قیمتی تحفہ
2026-08-04
تحریر ۔ شاہد شکیل
معاشروں کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب باتیں، گفتگو اور نعرے بہت زیادہ ہو جاتے ہیں، لیکن عملی رویے نایاب ہونے لگتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی دنیا کا باریک بینی سے جائزہ لیں، تو یہ حقیقت شیشے کی طرح صاف نظر آتی ہے کہ انسانوں کی اکثریت باتوں کی حد تک تو بہت اعلیٰ اخلاقیات کی قائل ہے، لیکن جب بات روزمرہ کے رویوں کی آتی ہے، تو انسان اپنے ہی کہے ہوئے اصولوں کو بھول جاتا ہے۔ہم آئے دن یہ سنتے ہیں کہ معاشرے میں خرابی پیدا ہو چکی ہے، نظام بگڑ چکا ہے اور لوگ ایک دوسرے کا احترام کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ خرابی آخر آتی کہاں سے ہے؟ کیا کوئی باہر کی مخلوق آ کر ہمارے ماحول کو آلودہ کرتی ہے یا پھر یہ ہمارے اپنے چھوٹے چھوٹے رویوں کا نتیجہ ہے؟ جب اس سوال پر غور کیا جائے، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصل مسئلہ انسان کی سوچ کا وہ انداز ہے جس میں وہ دوسروں سے تو بہت بڑی توقعات رکھتا ہے، مگر اپنی ذات کو ہر قسم کی اخلاقی ذمہ داری سے آزاد سمجھتا ہے۔انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر شخص دنیا کو بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ہر انسان کے پاس نہ تو اتنے وسائل ہوتے ہیں، نہ اتنی طاقت ہوتی ہے اور نہ ہی اتنی سہولیات کہ وہ کوئی بہت بڑا انقلابی قدم اٹھا سکے۔ ہر فرد نہ تو راستے بنا سکتا ہے، نہ ہسپتال یا سکول قائم کر سکتا ہے، اور نہ ہی پورے نظام کی اصلاح کا بیڑا اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اگر انسان کے پاس بڑے کام کرنے کی طاقت نہیں ہے، تو وہ اپنی ذمہ داریوں سے بالکل بری الذمہ ہو جائے۔یہیں سے زندگی کا وہ بنیادی اور خاموش اصول جنم لیتا ہے جسے ہر سمجھدار انسان کو اپنے عمل کا حصہ بنانا چاہیے۔ وہ اصول یہ ہے کہ: "اگر آپ اپنے ماحول، اپنے معاشرے یا اپنے ارد گرد کے انسانوں کے لیے کوئی اچھا کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، تو کم از کم کسی کے لیے برا کرنے سے تو خود کو روک لیجیے۔"یہ کوئی ایسا پیچیدہ فلسفہ نہیں ہے جس کو سمجھنے کے لیے کسی کو بہت بڑا دانشمند یا فلسفی بننا پڑے۔ یہ ایک بالکل سادہ، عام فہم اور انسانی عقل کے مطابق بات ہے۔ اگر ہم کسی راستے کو صاف کرنے کا وقت یا ہمت نہیں رکھتے، تو کم از کم اس راستے پر مزید کوڑا پھینک کر اسے آلودہ تو نہ کریں۔ اگر ہم کسی گرتے ہوئے، پریشان حال یا مجبور انسان کو سنبھالا دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو اپنے قول یا فعل سے اسے مزید نقصان تو نہ پہنچائیں۔ اگر ہم کسی کے زخم کا مرہم نہیں بن سکتے، تو کم از کم اپنی زبان کی تلخی سے اس کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکیں۔معاشرے کی تباہی تب شروع نہیں ہوتی جب اچھے کام کرنے والے لوگ کم ہو جاتے ہیں، بلکہ تباہی کی اصل شروعات اس وقت ہوتی ہے جب عام انسان یہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ اس کے چھوٹے سے منفی عمل سے کیا فرق پڑے گا۔ جب ہر فرد یہ سوچ کر برائی، بے اصولی یا ناانصافی میں اپنا چھوٹا سا حصہ ڈالتا رہتا ہے، تو وہ تمام چھوٹے چھوٹے منفی عمل مل کر ایک بہت بڑا طوفان بن جاتے ہیں جو پورے معاشرے کے اخلاقی توازن کو تباہ کر دیتا ہے۔دوسری طرف، دنیا کے جن حصوں میں امن، ڈسپلن اور سکون نظر آتا ہے، وہاں کے لوگوں نے کوئی انوکھا معجزہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے صرف اس اصول کو اپنی زندگی کا نظام بنا لیا ہے۔ وہاں کا عام شہری یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی سب سے پہلی اور بنیادی اخلاقی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کے وجود سے کسی دوسرے انسان کی زندگی میں کوئی خلل یا خرابی پیدا نہ ہو۔ جب ہر شخص خاموشی سے اپنے اپ کو کسی کا برا کرنے سے روکے رکھتا ہے، تو پورے معاشرے میں خود بخود ایک خوبصورت نظم و ضبط قائم ہو جاتا ہے۔تعمیر ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے بعض اوقات وسائل، علم اور سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر ایک کے پاس نہیں ہوتیں۔ لیکن تخریب اور برائی سے پرہیز کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جو مکمل طور پر ہر انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اس کے لیے کسی پیسے، کسی حکومت کی مدد یا کسی بڑے نعرے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے صرف اپنے نفس پر تھوڑے سے قابو اور احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہم سچائی کے ساتھ اس ایک اصول پر قائم ہو جائیں کہ ہم سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوگی، ہم سے کسی قانون یا راستے کی بے حرمتی نہیں ہوگی، اور ہم اپنی ذات سے کسی برائی کا سبب نہیں بنیں گے—تو یہی خاموش رویہ اس دنیا کے لیے ہمارا سب سے بڑا اور قیمتی تحفہ ہوگا۔ معاشرے بڑے بڑے نعروں سے نہیں، بلکہ اسی قسم کے چھوٹے، خاموش اور مثبت عمل سے بنتے اور سنورتے ہیں۔