قدم
2026-07-31
تحریر ۔ شاہد شکیل
عصرِ حاضر میں تکنیکی پیش رفت، صنعتی ارتقاء اور سائنسی ایجادات نے انسان کو جہاں بے شمار سہولیات، تکنیکی وسائل اور آسائشوں سے آراستہ کیا ہے، وہاں اس کے طرزِ زندگی کو جمود، کاہلی اور غیر تحرک کا شکار بھی بنا دیا ہے۔ جدید سہولیات کے اس شاندار دور میں انسان اپنے بیشتر کاموں اور روزمرہ کے تمام تر افعال کے لیے جسمانی مشقت اور تحرک کے بجائے برقی، الیکٹرانک اور میکانیکی وسائل پر انحصار کرنے لگا ہے۔ اس طرزِ حیات کے نتائج کے طور پر جسمانی تحرک کی شدید کمی، سست روی اور جسمانی عدم توازن نے انسانی وجود کو مختلف پیچیدہ عوارض، مزمن امراض اور ناگہانی بیماریوں کا آماجگاہ بنا دیا ہے۔ طبی، بیالوجی، اناتومی اور فزیالوجی کے ماہرین کا متفقہ اور قطعی فیصلہ ہے کہ انسانی وجود کو موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے، جسمانی توانائی کو بحال رکھنے اور درازیٔ عمر کا بنیادی مقصد حاصل کرنے کے لیے جسمانی تحرک، بالخصوص باقاعدہ چہل قدمی سب سے سادہ، فطری، اثر انگیز اور بے ضرر ترین طریقہ ہے۔سائنسی تحقیقات، طبی تجزئیے اور ماہرینِ اعصاب (نیورولوجسٹس) کے تفصیلی مشاہدات اور مطالعے اس بنیادی حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ چہل قدمی کا اثر صرف جسمانی عضلات، اعصاب اور پٹھوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ انسانی دماغ، مرکزی اعصابی نظام اور فکری صلاحیتوں کو بھی زبردست توانائی اور تحرک فراہم کرتا ہے۔ باقاعدگی سے پیدل چلنے کے عمل کے نتیجے میں دماغی شریانوں اور خلیات میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور ایسے کیمیائی عناصر کی افزائش ممکن ہوتی ہے جو ذہنی سکون، اعصابی توازن اور فکری بالیدگی کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو افراد جسمانی طور پر سست رہتے ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں پیدل چلنے کے عمل سے پرہیز کرتے ہیں، وہ وقت سے پہلے اعصابی تھکن، یادداشت کی کمزوری، فالج، دائیں یا بائیں جانب کے مفلوج ہونے اور دیگر پیچیدہ دماغی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ باقاعدہ قدم رنجائی کی عادت دماغی خلیات کو مسلسل متحرک اور بیدار رکھتی ہے اور انسان کی سوچنے، سمجھنے اور چیزوں کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کو جلا بخشتی ہے۔طبی نقطۂ نظر سے دل اور خون کی شریانوں کے تمام تر نظام (کارڈیو ویسکولر سسٹم) کو فعال، درست اور توانا رکھنے کے لیے چہل قدمی ایک بنیادی، قدرتی اور لازمی عنصر ہے۔ جب انسان روزانہ کچھ مخصوص وقت کا تعین کر کے باقاعدگی کے ساتھ پیدل چلتا ہے، تو دل کی دھڑکن متوازن اور ہم آہنگ ہوتی ہے، خون میں آکسیجن کی فراہمی اور اس کا تناسب بڑھتا ہے اور خون کی شریانوں کے اندر چکنائی یعنی کولیسٹرول کے جمنے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ سائنسی اعداد و شمار، طبی رپورٹس اور ماہرین کی تحقیقات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح سامنے آئی ہے کہ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے والے افراد میں دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) اور امراضِ قلب کے خطرات غیر متحرک، سست اور کاہل افراد کے مقابلے میں بے حد کم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عمل ہائی بلڈ پریشر کو اعتدال پر لانے اور خون میں شکر کی سطح یعنی ذیابیطس جیسے مرض کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بھی ایک بہترین قدرتی، سائنسی اور اثر انگیز تدبیر ہے۔جسمانی ساخت، وزن کے تناسب اور عضلاتی مضبوطی کے حوالے سے دیکھا جائے تو چہل قدمی سے بہتر، معقول اور مفید کوئی جسمانی مشق یا ورزش نہیں ہے۔ روزمرہ کی خوراک اور طعام سے حاصل ہونے والی اضافی حراروں (کیلوریز) کو خرچ کرنے اور موٹاپے کے رجحان کو روکنے کے لیے باقاعدگی سے پیدل چلنا سب سے محفوظ، فطری اور سائنسی طریقہ ہے۔ مصنوعی ادویات، کیمیائی نسخوں یا غیر متوازن طبی طریقوں کے ذریعے وزن کم کرنے کی کوشش اکثر اوقات انسانی جسم کے دیگر اعضاء اور نظاموں کو متاثر کر دیتی ہے اور انسان کو مزید بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے، جبکہ پیدل چلنے کی عادت طبیعی نظام کے قوانین کے مطابق جسمانی تناسب اور وزن کو برقرار رکھتی ہے۔ پیدل چلنے اور سائیکل چلانے جیسے سادہ، قدرتی اور تحرک پر مبنی ذرائع انسانی جسم کی ہڈیوں، جوڑوں اور پٹھوں کو مضبوط بناتے ہیں اور پوری جسمانی مشینری کو فعال اور توانا رکھتے ہیں۔طبی، روگ شناسی اور نفسیاتی علوم کی روشنی میں، چہل قدمی صرف جسمانی شفا اور تندرستی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ انسان کی جذباتی، مزاجی، روحی اور ذہنی حالت کو بھی خوشگوار اور متوازن بناتی ہے۔ باقاعدگی سے پیدل چلنے کے نتیجے میں جسم کے اندر ایسے کیمیائی مادہ جات اور ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے اندر خود اعتمادی، خوش دلی، تحرک اور مسرت کا احساس بیدار کرتے ہیں، جس کے باعث روزمرہ کا تناؤ، اعصابی کھنچاؤ، بے چینی، گھبراہٹ اور مایوسی جیسے منفی رویاں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ باقاعدہ چہل قدمی کو اپنے معمولات کا لازمی حصہ بنانے والے افراد زیادہ فعال، پرامید، ذہنی طور پر متوازن اور طویل عمر پانے کے اہل ہوتے ہیں۔مضرِ صحت ادویات، مصنوعی نسخوں، خطرناک کیمیائی علاج اور بے جا طبی ادویات پر انحصار کرنے کے بجائے اگر روزمرہ زندگی میں باقاعدہ چہل قدمی کو معمول بنا لیا جائے، تو انسان متعدد مہلک، پیچیدہ اور خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہ کر ایک توانا، متوازن، پرسکون، صحت مند اور خوشگوار زندگی بسر کر سکتا ہے۔