قُدرتی نِظام
2026-08-02
تحریر ۔ شاہد شکیل
زمین صرف مٹی، پتھر اور پانی کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا زندہ اور تحرک سے بھرپور نظام ہے جس کی بنیاد توازن اور اعتدال پر رکھی گئی ہے۔ خالقِ کائنات نے اس کرۂ ارض کو جس توازن کے ساتھ تخلیق کیا، اس میں ہوا کی پاکیزگی، موسموں کی باقاعدگی، جنگلات کی ہریالی اور سمندروں کی روانی ایک دوسرے کے ساتھ گہرے ربط میں منسلک ہیں۔ اس نظامِ قدرت میں درخت وہ خاموش پاسبان ہیں جو بظاہر ساکت نظر آتے ہیں، لیکن دن رات ہوا کے زہر کو چوس کر انسان اور دیگر حیوانات کے لیے حیات بخش آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، انسانی تاریخ کے حالیہ چند سو سالوں میں، خصوصاً صنعتی انقلاب کے بعد، انسان نے ترقی، منافع خوری اور آسائش پسندی کی دوڑ میں اس خدائی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ہم نے کارخانے لگائے، سڑکیں بنائیں، شہر آباد کیے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کوئلہ، تیل اور گیس جیسے فوسل فیولز کا بے دریغ استعمال کیا۔ اس تمام تر سرگرمی کے نتیجے میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ اور دیگر زہریلی گیسوں کا تناسب اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب زمین کی سانسیں گھٹنے لگی ہیں۔ زہریلی گیسوں کے اس بے قابو اخراج نے کرۂ ارض کو ایک ایسے ہاٹ ہاؤس میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سے حرارت باہر نہیں نکل پا رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم گلوبل وارمنگ، گلیشئرز کے پگھلنے، بے وقت کی بارشوں، شدید گرمی کی لہروں اور طوفانوں کی صورت میں ماحولیاتی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ماحولیاتی ماہرین اور سائنسی برادری طویل عرصے سے اس بات پر نالاں ہے کہ اگر فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج اسی رفتار سے جاری رہا، تو آنے والی چند دہائیوں میں دنیا کے کئی خطے نا قابلِ سکونت ہو جائیں گے۔ فصلیں تباہ ہوں گی، پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوگی اور نئی نئی بیماریاں جنم لیں گی۔ اس المیے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس وقت فضا میں کاربن کا اخراج عروج پر تھا، بالکل اسی وقت انسان نے اپنے ہاتھوں سے زمین کے پھیپھڑوں یعنی قدرتی جنگلات کو بے دردی سے کاٹنا شروع کر دیا۔ جب درخت ہی نہ رہیں جو کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کر سکیں، تو پھر فضا کی پاکیزگی کا تصور محض ایک خام خیالی بن کر رہ جاتا ہے۔اسی سنگین اور ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر، دنیا بھر کے سائنسدان اب ایسے غیر معمولی اور انقلابی حل تلاش کرنے پر مجبور ہیں جو قدرتی نظام کے اس نقصان کی تلافی کر سکیں یا کم از کم تباہی کے اس عمل کو سست کر سکیں۔ حال ہی میں جرمن اور امریکی سائنسدانوں کے مشترکہ تعاون سے ایک ایسا ہی دلیرانہ اور حیران کن میگا پروجیکٹ سامنے آیا ہے، جس نے دنیا بھر کے تحقیقی اور سائنسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔اس سائنسی پیش رفت کا بنیادی مقصد فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کو مصنوعی اور سائنسی طریقوں سے قید کرنا ہے۔ ماہرین نے ایک ایسا پیچیدہ اور جدید کیمیائی فارمولا اور مشینری تیار کی ہے جو بالکل ایک قدرتی درخت کی طرح کام کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فضا سے بڑی مقدار میں آلودہ ہوا کو اپنے اندر کھینچتی ہے، اور پھر خاص قسم کے فلٹرز، پانی، کیلشیم اور دیگر کیمیائی اجزاء کے تعامل کے ذریعے اس ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائڈ کو الگ کر کے اسے مائع یا ٹھوس حالت میں تبدیل کر دیتی ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت تیار کردہ نظام نہ صرف فضا سے کاربن کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ اس قید کی گئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو محفوظ طریقے سے زمین کی گہرائیوں میں دفن کیا جا سکتا ہے یا پھر اسے تجارتی مقاصد جیسے کہ مصنوعی ایندھن، پلاسٹک اور دیگر کیمیائی مصنوعات کی تیاری میں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ سائنسی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر صنعتی علاقوں اور زہریلی گیسیں خارج کرنے والے کارخانوں کے قریب نصب کر دیا جائے، تو یہ فضا سے لاکھوں ٹن کاربن کو ناکارہ بنا کر ماحولیاتی آلودگی کے گراف کو نمایاں طور پر نیچے لا سکتی ہے۔تاہم، اس عظیم سائنسی کامیابی اور میگا پروجیکٹ کے باوجود، ہمیں ایک بنیادی اور تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا: سائنس کتنا ہی بڑا معجزہ کیوں نہ دکھا دے، وہ قدرت کے بنائے ہوئے نظام کا کامل متبادل کبھی نہیں بن سکتی۔مصنوعی طور پر کاربن کو قید کرنے والی یہ مشینیں اربوں ڈالر کے اخراجات، پیچیدہ انفراسٹرکچر اور بے پناہ توانائی کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایک طرف جہاں ہم اربوں ڈالر خرچ کر کے چند مشینیں لگاتے ہیں، وہاں دوسری طرف ایک قدرتی درخت بغیر کسی مالی خرچ اور بغیر کسی شکوے کے خاموشی سے یہی کام ہماری زندگی بھر کرتا رہتا ہے۔ لہٰذا، سائنسی ایجادات کا خیر مقدم ضرور کیا جانا چاہیے اور انہیں ایک مددگار آلے کے طور پر استعمال بھی کرنا چاہیے، لیکن اسے جنگلات کی کٹائی یا ماحول کی تباہی کے لیے لائسنس نہیں سمجھنا چاہیے۔حقیقی حل انسان کی سوچ اور طرزِ زندگی کی تبدیلی میں پنہاں ہے۔ جب تک دنیا کے تمام ممالک، تاجر اور عوام اپنی اخلاقی ذمہ داری کو محسوس نہیں کریں گے، تب تک کوئی بھی میگا پروجیکٹ اکیلا اس کرۂ ارض کو نہیں بچا سکتا۔ ہمیں گرین انرجی یعنی شمسی اور ہوائی توانائی کی طرف منتقل ہونا ہوگا، صنعتی فضلے کے اخراج کو سخت قوانین کے تحت لانا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شجرکاری کو ایک قومی اور دینی فریضہ سمجھ کر اپنانا ہوگا۔اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک سانس لینے کے قابل اور محفوظ دنیا دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں قدرت کے ساتھ جنگ بند کرنی ہوگی۔ سائنس ہمیں رستے دکھا سکتی ہے اور بحران سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن قدم انسان کو خود اٹھانا ہوگا—اور وہ قدم قدرت کے توازن کا احترام اور اس کی حفاظت کا قدم ہے۔