قانونی کھیل
2026-07-17
تحریر ۔ شاہد شکیل
کسی معاشرے کی تباہی ہمیشہ دھماکوں، بڑے اسکینڈلوں، خونریز حادثوں یا قومی سانحات کی صورت میں سامنے نہیں آتی۔ بعض اوقات ایک معمولی سا سرکاری دفتر، ایک بوسیدہ میز، ایک بے جان کاغذ، ایک دستخط، ایک مہر، ایک رسید، ایک شناختی دستاویز یا ایک شہری کا معمولی سا حق پورے معاشرے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیتا ہے۔ وہیں معلوم ہوتا ہے کہ خرابی صرف قانون کی کمی میں نہیں، قانون پر قابض ذہنیت میں بھی ہے۔ مسئلہ صرف ضابطے کی کمزوری نہیں، بلکہ اس شخص کی اخلاقی پستی بھی ہے جو ضابطے کو اپنی خواہش، انا، تعلق، فائدے اور مزاج کے مطابق موڑنے کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ ہمارے معاشروں میں قانون کتابوں میں موجود ہوتا ہے، مگر عام انسان تک پہنچنے سے پہلے اسے کسی میز، کسی کرسی، کسی دستخط اور کسی افسر کی ذاتی مرضی کے دروازے سے گزرنا پڑتا ہے۔ کاغذ کی ضرورت اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے۔ ثبوت طلب کرنا بھی کسی منظم ریاست کا لازمی حصہ ہے۔ طریقۂ کار کے بغیر ادارے نہیں چل سکتے۔ لیکن جب یہی طریقۂ کار انسان کی مجبوری، اس کی عمر، اس کے دکھ، اس کی عزت اور اس کے جائز حق کو مکمل طور پر نظرانداز کر دے تو وہ نظم نہیں رہتا؛ ایک بے رحم دیوار بن جاتا ہے۔پھر شہری قانون سے نہیں ٹکراتا، بلکہ قانون کے نام پر بیٹھے ہوئے ایک مزاج سے ٹکراتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی معاشرے کی اصل تہذیب کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ کسی دفتر میں بیٹھا شخص خواہ معمولی کلرک ہو، افسر ہو، منیجر ہو، پولیس اہلکار ہو، پٹواری ہو، بینک ملازم ہو یا کسی عدالت کا اہلکار؛ اگر وہ اپنے سامنے آنے والے انسان کو پہلے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پھر اپنی کرسی کا رعب دکھاتا ہے، پھر اسے ذلیل کرتا ہے، پھر غیر ضروری چکر لگواتا ہے اور آخر میں اشاروں میں سمجھاتا ہے کہ سیدھے طریقے سے کام نہیں ہوگا، تو مسئلہ صرف ایک بدتمیز ملازم کا نہیں رہتا۔ یہ اس پوری تربیت کی ناکامی بن جاتا ہے جس نے اسے سکھایا کہ اختیار خدمت کے لیے نہیں، رعب جمانے کے لیے ہوتا ہے؛ قانون آسانی پیدا کرنے کے لیے نہیں، لوگوں کو جھکانے کے لیے ہوتا ہے؛ اور عوام انسان نہیں، فائلیں ہیں۔ ایسے شخص کے لیے میز محض کام کرنے کی جگہ نہیں رہتی۔ وہ اس کی چھوٹی سی سلطنت بن جاتی ہے۔ مہر اس کا شاہی فرمان، دستخط اس کی ذاتی طاقت اور فائل روک لینا اس کے وجود کی اہمیت کا ثبوت بن جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں شاید کہیں اہم نہ ہو، مگر میز کے پیچھے بیٹھتے ہی خود کو تقدیر کا مالک سمجھنے لگتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ سامنے کھڑا شخص مجبور ہے۔ اسے کہیں جانا ہے، کوئی رقم وصول کرنی ہے، کوئی پنشن جاری کروانی ہے، کسی بیمار کا علاج کروانا ہے، کسی جائیداد کا حق لینا ہے، کسی شناخت کی تصدیق کرانی ہے یا اپنی عمر بھر کی جمع پونجی بچانی ہے۔وہ اسی مجبوری کو اپنی طاقت بنا لیتا ہے۔ یہ رویہ کسی ایک سرکاری دفتر تک محدود نہیں۔ یہی ذہنیت ڈاک خانے میں بھی ملتی ہے، بینک میں بھی، تھانے میں بھی، پٹواری کے دفتر میں بھی، عدالت کے برآمدے میں بھی، اسپتال کے کاؤنٹر پر بھی، پاسپورٹ کی قطار میں بھی، پنشن کے شعبے میں بھی، وراثت کے کاغذوں میں بھی اور معمولی سی سرکاری تصدیق میں بھی۔ ادارے بدل جاتے ہیں، عمارتیں بدل جاتی ہیں، میزوں کے رنگ بدل جاتے ہیں، عہدوں کے نام بدل جاتے ہیں، مگر سوچ اکثر ایک ہی رہتی ہے: کام قانون کے مطابق نہیں ہوگا، کسی “طریقے” سے ہوگا۔ یہ لفظ “طریقہ” بظاہر بہت معصوم ہے، مگر ہمارے اجتماعی زوال کی پوری تاریخ اپنے اندر چھپائے بیٹھا ہے۔ اس “طریقے” میں چائے پانی بھی شامل ہے، رشوت بھی، سفارش بھی، جان پہچان بھی، دباؤ بھی، دھمکی بھی، تعلق بھی، سیاسی اثر بھی اور وہ خاموش ذلت بھی جو ایک جائز حق مانگنے والے انسان کو قدم قدم پر برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ایک شہری اگر اپنا جائز حق لینے جائے اور اسے پہلے ہی یہ سمجھا دیا جائے کہ یہاں سیدھی بات سے کام نہیں چلتا، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ معاشرہ قانون سے زیادہ بدعنوانی پر اعتماد کرنے لگا ہے۔پھر سیدھا راستہ حماقت، دیانت کمزوری، اصول پسندی ناتجربہ کاری اور غلط راستہ عملی عقل کہلاتا ہے۔ سب سے خوفناک بات یہ نہیں کہ بدعنوانی موجود ہے۔ سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اسے اب بدعنوانی سمجھا ہی نہیں جاتا۔ لوگ کندھے اچکا کر کہتے ہیں: “یہاں ایسے ہی ہوتا ہے۔” یہ محض ایک جملہ نہیں۔ یہ پورے نظام کی اخلاقی شکست کا اعلان ہے۔ اس ایک جملے میں بے بسی بھی ہے، چالاکی بھی، بزدلی بھی، بے حسی بھی اور جرم کی خاموش منظوری بھی۔ جو شخص کہتا ہے کہ “یہاں ایسے ہی ہوتا ہے”، وہ صرف حقیقت بیان نہیں کر رہا ہوتا؛ وہ اس حقیقت کو زندہ رکھنے میں بھی حصہ ڈال رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ جس ظلم کو معمول کا نام دے دیا جائے، اس کے خلاف مزاحمت ختم ہونے لگتی ہے۔ جس جرم کو رسم سمجھ لیا جائے، اس پر شرمندگی باقی نہیں رہتی۔ اور جس بے عزتی کو نظام کا حصہ تسلیم کر لیا جائے، وہاں انسان اپنے حق سے پہلے اپنی عزت قربان کرنا سیکھ لیتا ہے۔ ایسے ماحول میں سب سے زیادہ پریشان وہ شخص ہوتا ہے جو ابھی تک سیدھی بات، قانون اور اخلاق پر یقین رکھتا ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ جس کام کے لیے قانونی ثبوت کافی ہونا چاہیے، وہاں سفارش کیوں درکار ہے؟ جس حق کے لیے آئین اور قانون موجود ہے، وہاں رشوت کیوں مانگی جاتی ہے؟ جس مسئلے کو چند منٹ میں انسانی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے، اسے درخواست، مہر، تصدیق، افسر، ہیڈ آفس، وکیل، عدالت، تاریخ اور مہینوں کے انتظار کے حوالے کیوں کر دیا جاتا ہے؟ پہلے اسے حیرت ہوتی ہے۔ پھر غصہ آتا ہے۔ پھر تھکن اس کے وجود پر چھا جاتی ہے۔آخرکار اسے نصیحت کی جاتی ہے: “غصہ نہ کرو، نظام کو سمجھو۔ طریقہ سیکھو۔” گویا مسئلہ نظام میں نہیں، اس سیدھے انسان میں ہے جو ابھی تک غلط کو عقل مندی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ یوں دیانت دار شہری کو بے وقوف اور بدعنوان شخص کو تجربہ کار ثابت کر دیا جاتا ہے۔ یہ خرابی کسی ایک واقعے، ایک دفتر یا ایک شکایت سے ثابت نہیں ہوتی۔ یہ روزمرہ زندگی کے ہزاروں چھوٹے مگر زہریلے تجربات سے سامنے آتی ہے۔ کوئی شخص اپنی رقم حاصل کرنے کے لیے دفتروں کے چکر کاٹ رہا ہے۔ کوئی اپنی جائیداد کے کاغذوں میں الجھا ہوا ہے۔ کوئی عدالتی تاریخوں میں اپنی جوانی اور بڑھاپا گنوا رہا ہے۔ کوئی بیوہ پنشن کے لیے دروازے دروازے ذلیل ہو رہی ہے۔ کوئی مزدور اپنی اجرت مانگتے ہوئے مجرم بنا دیا گیا ہے۔ کوئی بیمار علاج سے پہلے کاغذات کی اذیت برداشت کر رہا ہے۔ کوئی یتیم اپنے حصے کے لیے خاندان اور اداروں کے درمیان پِس رہا ہے۔ ہر واقعہ بظاہر مختلف ہوتا ہے، مگر جڑ ایک ہی رہتی ہے: انسان کے حق کو آسان بنانے کے بجائے اسے کسی شخص کی مرضی، مفاد اور انا کے تابع کر دینا۔ ایسے ماحول میں قانون سیدھا راستہ نہیں رہتا، بھول بھلیاں بن جاتا ہے۔ شہری سمجھتا ہے کہ وہ ایک جائز اور سادہ کام کے لیے آیا ہے، مگر جلد ہی اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل رکاوٹ کاغذ نہیں، رویہ ہے۔ اصل مشکل ضابطہ نہیں، وہ ذہنیت ہے جو ہر کام کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتی ہے۔ چھوٹا سا معاملہ اچانک وکیل، سفارش، رشوت، چائے پانی، انتظار، اعتراض، نئی درخواست، نئی مہر اور نئی تاریخ میں بدل جاتا ہے۔ایک کاغذ جو ایک میز سے دوسری میز تک پہنچنا چاہیے تھا، ہفتوں سفر کرتا ہے۔ ایک دستخط جو چند سیکنڈ میں ہو سکتا تھا، مہینوں کی ذلت میں بدل جاتا ہے۔ ایک حق جو ریاست کو خود شہری تک پہنچانا چاہیے تھا، شہری کی زندگی کا امتحان بن جاتا ہے۔ اور اس ساری اذیت کے بعد بھی نظام اپنے آپ کو بے قصور سمجھتا ہے۔ ایسے واقعات میں اصل نقصان صرف روپے، زمین یا وقت کا نہیں ہوتا۔ سب سے بڑا نقصان اعتماد کا ہوتا ہے۔ ایک عام انسان سوچتا ہے کہ اگر معمولی سا کام اتنی بے رحمی، اتنی بھاگ دوڑ اور اتنی تذلیل کے باوجود پورا نہیں ہوتا تو بڑے معاملات میں کمزور آدمی کا کیا حال ہوتا ہوگا؟ اگر ایک بیوہ کو پنشن کے لیے منتیں کرنا پڑیں، ایک مزدور کو اجرت کے لیے جھکنا پڑے، ایک بیمار کو علاج سے پہلے رشوت دینی پڑے، ایک یتیم کو وراثت کے لیے سالہا سال لڑنا پڑے اور ایک شہری کو اپنی ہی رقم ثابت کرنے کے لیے بار بار ذلیل ہونا پڑے، تو یہ نظام انصاف نہیں دے رہا؛ انسان کی عمر کھا رہا ہے۔ ایسا نظام صرف وقت ضائع نہیں کرتا۔ وہ لوگوں کی امید، توانائی، عزت اور زندگی کا ایک حصہ نگل جاتا ہے۔ یہاں ایک اور سنگین خرابی جنم لیتی ہے: لوگ قانون کو قانون نہیں رہنے دیتے، اپنی ذاتی مرضی کو قانون بنا لیتے ہیں۔ جس کے پاس کرسی ہے، وہ کرسی کو ریاست سمجھتا ہے۔ جس کے پاس دستخط ہے، وہ دستخط کو ذمہ داری نہیں بلکہ ذاتی اختیار سمجھتا ہے۔ جس کے ہاتھ میں مہر ہے، وہ سمجھتا ہے کہ کسی کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہے۔ جس کے پاس فائل ہے، وہ اسے روک کر اپنی اہمیت محسوس کرتا ہے۔جس کے پاس سفارش ہے، وہ قانون کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے، وہ راستہ خرید لیتا ہے۔ اور جس کے پاس کچھ نہیں، وہ قطار میں کھڑا رہتا ہے، تاریخیں بھگتتا ہے، دھکے کھاتا ہے اور آخرکار اپنے جائز حق سے دستبردار ہونے کو عقل مندی سمجھنے لگتا ہے۔ یہ صرف انتظامی خرابی نہیں۔ یہ طاقت کی منظم بددیانتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک حقیقت یہ ہے کہ یہی رویے نسلوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ بچے دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں کام کیسے نکلتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ سچ بولنے والا پریشان ہوتا ہے اور چالاک شخص کامیاب۔ وہ دیکھتے ہیں کہ سیدھا راستہ لمبا اور ٹیڑھا راستہ تیز ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ دفتر میں عزت سے زیادہ سفارش چلتی ہے، عدالت میں انصاف سے زیادہ تاریخ چلتی ہے، خاندان میں حق سے زیادہ قبضہ چلتا ہے اور معاشرے میں اصول سے زیادہ فائدہ چلتا ہے۔ پھر وہی بچے بڑے ہو کر اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں جس پر ان کے والدین کبھی لعنت بھیجتے تھے۔ وہ سیکھتے ہیں کہ قانون کی پابندی نہیں کرنی، قانون کو استعمال کرنا ہے۔ اصول پر قائم نہیں رہنا، موقع دیکھنا ہے۔ حق دینا نہیں، اپنے فائدے کے مطابق روکنا ہے۔یوں بدعنوانی صرف پیسے کا لین دین نہیں رہتی؛ وہ ایک سماجی تربیت بن جاتی ہے۔ ایک نسل دوسری نسل کو سکھاتی ہے کہ کامیاب وہ نہیں جو درست ہو، بلکہ وہ ہے جو راستہ نکالنا جانتا ہو۔ یہ “راستہ نکالنا” دراصل اجتماعی کردار کی قبر کھودنے کے مترادف ہے۔ اس نظام کی بے رحمی کا سب سے بڑا شکار وہ شخص بنتا ہے جو اس کے غیر رسمی طریقوں سے واقف نہ ہو۔ پردیس سے آیا ہوا اپنا ہموطن، کسی دوسرے شہر سے آیا سادہ آدمی، دیہات کا غریب، کم تعلیم یافتہ مزدور، بیوہ، یتیم، بزرگ، معذور یا بیمار—جو بھی نظام کی چالوں سے ناواقف ہو، وہ آسان شکار سمجھا جاتا ہے۔ اسے راستہ نہیں بتایا جاتا، گھمایا جاتا ہے۔ اسے قانون نہیں سمجھایا جاتا، ڈرایا جاتا ہے۔ اس کی مدد نہیں کی جاتی، اس کی مجبوری کی قیمت لگائی جاتی ہے۔ اسے سہولت نہیں دی جاتی، اس کے لاعلم ہونے سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہ صرف رشوت نہیں۔ یہ اخلاقی درندگی ہے۔ جو شخص کمزور انسان کی مجبوری کو آمدنی، تفریح یا طاقت کا ذریعہ بنائے، وہ صرف بدعنوان نہیں؛ وہ انسانیت کے بنیادی اصول سے گر چکا ہوتا ہے۔کسی ریاست میں قانون کی طاقت اونچی عمارتوں، بھاری کتابوں، وردیوں، عدالتوں اور سرکاری مہروں سے ثابت نہیں ہوتی۔ قانون کی اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ایک کمزور، غریب اور بے تعلق انسان بغیر سفارش، بغیر رشوت، بغیر خوف، بغیر منت اور بغیر ذلت کے اپنا حق حاصل کر سکے۔ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو قانون کتاب میں موجود ہونے کے باوجود زندگی میں غائب ہے۔ پھر عدالت محض عمارت رہ جاتی ہے۔ دفتر محض کمرہ۔ فائل محض کاغذ۔ مہر محض نشان۔ اور انصاف ایک دور کی منزل بن جاتا ہے، جہاں پہنچتے پہنچتے انسان کی کمر، حوصلہ اور زندگی ٹوٹ جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایک دفتر میں کیا ہوا، ایک ملازم نے کیا کیا یا ایک شہری کیوں ذلیل ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کا معاشرہ بنا رہے ہیں؟ کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے کی مجبوری کو موقع سمجھے؟ جہاں جائز حق مانگنے والے کو پہلے شرمندہ کیا جائے؟ جہاں سیدھا آدمی ناسمجھ اور بدعنوان شخص سمجھ دار کہلائے؟ جہاں چائے پانی جرم نہیں، معمول بن جائے؟جہاں قانون کے نام پر ذاتی مرضی چلائی جائے؟ جہاں انسان کی حالت سے زیادہ کاغذ کی کمی دیکھی جائے؟ جہاں کرسی پر بیٹھا شخص خود کو خادم نہیں، حاکم سمجھے؟ اگر یہ سب معمول بن چکا ہے تو مسئلہ کسی ایک شخص، ایک ادارے، ایک خاندان یا ایک مقدمے کا نہیں؛ پوری اجتماعی تربیت کا ہے۔ اس تربیت کو بدلنا ہوگا۔ قانون کو ذاتی خواہش سے بالاتر ماننا ہوگا۔ کرسی کو بادشاہت نہیں، خدمت سمجھنا ہوگا۔ مہر اور دستخط کو طاقت نہیں، ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ کاغذ کی کمی بتانے سے پہلے انسان کی حالت دیکھنا ہوگی۔ ضابطے پر عمل کرتے ہوئے بھی عزت، وضاحت اور ہمدردی کو زندہ رکھنا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی شخص کا حق روکنا محض انتظامی تاخیر نہیں، بعض اوقات اخلاقی ظلم بھی ہوتا ہے۔ جس بیوہ کی پنشن روکی جائے، اس کی بھوک محض فائل کی تاخیر نہیں۔ جس بیمار کا علاج کاغذ کے نام پر ملتوی ہو، اس کی تکلیف محض طریقۂ کار نہیں۔ جس مزدور کی اجرت روکی جائے، اس کے بچوں کی محرومی صرف حسابی مسئلہ نہیں۔ جس یتیم کا حصہ دبایا جائے، وہ محض خاندانی تنازع نہیں۔ ہر روکا ہوا حق کسی انسان کی زندگی میں ایک زخم پیدا کرتا ہے۔اور جو معاشرہ مسلسل اپنے ہی لوگوں کو ان کے حق کے لیے ذلیل کرتا رہے، وہ آخرکار اپنی ہی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کی عزت محفوظ نہ ہو، وہاں کسی قانون، ادارے یا حکومت کی ساکھ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ ایک دفتر، ایک میز، ایک درخواست، ایک دستخط، ایک کاغذ اور ایک معمولی حق بظاہر بہت چھوٹی چیزیں دکھائی دیتے ہیں، مگر انہی چھوٹی چیزوں میں معاشرے کا حقیقی کردار چھپا ہوتا ہے۔ اگر ایک سادہ حق بھی عزت کے ساتھ نہ ملے، اگر ہر جائز کام کے پیچھے کوئی غیر رسمی قیمت ہو، اگر ہر میز کے پیچھے ایک چھوٹا بادشاہ بیٹھا ہو، اگر ہر درخواست گزار کو پہلے جھکایا جائے، تو شکایت صرف افراد سے نہیں ہونی چاہیے۔ شکایت اس ذہنیت سے ہونی چاہیے جس نے انسان کو انسان سمجھنے سے پہلے اسے فائل، موقع، شکار، کمائی یا پریشانی سمجھنا سیکھ لیا ہے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں۔ وزیر بدل سکتے ہیں۔ افسر بدل سکتے ہیں۔ عمارتیں، کمپیوٹر، نعرے، وردیاں اور قوانین بھی بدل سکتے ہیں۔ مگر جب تک ذہنیت نہیں بدلے گی، عام انسان کا تجربہ نہیں بدلے گا۔ وہ آج بھی کسی میز کے سامنے کھڑا ہوگا۔اس کے ہاتھ میں کاغذ ہوگا۔ دل میں اپنا جائز حق ہوگا۔ چہرے پر امید اور تھکن ایک ساتھ ہوں گے۔ اور سامنے بیٹھا شخص اس کے حق سے پہلے اپنی مرضی، انا، فائدے اور طاقت کو دیکھ رہا ہوگا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں کسی معاشرے کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنے قوانین ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان قوانین کے درمیان انسان کی عزت کتنی محفوظ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ دفاتر کتنے جدید ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان جدید دفاتر میں بیٹھا شخص اخلاقی طور پر کتنا مہذب ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فائل کہاں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ فائل کے پیچھے کھڑا انسان کہاں تک ٹوٹ چکا ہے۔ اور اگر ہم میں ابھی بھی اپنے اندر دیکھنے کی ہمت باقی ہے تو ہمیں ماننا ہوگا کہ ہماری سب سے بڑی خرابی کمزور قوانین نہیں، بلکہ وہ مضبوط بدعنوان ذہنیت ہے جو ہر قانون کو اپنے مفاد کے سامنے کمزور کر دیتی ہے۔