میٹھا زہر
2026-08-02
تحریر ۔ شاہد شکیل
انسانی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ظاہری چمک دمک اور بناوٹ کبھی بھی اصلیت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ جس طرح محض لباس بدل لینے سے انسان کی سیرت، اخلاق اور باطنی شخصیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، بالکل اسی طرح روزمرہ کے استعمال اور کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ یا ان کی ساخت بدل دینے سے ان کی اصل افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ انسان اپنی پیدائشی جبلت اور تجسس کے باعث ہمیشہ نئی چیزوں کی تلاش میں رہتا ہے، لیکن جب یہی تجسس اور خواہش لالچ اور حرص میں بدل جائے تو انسان اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کا سامان پیدا کر لیتا ہے۔قدرت نے انسان کو پانی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے جو ہر قسم کے زہر کو دھونے اور زندگی کو برقرار رکھنے کا شفاف ترین ذریعہ ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ صنعتی دور کے بزنس مائنڈڈ اور کاروباری افراد نے انسانی جسم کی اس بنیادی ضرورت کو بھی پیسے کمانے کی مشین بنا لیا ہے۔ وہ پانی جن میں طرح طرح کے مصنوعی رنگ، ذائقے اور کیمیکلز ملا کر اسے خوبصورت اور دلکش بنا کر بیچا جاتا ہے، وہ بظاہر تو پیاس بجھانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں انسانی صحت کے لیے خاموش زہر ثابت ہو رہے ہیں۔ کاروباری طبقات عوام کی اسی کمزوری اور لاعلمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے جذبات و ضرورتوں سے کھیل کر اپنے جیب بھرتے ہیں۔اس سلسلے میں عالمی سطح پر ایک بڑی کارپوریشن اور سافٹ ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان کمپنیوں نے مصنوعات میں مصنوعی مٹھاس، کیمیکلز اور سکرین کی مقدار اس حد تک بڑھا دی ہے کہ یہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے مشروبات اور کھانوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چینی کا متبادل سمجھی جانے والی مصنوعی مٹھاس "سکریں" آج ہر جگہ سرایت کر چکی ہے۔حال ہی میں دنیا کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی اور بین الاقوامی طبی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس نے ایک نیاانکشاف کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرینِ صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان تحقیقات کے مطابق سکریں اور مصنوعی مٹھاس کا بے دریغ استعمال انسان کے لیے ایک سست رفتار زہر کی مانند ہے۔ یہ کیمیکلز انسان کے جگر، گردوں، اور نظامِ ہضم کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سکریں کا زیادہ استعمال جسم کے اندر کینسر، ذیابیطس اور انتڑیوں کی بیماریاں پھیلانے کا سب سے بڑا موجب بن رہا ہے۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ زوال پذیر اور تجارتی معاشروں میں کمپنیوں کی پیکنگ اور اشتہار بازی پر تو کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن ان کی پروڈکٹ کی اصل حقیقت اور ان کے اندر موجود مضرِ صحت اجزاء کے بارے میں صارفین کو اندھیرے میں رکھا جاتا ہے۔ خریدار صرف ظاہری خوبصورتی دیکھ کر چیزیں خرید لیتا ہے اور کچھ عرصے بعد مختلف مہلک بیماریوں کا شکار ہو کر ڈاکٹروں کے پاس چکر لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔عالمگیر پیمانے پر پھیلی اس منافع خوری اور ملاوٹ کے دور میں کاروباری اخلاقیات دم توڑ چکی ہیں۔ قائدین اور کاروباری رہنماؤں کا فرض تھا کہ وہ عوام کی صحت کا تحفظ یقینی بناتے، لیکن یہاں تو قومی خزانے اور عوام کی جیبوں کو لوٹنے کا ایک نیا طریقہ دریافت کر لیا گیا ہے۔ تاجروں اور کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ لائحہ عمل بدلیں، صرف پیسہ کمانا مقصد نہ بنائیں بلکہ انسانی زندگیوں کی قدر کریں۔صارفین سے بھی یہ التماس ہے کہ وہ بازار میں ملنے والی رنگ برنگی، سکریں سے بھری اور کیمیائی مصنوعات کی خرید و فروخت میں احتیاط برتیں۔ پیکنگ پر درج تفصیلات کو غور سے پڑھیں، سوڈا واٹر اور سوفٹ ڈرنکس کی بجائے سادہ پانی، لیموں پانی اور قدرتی پھولوں و سبزیوں کا استعمال بڑھائیں۔ صحت مند انسان ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اور ہمیں اپنے گھروں کو اس زہر سے بچانے کے لیے خود بیدار ہونا ہوگا۔