میرا حق

2026-07-04

تحریر ۔ شاہد شکیل

ہر انسان کو اپنے حق کا شعور ہونا چاہیے۔ جس انسان کو اپنا حق معلوم نہ ہو، وہ اکثر دوسروں کے رحم پر زندگی گزارتا ہے۔ حق انسان کو جھکنے سے بچاتا ہے، ظلم سہنے سے روکتا ہے، اپنی آواز پہچاننے کا حوصلہ دیتا ہے۔ لیکن حق کا شعور اگر ذمہ داری کے بغیر آ جائے تو وہ انسان کو سنوارتا نہیں، بگاڑتا ہے۔ پھر انسان حق کو انصاف کے لیے نہیں، اپنی ضد کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔اولاد کا حق ہے کہ اسے محفوظ بچپن ملے۔ اسے روٹی، کپڑا، علاج، تعلیم، محبت اور عزت ملے۔ اسے مار پیٹ، خوف، ذلت اور ناانصافی سے بچایا جائے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ بچہ دنیا میں اپنی مرضی سے نہیں آتا۔ اسے لانے والے ماں باپ ہوتے ہیں، اس لیے اس کی پرورش بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ انسان صرف حق لے کر بڑا نہیں ہوتا، وہ ذمہ داری سیکھ کر انسان بنتا ہے۔بچپن میں انسان لینے والا ہوتا ہے۔ وہ روٹی لیتا ہے، کپڑے لیتا ہے، وقت لیتا ہے، توجہ لیتا ہے، علاج لیتا ہے، حفاظت لیتا ہے۔ لیکن اگر عمر کے ساتھ اس کے اندر دینے کا احساس پیدا نہ ہو تو وہ جسم سے بڑا ہو جاتا ہے، کردار سے بچہ ہی رہتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنا حق سمجھتا ہے، مگر کسی چیز کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا۔ ایسا انسان گھر میں بھی مطالبہ کرتا ہے، باہر بھی مطالبہ کرتا ہے، رشتوں میں بھی مطالبہ کرتا ہے، مگر اپنے حصے کا بوجھ اٹھانے سے بھاگتا ہے۔حق اور بدتمیزی ایک چیز نہیں ہیں۔ اپنی بات کہنا حق ہے، مگر ہر وقت دوسرے کو نیچا دکھانا حق نہیں۔ والدین سے اختلاف کرنا حق ہے، مگر ان کی تذلیل کرنا حق نہیں۔ اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا حق ہے، مگر اپنے فیصلوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دینا حق نہیں۔ بہت سے لوگ حق کا نام لے کر صرف اپنی مرضی چاہتے ہیں۔ وہ آزادی چاہتے ہیں، مگر جواب دہی نہیں چاہتے۔ وہ عزت چاہتے ہیں، مگر کسی کو عزت دینا نہیں چاہتے۔ وہ اپنی تکلیف کا حساب رکھتے ہیں، مگر دوسروں کی قربانی کو صفر کر دیتے ہیں۔ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بعض گھروں میں اولاد کو یا تو مکمل دبایا جاتا ہے، یا پھر مکمل بے لگام چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دونوں راستے غلط ہیں۔ جس اولاد کو ہر وقت دبایا جائے، اس کے اندر خوف، جھوٹ یا بغاوت پیدا ہوتی ہے۔ اور جس اولاد کو کبھی ذمہ داری نہ سکھائی جائے، اس کے اندر خود غرضی پیدا ہوتی ہے۔ تربیت کا مطلب نہ اندھا حکم ماننا ہے، نہ اندھی آزادی۔ تربیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو بتایا جائے: تمہاری زندگی تمہاری ہے، مگر تم اکیلے نہیں ہو۔ تمہارے فیصلے دوسروں کو بھی چھوتے ہیں۔جب بچہ بڑا ہو کر یہ کہتا ہے کہ “یہ میرا حق ہے”، تو اسے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ “یہ میری ذمہ داری بھی ہے۔” اگر اسے اپنے کمرے کی آزادی چاہیے تو اسے اپنے کمرے کی صفائی بھی سمجھنی ہوگی۔ اگر اسے اپنی رائے چاہیے تو اسے دوسرے کی رائے سننے کا ظرف بھی چاہیے۔ اگر اسے والدین سے عزت چاہیے تو اسے والدین سے بات کرنے کا طریقہ بھی آنا چاہیے۔ اگر اسے گھر میں حصہ چاہیے تو اسے گھر کے دکھ درد میں بھی حصہ لینا چاہیے۔مسئلہ یہ نہیں کہ نئی نسل اپنے حق کو پہچانتی ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حق کا مطلب صرف “میں” رہ جائے۔ میرا آرام، میری مرضی، میرا پیسہ، میرا وقت، میری آزادی، میرا فیصلہ۔ جب ہر جملہ “میں” سے شروع ہو اور “میں” پر ختم ہو، تو گھر میں “ہم” مر جاتا ہے۔ اور جس گھر سے “ہم” نکل جائے، وہاں لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ذمہ داری انسان کو چھوٹا نہیں کرتی، بڑا کرتی ہے۔ جو شخص اپنے حصے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، وہ دوسروں پر کم بوجھ بنتا ہے۔ جو اپنے فیصلے کا نتیجہ خود قبول کرتا ہے، وہ مضبوط ہوتا ہے۔ جو اپنی غلطی مان سکتا ہے، وہ انسان بنتا ہے۔ لیکن جو ہر غلطی کا الزام والدین، معاشرے، حالات، غربت، زمانے یا دوسروں پر ڈال دے، وہ کبھی اپنے کردار کو نہیں دیکھتا۔ پھر وہ عمر بھر شکایت کرتا رہتا ہے مگر اپنے اندر تبدیلی نہیں لاتا۔اولاد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ والدین بھی انسان ہیں۔ وہ مشین نہیں، فرشتے نہیں، مکمل عقل والے نہیں، ہر وقت درست فیصلہ کرنے والے نہیں۔ وہ بھی تھکتے ہیں، غلط سمجھتے ہیں، ڈرتے ہیں، پریشان ہوتے ہیں، کمزور پڑتے ہیں۔ جس طرح اولاد چاہتی ہے کہ اس کی غلطی کو سمجھا جائے، اسی طرح اسے بھی کبھی والدین کی کمزوری کو سمجھنا چاہیے۔ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ ہر روک ٹوک ظلم نہیں ہوتی۔ ہر مشورہ قید نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی والدین کا انداز سخت ہوتا ہے، مگر اس کے پیچھے خوف ہوتا ہے، نفرت نہیں۔لیکن یہ بھی درست ہے کہ والدین کی غلطی کو مقدس نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر والدین ظلم کریں، ذلت دیں، ناانصافی کریں، تو اولاد کو اپنی حفاظت کا حق ہے۔ مگر اپنی حفاظت اور احسان فراموشی میں فرق ہے۔ ظلم سے دور ہونا ایک بات ہے، ہر ذمہ داری سے بھاگنا دوسری بات۔ اپنی عزت بچانا ایک بات ہے، رشتے کو صرف فائدے کے حساب سے دیکھنا دوسری بات۔اصل خرابی تب ہوتی ہے جب انسان اپنے حق کو ہتھیار بنا لیتا ہے۔ وہ ہر بات میں کہتا ہے: “یہ میرا حق ہے۔” مگر کبھی نہیں کہتا: “یہ میرا فرض ہے۔” وہ والدین سے حساب مانگتا ہے، مگر اپنے لہجے کا حساب نہیں دیتا۔ وہ گھر سے سہولت لیتا ہے، مگر گھر کو سکون نہیں دیتا۔ وہ وراثت کا حق جانتا ہے، مگر بیماری میں تیمارداری کا حق نہیں جانتا۔ وہ جائیداد میں حصہ چاہتا ہے، مگر ذمہ داری میں حصہ نہیں چاہتا۔ ایسا حق انصاف نہیں، لالچ بن جاتا ہے۔کسی بھی معاشرے میں حق اور ذمہ داری کو الگ کر دیا جائے تو انسان اندر سے بکھرنے لگتا ہے۔ حق اسے طاقت دیتا ہے، ذمہ داری اسے سمت دیتی ہے۔ طاقت ہو مگر سمت نہ ہو تو وہ نقصان کرتی ہے۔ رائے ہو مگر تہذیب نہ ہو تو وہ شور بن جاتی ہے۔ آزادی ہو مگر جواب دہی نہ ہو تو وہ خود غرضی بن جاتی ہے۔ علم ہو مگر کردار نہ ہو تو وہ چالاکی بن جاتا ہے۔ایک اچھا انسان وہ نہیں جو کبھی اختلاف نہ کرے۔ اچھا انسان وہ ہے جو اختلاف میں بھی انسانیت نہ چھوڑے۔ وہ اپنی بات کہے، مگر دوسرے کو مٹی نہ کرے۔ وہ اپنا حق مانگے، مگر اپنی ذمہ داری سے نہ بھاگے۔ وہ اپنی زندگی بنائے، مگر اپنی جڑوں کو گالی نہ دے۔ وہ آزاد ہو، مگر بے حس نہ ہو۔اولاد کو اپنے حق کا شعور ضرور ہونا چاہیے، لیکن اس شعور کے ساتھ یہ بات بھی دل میں رہنی چاہیے کہ انسان صرف لینے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ جو ہمیشہ لیتا رہے اور کبھی دینے کا وقت نہ پہچانے، وہ رشتہ نہیں نبھاتا، صرف استعمال کرتا ہے۔ زندگی کا اصل توازن یہ ہے کہ انسان بچپن میں سہارا لیتا ہے، جوانی میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا ہے، اور پختگی میں دوسروں کے لیے سہارا بنتا ہے۔اگر اولاد کو حق سکھایا جائے مگر ذمہ داری نہ سکھائی جائے تو وہ اپنے ہی گھر میں اجنبی بن جاتی ہے۔ اگر اسے آزادی دی جائے مگر احساس نہ دیا جائے تو وہ آزاد نہیں، خالی ہو جاتی ہے۔ اور اگر اسے بولنا سکھایا جائے مگر سننا نہ سکھایا جائے تو اس کی آواز بھی ایک دن دوسروں کے لیے زخم بن جاتی ہے۔حق ضروری ہے، مگر حق کے ساتھ شرم، احساس، تہذیب اور ذمہ داری بھی ضروری ہے۔ ورنہ انسان اپنے حق کے نام پر وہ سب کچھ کھو دیتا ہے جو اسے انسان بناتا ہے۔