نئی زِندگی
2026-07-29
تحریر ۔ شاہد شکیل
انسان کی مختصر زندگی میں کبھی ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں جو اس کی سوچ اور تصور سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔ وہ گمان بھی نہیں کر پاتا کہ اس کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے، مگر زندگی اسی غیر متوقع پن کا نام ہے۔ بعض اوقات انسان لمحوں میں اپنے اختیار سے محروم ہو کر ایسی کٹھ پتلی بن جاتا ہے جس کی ڈوریں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ظلم و ستم کا نشانہ صرف عورت بنے اور کٹی پتنگ کی طرح حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جائے؛ بہت سے مرد بھی بے رحم حالات میں اسی کیفیت سے گزرتے ہیں۔ جب برداشت کی حدیں ٹوٹ جائیں تو دل میں کوئی امنگ باقی رہتی ہے نہ روح میں کوئی ترنگ۔ انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر اندر سے بکھر کر سمت، اختیار اور امید کھو بیٹھتا ہے۔ بعض لوگوں کو ریموٹ کنٹرول کی مانند استعمال کیا جاتا ہے، جیسے ان کے احساسات، ارادے اور فیصلے کسی دوسرے کے اشارے کے تابع ہوں۔ یہ بھی لازم نہیں کہ صرف کمزور انسان ہی حالات کے بوجھ تلے خودکشی جیسا قدم اٹھائے؛ کئی مرتبہ بظاہر مضبوط اور بہادر افراد بھی کسی صدمے یا معمولی دکھ کو دل میں اس طرح بسا لیتے ہیں کہ وہ رفتہ رفتہ ان کے پورے وجود پر حاوی ہو جاتا ہے۔ خاموشی سے سہتے سہتے وہ اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں اور بالآخر اس زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں جو باہر سے مکمل مگر اندر سے مدتوں پہلے ویران ہو چکی ہوتی ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جذبات کے باوجود حالات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھتے اور زندگی کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ راستہ آسان نہیں؛ اس کے لیے غیر معمولی حوصلہ، وسیع ظرف اور بے پناہ صبر درکار ہوتا ہے۔ ایسے لوگ آزمائشوں سے گزر کر ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہو جاتے ہیں اور خاموش ثابت قدمی سے زندگی کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ دل شکستگی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یادیں وجود پر ایسے زخم چھوڑتی ہیں کہ ہر سانس کے ساتھ ایک ہوک سی اٹھتی ہے۔ نہ کسی چیز میں دل لگتا ہے، نہ کسی بات میں سکون ملتا ہے، اور زندگی بوجھ بن کر کندھوں پر آ پڑتی ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ خودکشی سے اس لیے بچ جاتے ہیں کہ دل کے کسی گوشے سے ایک مدھم مگر مضبوط آواز ابھرتی ہے: رک جاؤ، صبر کرو، شاید سب ٹھیک ہو جائے۔ یہی آواز امید کی آخری کرن بن کر اندھیروں میں انسان کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ بہت سے لوگ دل برداشتہ ہوئے، بکھرے، مگر ہمت نہیں ہاری اور نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کی۔ وہ پارکوں میں ٹہلے، ہمسایوں سے ملے، کام کی جگہوں، بسوں اور ٹراموں میں لوگوں سے بات کی، مگر دل کو کچھ اچھا نہ لگا، کیونکہ ان کے اندر کی دنیا بدل چکی تھی۔ وہ سب کچھ بھولنا چاہتے تھے، اس لیے نہیں کہ یادیں کمزور تھیں، بلکہ اس لیے کہ زخم ابھی تازہ تھے۔ پھر بھی انہی شکستہ لمحوں کے درمیان کہیں نہ کہیں ایک نیا آغاز خاموشی سے سانس لیتا رہا۔ کسی نے ملازمت بدلنے کا سوچا، کسی نے ملک چھوڑنے کا، کسی نے نئی دنیا بسانے کا ارادہ کیا اور کسی نے اپنے شریکِ زندگی سے الگ ہونے پر غور کیا۔ راستے موجود تھے، مگر قدم نہ اٹھ سکے، کیونکہ حوصلہ ساتھ نہ دے سکا اور جذبات ہر موڑ پر رکاوٹ بن گئے۔ یوں فیصلے سوچ میں زندہ رہے، مگر عمل کی دہلیز تک نہ پہنچ سکے، اور انسان خواہشات اور مجبوریوں کے درمیان معلق ہو کر رہ گیا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ تبدیلی لانے کے لیے پہلے خود کو بدلنا پڑتا ہے۔ نئی زندگی کی طرف بڑھنے سے پہلے انسان کو اپنے آپ سے چند بنیادی سوالات کرنے چاہییں، کیونکہ انہی کے جواب راستے کی سمت متعین کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ میں بدلنا کیا چاہتا ہوں۔ کیا میں اپنی عادتیں، ردِعمل، فیصلے اور سوچ بدلنا چاہتا ہوں، یا صرف دوسروں اور حالات کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتا ہوں؟ حقیقت یہ ہے کہ انسان دوسروں کو زبردستی نہیں بدل سکتا اور نہ نظام راتوں رات تبدیل ہوتا ہے، لیکن اپنی ترجیحات، سوچ اور طرزِ عمل میں تبدیلی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ نئی زندگی کا آغاز اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب انسان اپنی کمزوریوں کو پہچانے، خوف کے باوجود فیصلہ کرے اور دوسروں کے بدلنے کا انتظار کرنے کے بجائے پہلا قدم خود اٹھائے۔انسان جب اپنے حالات کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بہتری کی کوشش بھی جاری رکھتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کے اندر اعتماد پیدا ہونے لگتا ہے۔ نئی زندگی کسی اچانک معجزے کا نام نہیں، بلکہ چھوٹے مگر مسلسل فیصلوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہر درست قدم انسان کو ماضی کے بوجھ سے نکال کر امید، سکون اور خود اختیاری کی طرف لے جاتا ہے۔