمجھا جاتا ہے۔ تعلیم، پیشہ، دوستی، شادی، رہائش اور مستقبل کے فیصلے بچے کی خواہش، صلاحیت اور ذہنی کیفیت جانے بغیر طے کر دیے جاتے ہیں۔ پھر پوچھا جاتا ہے کہ بچہ خاموش کیوں ہے، گھر سے دور کیوں رہنا چاہتا ہے اور دل کی بات کیوں نہیں کہتا۔ جس گھر میں سوال کی اجازت نہ ہو، وہاں سچائی آہستہ آہستہ دروازے سے باہر نکل جاتی ہے۔ماں کی آواز کو نظرانداز کرنا بھی ناانصافی ہے۔ وہ بچے کی تربیت اور مستقبل میں برابر کی شریک ہے اور اس کی وہ کیفیت بھی سمجھ سکتی ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آتی۔ مضبوط باپ وہ ہے جو اختلاف سن سکے اور شریکِ حیات کی رائے کو عزت دے۔ ماں کی بے توقیری سے بیٹا اختیار کو مرد کی میراث اور بیٹی اپنی رائے کو دوسرے درجے کی سمجھنے لگتی ہے۔بہت سے باپ ظالم نہیں، مگر خوف زدہ ضرور ہوتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ بچے ہاتھ سے نکل جائیں گے، خاندان بدنام ہوگا اور لوگ انگلی اٹھائیں گے۔ یہی “لوگ کیا کہیں گے” بے شمار بچوں کی تعلیم، پسند، محبت، اعتماد اور مستقبل کو نگل چکا ہے۔ لوگ چند دن بات کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر بچہ والدین کے فیصلے کا بوجھ پوری زندگی اٹھاتا ہے۔کبھی بچے کو پسند کی تعلیم نہیں ملتی، کبھی بیٹی کا رشتہ جلدی طے ہوتا ہے اور کبھی بیٹے کو ناپسند پیشے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ والدین کامیابی کی تعریف بھی خود طے کر کے یہ نہیں پوچھتے کہ بچہ کس زندگی میں خوش رہے گا۔ لوگوں کی نظروں میں کامیاب اور اپنی نظروں میں ناکام انسان سے زیادہ تنہا شاید ہی کوئی ہو۔بچوں کو دنیا سے چھپا کر مضبوط نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل تحفظ پابندی اور نگرانی نہیں، بلکہ شعور، اعتماد، تربیت، مکالمہ اور اچھے برے میں فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ جو بچہ صرف باپ کے خوف سے غلط کام نہیں کرتا، ممکن ہے اس کی غیر موجودگی میں وہی غلطی کر بیٹھے۔ لیکن جسے سمجھ اور اخلاقی تربیت ملی ہو، وہ دور رہ کر بھی اپنے فیصلے کا وزن جانتا ہے۔ خوف عارضی فرمانبرداری پیدا کرتا ہے، جبکہ شعور مستقل کردار بناتا ہے۔بچہ والدین کی ملکیت نہیں۔ وہ اپنی صلاحیت، کمزوری، پسند اور زندگی رکھنے والا مستقل انسان ہے۔ وہ والدین کے ذریعے دنیا میں آتا ہے، مگر صرف والدین کے لیے نہیں آتا۔ اسے والدین کی ادھوری خواہشیں پوری کرنے کا ذریعہ بنانا بھی انصاف نہیں۔ جو تعلیم باپ حاصل نہ کر سکا، ضروری نہیں کہ بیٹا وہی حاصل کرے؛ جو زندگی ماں نہ جی سکی، ضروری نہیں کہ بیٹی سے اسی کا مطالبہ کیا جائے۔ بچوں کو خوابوں کے ساتھ انتخاب کا حق بھی ملنا چاہیے۔سمجھ دار باپ اولاد کو اپنے قدموں کے نشانات میں قید نہیں کرتا۔ وہ چلنا سکھاتا ہے، مگر راستہ منتخب کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ وہ تجربہ بتاتا، خطرے سے خبردار کرتا اور سہارا دیتا ہے، مگر بچے کے پر نہیں کاٹتا۔ باپ راستہ دکھا سکتا ہے، مگر بچے کی جگہ چل نہیں سکتا؛ مشورہ دے سکتا ہے، مگر ہر فیصلہ خود نہیں کر سکتا۔اصل کامیابی یہ نہیں کہ بیٹا بالکل باپ جیسا بنے یا بیٹی ماں کی زندگی دہرا دے۔ کامیابی یہ ہے کہ اولاد والدین کی خوبیوں کو اپنائے، ان کی غلطیوں سے سبق لے اور اپنے زمانے کے مطابق بہتر انسان بنے۔ اگر بچہ باپ سے آگے نکل جائے تو یہ باپ کی شکست نہیں، اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ اختلاف بے ادبی نہیں، سوال نافرمانی نہیں اور مختلف راستہ اختیار کرنا خاندان سے غداری نہیں۔باپ دیوار نہیں ہونا چاہیے جس سے ٹکرا کر اولاد کے خواب زخمی ہوں۔ اسے ایسا سایہ ہونا چاہیے جو دھوپ سے بچائے مگر روشنی نہ روکے، خطرے سے خبردار کرے مگر دنیا دیکھنے سے منع نہ کرے۔ ایک دن اسے خوشی سے دیکھنا چاہیے کہ بچہ اپنے شعور اور منتخب منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ باپ کی عظمت حکم منوانے میں نہیں، بلکہ ایسی تربیت میں ہے جس کے بعد اولاد اس کے سہارے کے بغیر بھی سیدھی کھڑی رہ سکے۔رشتہ وہ ہے جو انسان کو جوڑے، سنوارے اور مضبوط کرے۔ جو چیز اس کی آواز، شناخت اور مستقبل کو روک دے، وہ رشتہ نہیں رہتی، دیوار بن جاتی ہے۔