موسمیاتی تبدیلی

2026-07-30

تحریر ۔ شاہد شکیل

انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب جب انسان نے قدرت کے وضع کردہ قوانین اور فطری توازن سے کھلواڑ کیا ہے، نتائج انتہائی ہلاکت خیز برآمد ہوئے ہیں۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج اور خطرہ کرۂ ارض پر تیزی سے رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ یہ مسئلہ اب محض سائنس دانوں یا ماہرینِ ماحولیات کی تحقیق تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک عام انسان کے وجود، اس کی بقا ءاور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا معاملہ بن چکا ہے۔ عالمی سطح پر موسموں کی شدید برہمی، بے وقت کی بارشیں، طوفان اور درجہ حرارت کا بڑھنا اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ہماری زمین اب ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، اور اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو شاید سنبھلنے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔موسمیاتی تبدیلیوں کی بنیادی وجہ انسان کی حد سے بڑھی ہوئی ہوس، صنعتی پیش رفت اور قدرتی وسائل کا بے دریغ و بے رحمانہ استعمال ہے۔ دنیا بھر میں کارخانوں، بجلی گھروں اور گاڑیوں سے نکلنے والی زہریلی گیسوں، بالخصوص کاربن ڈائی آکسائیڈ نے کرۂ ارض کو ایک گرم خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس اور سائنسی تحقیقات سے یہ تلخ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اگر آنے والے چند سالوں میں مہلک گیسوں کی اخراج پر قابو نہ پایا گیا، تو عالمی درجہ حرارت میں وہ ناگزیر اضافہ ہوگا جو پوری انسانی آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ پہاڑوں اور قطبین پر صدیوں سے جمی برفانی چٹانیں اور گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے سمندروں کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ساحلی علاقوں کے غرق ہونے کے خطرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔اس ماحولیاتی بگاڑ کے منفی اثرات صرف موسم کے گرم ہونے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کی وجہ سے پورا جغرافیائی اور حیوانی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ سمندری طوفانوں میں شدت، سیلابوں کی تکرار، خشک سالی اور جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ جیسے حوادث اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ان ناگہانی آفات کے نتیجے میں نہ صرف انسان بلکہ بے شمار حیوانی اور نباتاتی انواع کا وجود کرۂ ارض سے ہمیشہ کے لیے مٹ رہا ہے۔ اگر زمینی درجہ حرارت میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو پینے کے صاف پانی کی شدید قِلّت پیدا ہو جائے گی، زرعی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور خوراک کا ایک بہت بڑا بحران جنم لے گا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں فاقہ کشی اور ہجرت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی اس ماحولیاتی تباہی کا سب سے بڑا خمیارہ غریب اور ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زہریلی گیسوں کے اخراج میں ان غریب ممالک کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ اقوام اس آلودگی کی اصل ذمہ دار ہیں۔ مگر جب قدرت کا قہر نازل ہوتا ہے تو سیلاب، زلزلے اور موسمیاتی آفتیں انہی معصوم اور بے بس انسانوں کی بستیوں کو اجاڑ دیتی ہیں۔ عالمی برادری، بالخصوص صاحبِ اقتدار اور بڑی طاقتوں کو اس غیر منصفانہ صورتِ حال کا ادراک کرنا ہوگا اور ان ممالک کی بحالی و تحفظ کے لیے مالی و تکنیکی معاونت فراہم کرنا ان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ہماری سب سے بڑی بھول یہ ہے کہ ہم مال و دولت اور عارضی آسائشوں کی دوڑ میں اس زمین کو بنجر بناتے جا رہے ہیں، یہ بھول کر کہ جب انسان اس دنیا سے رخصت ہوگا تو یہ دنیاوی مال و متاع ساتھ نہیں جائے گا۔ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو کیسا مستقبل دے کر جا رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں ایک ایسی زمین سونپیں گے جہاں سانس لینا دشوار ہوگا اور پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہوگا؟ درختوں کا بے دریغ کاٹنا، جنگلات کا خاتمہ اور شہروں کی اندھا دھند توسيع نے ماحول کو نالی کے گندے پانی سے بھی زیادہ آلودہ کر دیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قدرتی ماحول کا تحفظ کسی دوسرے پر احسان نہیں بلکہ ہماری اپنی بقا ءکی شرط ہے۔وقت بہت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے، لیکن امید کا دامن اب بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ اگر تمام دنیا کی حکومتیں اور عوام مشترکہ طور پر ایک مؤثر لائحہ عمل تیار کریں تو اب بھی تباہی کے اس راستے کو موڑا جا سکتا ہے۔ درخت لگانا، شجرکاری کو قومی مہم بنانا، کیمیائی و زہریلی گیسوں کے اخراج میں واضح کمی لانا، اور توانائی کے متبادل و پاکیزہ ذرائع (مثلاً شمسی اور بادی توانائی) کی طرف منتقل ہونا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ حکومتوں کے ساتھ ساتھ ایک عام شہری کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی اور توانائی کے استعمال میں احتیاط برتے اور ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر ہم نے آج اپنے طرزِ عمل کو نہ بدلا تو کل کا مؤرخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔